Tuesday , August 22 2017
Home / ہندوستان / گاؤکشی پر امتناع : مدراس ہائیکورٹ کے حکم التواء کی توثیق

گاؤکشی پر امتناع : مدراس ہائیکورٹ کے حکم التواء کی توثیق

حکومت مہاراشٹرا کو بیف قبضہ میں رکھنے پر ہائیکورٹ کے احکام نظرانداز کرنے پر نوٹس :سپریم کورٹ

نئی دہلی ۔ /11 اگست (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج مدراس ہائیکورٹ کے /23 مارچ کو مرکز کے اعلامیہ کی دفعات میں دخل اندازی سے انکار کردیا جس کے تحت ذبیحہ کیلئے بازاروں میں مویشیوں کی خرید و فروخت پر امتناع عائد کیا گیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے اپنے سابقہ حکم نامہ میں ترمیم کردی جس میں انسداد بے رحمی برائے مویشیاں قانون پر مدراس ہائیکورٹ کے حکم امتناع کو منسوخ کیا گیا تھا جس سے مویشیوں کی منڈی کے قواعد کے نفاذ میں سوائے قاعدہ نمبر 22 تبدیلی نہیں آئی ۔ مدراس ہائیکورٹ کی مدورائی بنچ نے قاعدہ نمبر 22 پر حکم التواء جاری کیا تھا جس سے سپریم کورٹ کی جانب سے مدراس ہائیکورٹ کے حکم التواء کی توثیق ہوگئی ۔ عدالت نے کہا کہ وہ مطمئین ہے کہ مویشیوں کی منڈی کے قواعد اور مویشیوں کو جائیداد قرار دینے کے قواعد 2017 ء میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ۔ چنانچہ حکم التواء منسوخ کرنے کی درخواست مسترد کی جاتی ہے ۔ دریں اثناء سپریم کورٹ نے حکومت مہاراشٹرا کی جانب سے بامبے ہائیکورٹ کے حکم نامہ کے خلاف ایک درخواست کے لب و لہجہ پر سخت برہمی ظاہر کی جس میں کہا گیا تھا کہ مویشیوں کا گوشت اپنے قبضے میں رکھنے سے جو ریاست کے باہر ذبح کئے گئے ہوں عملی اعتبار سے عدالت کے احکام کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔ ریاستی حکومت نے ہائیکورٹ کے گزشتہ سال 6 مئی کے فیصلے کو چیالنج کیا تھا جس میں مہاراشٹرا مویشیاں تحفظ قانون 1995 ء کی دفعات (5d) اور (9b) کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔ چنانچہ جن افراد کے قبضہ میں بیف پایا جائے چاہے اس مویشی کو ریاست میں ذبح کیا گیا ہو یا ریاست سے باہر مجرم قرار دیا جانا چاہئیے ۔ سپریم کورٹ نے حکومت مہاراشٹرا کے خلاف نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’’حق خلوت‘‘ کی خلاف ورزی ہے ۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ کی بنچ پر جو جسٹس آر کے اگروال اور جسٹس اے ایم سپرے پر مشتمل تھی سماعت کیلئے پیش کیا گیا تھا ۔ قانون کے تحت ریاست سے باہر کسی گائے کے ذبیحہ کے بعد اس کا گوشت قبضہ میں رکھنے یا استعمال کرنے پر امتناع عائد کیا گیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT