Saturday , July 22 2017
Home / مضامین / گاؤ رکشکوں کا تشدد ۔ یو پی کیلئے انتباہ

گاؤ رکشکوں کا تشدد ۔ یو پی کیلئے انتباہ

ڈبلیو چندرکانت
عام ہندوؤں کا اعتقاد ہے کہ گائے بہت قابل احترام ہے، جسے وہ کاٹتے نہیں اور جس کو وہ ’’گاؤ ماتا‘‘ کا درجہ دیتے ہیں۔ جب جب دائیں بازو کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو کسی ریاست یا پھر مرکز میں اقتدار حاصل ہوا ہے وہ ، بالخصوص اس پارٹی کی حکمرانی والی ریاستوں میں ذبیحہ گاؤ کے خلاف مہم زور پکڑتی ہے اور سماج میں نام نہاد ’’گاؤ رکشک‘‘ نمودار ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے مقصد کی تکمیل میں سماجی اُصولوں اور انصاف حقوق کی دھجیاں تک اُڑانے سے گریز نہیں کرتے۔ اور حکومت خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ اس پس منظر میں الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بنچ نے حال میں رولنگ دی کہ ریاستی حکومت کو غیرقانونی مسالخ کے خلاف قانون کی حد لگانے کے اختیارات ضرور حاصل ہیں مگر انھیں تمام تر اقدامات کے ذریعے یقینی بنانا چاہئے کہ قانون کی حکمرانی نافذ کرنے کے اپنے اشتیاق میں روزی اور معاش کے ذرائع کھونے نہ پائیں۔ عدالت نے نہایت سوجھ بوجھ سے کام لیتے ہوئے لوگوں کی غذائی اور ثقافتی عادتوں کے تئیں بے حس ہونے کے خلاف متنبہ بھی کردیا۔
جسٹس امریشور پرتاپ ساہی اور جسٹس سنجے ہرکاؤلی ایک ریٹیل میٹ شاپ مالک کی عرضی پر غور کررہے تھے، جو غیرقانونی مسالخ پر امتناع کے پس منظر میں اپنے لائسنس کی تجدید کیلئے رجوع ہوا تھا۔ عدالتی حکمنامہ کا ملک کی حکومتوں کو بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ اصل سطح پر قوانین پر عمل آوری کے بارے میں بنیادی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ عدالت نے یہ امتناع نافذ کرنے کیلئے مملکت کے اختیار پر بھلے ہی سوال نہیں اُٹھایا، لیکن یہ دریافت کیا کہ آیا حکومت نے اس پابندی کو لاگو کرنے سے قبل مناسب انتظامات کرتے ہوئے عوام کو اپنی پسند کے کھانے اور وہی کچھ فروخت کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ کوئی بھی قانون کاغذ پر سب ٹھیک ٹھاک معلوم ہوسکتا ہے، لیکن حقیقت ِحال دیکھیں تو یہ پُرتشدد حرکتوں کا موجب بن سکتا ہے۔ یہ امتناع دو ملین افراد کو متاثر کرسکتا ہے اور ساتھ ہی اس سے متعلقہ صنعتوں جیسے چمڑا، گوشت کی پیاکجنگ اور مویشیوں کی بقاء پر بھی اثر پڑسکتا ہے۔
عدالت سے رجوع ہونے والے عرضی گزار نے دلیل پیش کی کہ وہ بکری کا گوشت فروخت کرکے اپنی روزی کماتا ہے اور اس طرح اکثریتی عوام کی غذائی پسند کی تکمیل بھی ہورہی ہے۔ اس کے پاس پہلے سے ہی لائسنس بھی ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حالیہ حکومتی احکام کے تناظر میں نگر پالیکا پریشد کچھ اقدام نہیں کررہا ہے کیونکہ غیرقانونی مسالخ کو بند کردینے کی مہم ساری ریاست میں چلائی جارہی ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ حکومت کی کارروائی کے نتیجے میں خردہ فروشوں پر راست اثر پڑا ہے جو ذبیحہ کی سہولتوں کی عدم دستیابی اور ان کو یکایک بند کردیئے جانے کے سبب اپنا ذریعہ معاش ختم ہوجانے کی مصیبت کا سامنا کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ چنانچہ مسلخ قائم کرنے، اسے چلانے کے ساتھ ساتھ گوشت کی تجارت پر اس کے اثر کا سوال ایسی شدت اختیار کرگیا کہ عرضی گزار جیسے خردہ فروشوں کو ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا کہ بکری کے گوشت کی خردہ فروشی کیلئے ان کے موجودہ لائسنسوں کی تجدید کرا دی جائے۔
اس معاملے میں قوانین پر غوروخوض کرتے ہوئے فاضل ججوں نے جانوروں کے ذبیحہ کیلئے اس طرح کی سہولیات کی عدم دستیابی کا مسئلہ بھی ملحوظ رکھا۔ عدالت کو تشویش ہے کہ مجالس مقامی یا ضلع پنچایتوں کی طرف سے کوئی سہولتوں کی فراہمی کے فقدان میں اس طرح کا کاروبار یا پیشہ بادی النظر میں مکمل پابندی کا سامنا کرسکتا ہے اور اس تجارت اور پیشہ سے وابستہ افراد کا معاش متاثر ہوسکتا ہے ، جس سے دستور ِ ہند کے آرٹیکل 19 کے تحت ضمانت دیئے گئے ان کے بنیادی حقوق پر ضرب لگے گی۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ اس معاملے پر صحیح فکر سے غور کرتے ہوئے اس سے جُڑے مسائل کی یکسوئی کرے۔ یہ مسائل ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور راست طور پر نہ صرف اس سے وابستہ افراد کے کاروبار و پیشہ پر ضرب لگاتے ہیں بلکہ صارفین اور اکثریتی عوام کو بھی راست متاثر کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ مسائل سے بھی نمٹنا ہے کہ تجارت، پیشہ، حفظانِ صحت نیز غذا استعمال کرنے کے حقوق کی خلاف ورزی نہ ہونے پائے اور متعلقہ سہولیات دستیاب کرانے کا فرض مملکت ادا کرے۔
کوئی بھی کھلی یا پوشیدہ کارروائی کرنے سے قبل کئی مسائل اور پہلوؤں پر غوروخوض کی ضرورت رہتی ہے جیسے صحت، ثقافت، شخصی غذائی عادتیں، سوسائٹی کا سماجی و معاشی موقف، کھانے کی اشیاء کی واجبی قیمتوں پر دستیابی، سہولت ِ دستیابی، زندگی کیلئے لازمی غذائی اشیاء کے اجزائے ترکیبی، معیار اور طاقت اور ان سب کے مسابقتی حقوق میں توازن کی برقراری۔ دستور کے سکیولر پہلو کے تحت یہ تمام حقوق کی پاسداری ضروری ہے۔ اس معاملے میں متاثر ہونے والوں کیلئے کچھ بھی یکایک نہیں کیا جانا چاہئے اور کوئی بھی کارروائی قانونی طور پر غیردستوری نہ ہو۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ اترپردیش میں غذائی عادتیں پھلتی پھولتی رہی ہیں اور زندگی کا لازمی حصہ ہے جسے ایسے سکیولر کلچر کا عنصر کہہ سکتے ہیں جو برقرار رہنے والا ہے اور سماج کے تمام طبقات میں مشترک ہے۔
عدالت نے متنبہ کیا کہ قانون کی تعمیل کا نتیجہ محرومی نہیں ہونا چاہئے، ایسی صورت میں اصل کاز کو مملکت کی بے عملی باور کیا جاسکتا ہے۔ یہ تمام اشاروں کا تذکرہ کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے اس کی وجوہات بتائیں: ’’ہم نے یہ تمام اشارے قلمبند کرائے ہیں تاکہ مملکت اپنے فیصلے کرتے ہوئے ممکنہ نتائج و عواقب اور اس سے عوام پر اثر کی وسعت و شدت سے نظر نہ ہٹائے۔ ہم خصوصیت سے یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ ابھی تک دیہی علاقوں میں دیہات، قصبات اور بازاروں میں بکری کے گوشت کے خردہ فروشوں کی دکانات موجودہ طور پر ضلع پنچایت کے وضع کردہ ذیلی قوانین کے تحت چلائے جارہے ہیں۔ اس ضمن میں یو پی کشیتر پنچایت و ضلع پنچایت اَدھینیم 1961ء کے دفعہ 197 کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس میں واضح طور پر صراحت ہے کہ ذبیحہ کیلئے اندرون 2 میل جگہ فراہم کرتے ہوئے اسے مخصوص کیا جائے۔‘‘
دیہی علاقوں اور وہاں کے مقامی دو ہفتے واری یا ہر روز کے بازاروں میں کاروبار اور مقامی ضرورتوں کی تکمیل کا شہری علاقوں کے مقابل مختلف طریقہ کار ہے۔ اسی لئے، مملکت کو مقامی مسائل کے اس پہلو کا جائزہ لینا پڑے گا، جن میں دور دراز کے علاقے شامل ہیں جہاں بنیادی سہولیات کی دستیابی تک ہنوز سراب ہے۔ دیہی علاقوں میں مقامی بیوپاریوں کی خردہ فروشی میں وہ افراد شامل ہیں جو خود بکریوں کے ریوڑ ، فیشری، پولٹری وغیرہ کے مالک ہوتے ہیں، اور اپنے پاس فراہم غذائی اشیاء کا خود بیوپار کرتے ہیں۔ اس طرح کی سرگرمیوں کو مقامی قوانین اور دیگر متعلقہ قاعدوں کے تحت بڑھاوا ملتا ہے اور وہ ان کو اجازت حاصل ہے۔ لہٰذا، اس ضمن میں جو سہولیات لازمی طور پر فراہم کرنا ہے، اگر وہ دیہی علاقوں میں بالکلیہ ناپید ہوں تو ریاستی حکومت کو ایسے بیوپار اور اس طرح کے خردہ فروشوں کے کاروبار کو برقرار رکھنے پر غور کرنا ہوگا، کیونکہ وہ اپنی روزی کماتے ہیں اور روزانہ کی اساس پر اپنی سرگرمی سے مقامی آبادی کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں۔
اس سارے معاملے کا ایک اور خطرناک پہلو بھی ہے۔ حکومت نے بھلے ہی اس طرح کا حکمنامہ جاری کرتے ہوئے عوام کے بہترین مفادات اور قانون کو ملحوظ رکھا ہو۔ لیکن کیا وہ عام آدمی کی سلامتی و حفاظت کی ضمانت دے گی۔ پہلے ہی ایک مسلم شخص کو راجستھان کے الوار میں قانون اپنے ہاتھ میں لینے والے عناصر ’’گاؤ رکشکوں‘‘ کے گروپ نے مار مار کے ہلاک کرڈالا ہے۔ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ زیادہ تر گاؤ رکشک جو مختلف ناموں کے ساتھ سرگرم ہیں، یہ کام محض رقم اینٹھنے کیلئے کرتے ہیں۔ ہائی وے پر گھات لگانے والے یہ لوگ بدنام زمانہ عناصر ہیں جو مویشیوں کو باضابطگی سے یا انجانے میں ڈیری وغیرہ کے مقصد سے منتقل کرنے والوں کا راستہ روک رقم کا مطالبہ کرتے ہیں۔ راجستھان کے پولیس ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2015ء میں وہاں ذبیحہ پر پابندی سے متعلق قانون کے تحت 73 کیس بند کردینا پڑا کیونکہ وہ سب جعلی ہونے کا پتہ چلا تھا اور پھر اگلے سال مزید 85 معاملے بند کردیئے گئے۔ بہرحال جو گایوں کو گاؤ رکشک ضبط کرلیتے ہیں، ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے؟ تصدیق کیلئے خود اُن کے گھروں کے عقبی حصوں کا جائزہ لیجئے۔ یا حکومتی سرپرستی سے قائم گاؤ شالائیں دیکھ لیں!
دیہی علاقوں میں زیادہ تر کسان ناخواندہ ہیں اور باور کرلیتے ہیں کہ مقامی حکام کی جاری کردہ رسید مویشیوں کی منتقلی کیلئے کافی ہوتی ہے جیسا کہ الوار میں پھیلو خان نے سمجھ لیا تھا۔ وہ رسید پولیس کے کام آگئی جس نے دعویٰ کردیا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر مویشیوں کو غیرقانونی طور پر منتقل کررہا تھا کیونکہ جئے پور میونسپل حکام کا جاری کردہ پرمٹ ریاست کے بیرون ٹرانسپورٹ کیلئے کارکرد نہیں ہے۔ اس لئے مقدمات مہلوک اور اس کے ہمراہ موجود رہنے والوں کے خلاف درج کرلئے گئے لیکن مجرمین کے خلاف نہیں۔ وہ فرار ہوگئے اور متعلقہ پولیس نے جنھیں گرفتار شدہ کے طور پر ظاہر کیا، اُن میں سے تین کا پھیلو خان کے بیان میں کچھ ذکر نہیں۔ یو پی میں امتناع ایسی صورتحال کے اعادہ کا موجب بن سکتا ہے بجز یہ کہ حکومت اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT