Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / گاؤ رکھشا کا بھانڈہ پھوٹ گیا … راجستھان کے سرکاری گاؤشالہ میں روزانہ درجنوں گایوں کی موت

گاؤ رکھشا کا بھانڈہ پھوٹ گیا … راجستھان کے سرکاری گاؤشالہ میں روزانہ درجنوں گایوں کی موت

حیدرآباد ۔ 6 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : ملک میں گائے کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں کو نشانہ بنانے کے پرتشدد واقعات عام ہوتے جارہے ہیں  ۔ اب تو دلتوں پر گجرات میں حملہ کے بعد یہ رجحان سارے ملک میں پھیل رہا ہے ۔ اس ماحول میں ایک قومی ٹی وی چیانل نے گاؤ رکھشا کرنے والوں کی نیند اڑادی ۔ جس ریاست میں گائے کے تحفظ کے لیے ایک علحدہ مشینری کام کرتی ہے اسی ریاست میں روزانہ درجنوں گائے بے موت مر رہی ہیں وہ بھی کسی کے تشدد یا پھر سیاست کا نشانہ کے سبب نہیں بلکہ ایک سرکاری گاؤ شالہ میں ایسے حالات پیش آرہے ہیں ۔ ہم بات کررہے ہیں ریاست راجستھان کے سرکاری ہنکونا گاؤ شالہ کی، جو ریاست کا سب سے بڑا گاؤ شالہ ہے جسے نگرنگم جئے پور بی جے پی چلاتا ہے۔ اس گاؤ شالہ میں 8 ہزار گائیں ہیں اور ان کی دیکھ بھال کے لیے 200 افراد کا عملہ مقرر ہے ۔ باوجود اس کے تعجب خیز بات یہ ہے کہ روزانہ 20 تا 25 گائیں ہلاک ہورہی ہیں ۔ بھوک اور پیاس کے سبب گاؤ بدحال ہے اور وہ بے موت مر رہی ہیں ۔ اور یہ بڑا گاؤ شالہ دیکھتے دیکھتے شمشان میں تبدیل ہوتا جارہا ہے ۔

 

بتایا جاتا ہے کہ 18 سو کروڑ روپئے کا بجٹ گاؤ پالن کے لیے مختص کیا گیا ۔ اور اس کے لیے علحدہ ڈائرکٹوریٹ بھی تشکیل دیا گیا ۔ نیز راجستھان وزیر گاؤرکھشا والی واحد ریاست ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ صرف گائے کی منتقلی کی بات پر گاؤ رکھشک جمع ہوجاتے ہیں اور مسلمانوں اور دلتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ سرے عام ان کی رسوائی کرتے ہوئے انہیں پر تشدد کارروائی کا شکار بنایا جاتا ہے شاید اسی لیے ایک دانشور کا کہنا ہے کہ گاؤ رکھشا کا نعرہ ملک میں سیاست دانوں کے لیے ایک ہتھیار بنتا جارہا ہے ۔ لیکن حقیقت میں راجستھان گاؤ شالہ کی حالت کو دیکھنے کے بعد یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ گائے کے ساتھ حقیقت میں انصاف نہیں کیا جارہا ہے بلکہ گائے کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں کے ساتھ ناانصافی کی جاری ہے ۔ ایک دانشور کا کہنا ہے کہ ملک میں گائے نام پر مسلمانوں پر حملے ہوئے ، انہیں تشددکا نشانہ بنایا گیا ۔ اور اب دلتوں پر حملہ کیا گیا ۔ انہیں سرے عام رسواء کرتے ہوئے زد و کوب بھی کیا گیا ۔ تاہم دلتوں پر حملہ کے بعد پورے ملک کو اس واقعہ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے چونکہ دلت مسلمانوں سے زیادہ منظم ہیں اور اترپردیش میں ان کی مضبوط سیاسی طاقت بھی ہے اور دلتوں کی آواز سمجھی جانے والی مایاوتی اس تحریک کی سرپرست ہیں ۔ اس لحاظ سے دلتوں کی رسوائی کا واقعہ ملک کو اپنے گھیرے میں لے سکتا ہے ۔ اب اترپردیش میں سیاسی میدان بھی جنگ کے لیے تیار ہورہا ہے ۔ ایسی صورت میں سمجھا جارہا ہے گائے کے مسئلہ کو ٹھنڈا ہونے نہیں دیا جائے گا اور اس بات سے برسر اقتدار مرکزی این ڈی اے کی جماعتیں بالخصوص بی جے پی کافی بے چین ہیں ۔ تلنگانہ کے ایک معروف ادیب کے مطابق مسلمانوں اور دلتوں پر جب ایک ہی مسئلہ پر ایک ہی شکل میں پرتشدد واقعات پیش آتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ اس محاذ پر حالات کا متحدہ مقابلہ کریں  جو ملک کی جمہوری ساکھ کو برقرار رکھنے اور فسطائی طاقتوں کی ناکامی کا سبب بنے گا ۔

سرے عام اُن کی رسوائی کرتے ہوئے انہیں پر تشدد کارروائی کا شکار بنایا جاتا ہے شاید اسی لیے ایک دانشور کا کہنا ہے کہ گاؤ رکھشا کا نعرہ ملک میں سیاست دانوں کے لیے ایک ہتھیار بنتا جارہا ہے ۔ لیکن حقیقت میں راجستھان گاؤ شالہ کی حالت کو دیکھنے کے بعد یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ گائے کے ساتھ حقیقت میں انصاف نہیں کیا جارہا ہے بلکہ گائے کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں کے ساتھ ناانصافی کی جاری ہے ۔ ایک دانشور کا کہنا ہے کہ ملک میں گائے نام پر مسلمانوں پر حملے ہوئے ، انہیں تشددکا نشانہ بنایا گیا ۔ اور اب دلتوں پر حملہ کیا گیا ۔ انہیں سرے عام رسواء کرتے ہوئے زد و کوب بھی کیا گیا ۔ تاہم دلتوں پر حملہ کے بعد پورے ملک کو اس واقعہ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے چونکہ دلت مسلمانوں سے زیادہ منظم ہیں اور اترپردیش میں ان کی مضبوط سیاسی طاقت بھی ہے اور دلتوں کی آواز سمجھی جانے والی مایاوتی اس تحریک کی سرپرست ہیں ۔ اس لحاظ سے دلتوں کی رسوائی کا واقعہ ملک کو اپنے گھیرے میں لے سکتا ہے ۔ اب اترپردیش میں سیاسی میدان بھی جنگ کے لیے تیار ہورہا ہے ۔ ایسی صورت میں سمجھا جارہا ہے گائے کے مسئلہ کو ٹھنڈا ہونے نہیں دیا جائے گا اور اس بات سے برسر اقتدار مرکزی این ڈی اے کی جماعتیں بالخصوص بی جے پی کافی بے چین ہیں ۔ تلنگانہ کے ایک معروف ادیب کے مطابق مسلمانوں اور دلتوں پر جب ایک ہی مسئلہ پر ایک ہی شکل میں پرتشدد واقعات پیش آتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ اس محاذ پر حالات کا متحدہ مقابلہ کریں  جو ملک کی جمہوری ساکھ کو برقرار رکھنے اور فسطائی طاقتوں کی ناکامی کا سبب بنے گا ۔

TOPPOPULARRECENT