Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / گاؤ رکھشا کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیخلاف شدید احتجاج

گاؤ رکھشا کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیخلاف شدید احتجاج

محمد مشتاق ملک کے بشمول کئی افراد گرفتار، حج ہاؤز میں مختار عباس نقوی کے پروگرام کا تین گھنٹے تاخیر سے آغاز اور آدھے گھنٹے میں اختتام
حیدرآباد۔/8 جولائی، ( سیاست نیوز) ملک میں گاؤ رکھشا کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے خلاف آج مسلم تنظیموں کی جانب سے مرکزی وزیر اقلیتی اُمور مختار عباس نقوی کے دورہ کے موقع پر احتجاج منظم کیا گیا۔ حج ہاوز میں مختار عباس نقوی عازمین حج کے ٹیکہ اندازی کیمپ کا افتتاح کرنے والے تھے اس سے قبل تحریک مسلم شبان، درسگاہ جہاد و شہادت اور بعض دیگر تنظیموں کے کارکنوں نے علحدہ علحدہ احتجاج کیا اور مرکزی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ احتجاج کی پیشگی اطلاع پر حج ہاوز کے اندرونی اور بیرونی علاقے میں سخت ترین حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ حد تو یہ ہوگئی کہ حج ہاوز کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نماز ظہر کے اختتام کے ساتھ ہی مسجد کو مقفل کردیا گیا اور تاخیر سے آنے والوں کو نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ صبح سے ہی پولیس کو امکانی احتجاج کے بارے میں اطلاع مل چکی تھی اور پولیس نے وقف بورڈ کے عہدیداروں کو مسجد مقفل کرنے کی ہدایت دی۔ نماز ظہر میں تحریک مسلم شبان کے صدر محمد مشتاق ملک اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شریک رہے اور نماز کے فوری بعد پولیس نے انہیں مسجد سے ہی حراست میں لے لیا اور گاندھی نگر پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ احتجاجیوں کی مسجد میں موجودگی کے بارے میں پولیس نے مسجد کے امام سے تفصیلات حاصل کی۔ مسجد کو مقفل کرنے کے بعد تمام افراد کو حج ہاوز کے باہر کردیا گیا لیکن احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ وقفہ وقفہ سے مختلف گروپوں کی شکل میں نوجوان حج ہاوز پہنچ کر احتجاج کررہے تھے۔ مسلمانوں کی ہلاکتوں پر مختار عباس نقوی کی خاموشی پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے احتجاجی ’’ شرم ۔ شرم ‘‘ کے نعرے لگارہے تھے۔ پولیس جو بھاری تعداد میں حج ہاوز کے باہر متعین تھی اس نے احتجاجیوں کو حراست میں لے لیا۔ احتجاج کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے جاری رہنے کے باعث مختار عباس نقوی کی آمد میں تاخیر کی گئی۔ ایک مرحلہ پر ان کی آمد کے بارے میں شبہات کا اظہار کیا جارہا تھا لیکن حج کمیٹی کے عہدیداروں کے تیقن اور اقلیتی بہبود کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے پر پولیس نے مختار عباس نقوی کو حج ہاوز آنے کا مشورہ دیا۔ احتجاجیوں کو شہر کے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں منتقل کیا جارہا تھا۔ پولیس نے میڈیا کو احتجاج کی تصاویر اور ویڈیو لینے میں رکاوٹ پیدا کی اور حج ہاوز میں داخلے پر عام آدمی کیلئے پابندی عائد کردی گئی۔ مجلس کے رکن اسمبلی نامپلی کے ساتھ جب کارکنوں کی کثیر تعداد حج ہاوز میں داخل ہونے کی کوشش کررہی تھی تو پولیس نے انہیں روک دیا جس پر مجلسی قائدین نے سخت احتجاج کیا اور پولیس سے اُلجھ گئے جس کے بعد کارکنوں کو داخلے کی اجازت دی گئی۔ اس طرح احتجاج کے سائے میں مختار عباس نقوی کا پروگرام حج ہاوز میں تقریباً تین گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا اور نصف گھنٹے میں اختتام کو پہنچ گیا۔ مختار نقوی جو تقریب کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے تھے وہ سیدھے وہاں سے نکل پڑے۔پولیس نے سخت گھیرے میں انہیں حج ہاوز منتقل کیا اور واپسی کے بعد بھی انتظامات برقرار رہے۔ مقامی بی جے پی قائدین کو طلب کرلیا گیا تھا تاکہ کسی گڑبڑ کی صورت میں مزاحمت کرسکیں۔ خیریت آباد اسمبلی حلقہ سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کارکنوں کی کثیر تعداد حج ہاوز میں دیکھی گئی۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے اقلیتی قائدین بھی احتجاجیوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ پروگرام کے آغاز سے اختتام تک اقلیتی بہبود کے عہدیداروں میں تجسس اور اُلجھن برقرار تھی اور مختار عباس نقوی کی واپسی کے بعد انہوں نے چین کی سانس لی۔

TOPPOPULARRECENT