Saturday , August 19 2017
Home / مضامین / گاؤ رکھشکوں کی غنڈہ گردی ‘ معیشت پر منفی اثر اعداد و شمار کی روشنی میں

گاؤ رکھشکوں کی غنڈہ گردی ‘ معیشت پر منفی اثر اعداد و شمار کی روشنی میں

خلیل قادری
بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے اقتدار میں ملک کی معیشت میں بہتری کے بلند بانگ دعوے تو کئے جا رہے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے ۔ جس وقت سے مرکز میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت بنی ہے اس وقت سے ایسا لگتا ہے کہ گاؤ رکھشا کے نام پر غنڈہ گردی کرنے والوں کے اچھے دن شروع ہوگئے ہیں۔ حالانکہ یہ گاؤ رکھشک مٹھی بھر ہیں لیکن ان کی وجہ سے ملک کی معیشت پر جو منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں وہ دھماکو کہے جاسکتے ہیں۔ ان خود ساختہ گاؤ رکھشکوں کی وجہ سے ہزاروں خاندان ملک بھر میں متاثر ہیں۔ لاکھوں افراد اپنے روزگار سے محروم ہوتے جا رہے ہیں ‘ صنعتیں بند ہونے کے قریب پہونچ رہی ہیں ‘ کارخانوںمیں کام ٹھپ ہوتا جا رہا ہے ‘ فیکٹریاں صفحہ ہستی سے غائب ہو رہی ہیں لیکن اگر کسی کو فائدہ ہو رہا ہے تو وہ مٹھی بھر گاؤ رکھشک ہیں جو اپنے کالے دھندوں کو قانون کی نظر سے چھپانے کیلئے گاؤ رکھشا کے نعرے لگا رہے ہیں۔ اب تو خود وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ کہہ دیا ہے کہ گاؤ رکھشا کے نام پر کالے دھندے کئے جا رہے ہیں اور غیر سماجی عناصر گاؤ رکھشا کے نام پر غنڈہ گردی پر اتر آئے ہیں ۔ لوگوں نے اپنی منفعت کیلئے گاؤ رکھشا کے نام پر دوکانیں کھول لی ہیں۔ یہ جو صورتحال وہ انتہائی منفی حالات کی عکاسی کرتی ہے ۔ اس میں ہم اعداد و شمار کی روشنی میں یہ واضح کرنے کی کوشش کرینگے کہ اس کی وجہ سے ملک کی معیشت کو کس قدر نقصان پہونچ رہا ہے ۔ کتنے لاکھ افراد روزگار سے محروم ہو رہے ہیں ۔ کتنے ہزاروں کروڑ کی صنعتیں بندہونے کے قریب پہونچ گئی ہیں۔

یہ بات تقریبا طئے ہے کہ گاؤ رکھشا کے نام پر کالے دھندے چلائے جا رہے ہیں۔ جو غیر سماجی عناصر اس کام کا حصہ بن گئے ہیں پولیس بھی ان کا راست یا بالواسطہ طور پر ساتھ دے رہی ہے ۔ حقائق کو جاننے اور قانون کے مطابق کام کرنے کی بجائے پولیس اور دوسرے حکام بھی قانون کو توڑ مروڑ کر ان غیر سماجی عناصر کی حوصلہ افزائی کے ہی ذمہ دار بنتے جا رہے ہیں۔ گاؤ رکھشکوں کی سرگرمیاں در اصل معاشی دہشت گردی کے زمرہ میں بھی شمار کی جاسکتی ہیں۔ ان تنظیموں کی سرگرمیوں کے نتیجہ میں صرف ایک طبقہ متاثر نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ سے مختلف شعبہ جات پر منفی اثر پڑ رہا ہے ۔ بڑے جانور کے ذبیحہ سے کئی صنعتوں کا کاروبار چلتا ہے ۔ بڑے جانور کے ذبیحہ سے چمڑے کی صنعت سب سے زیادہ متاثر ہے ۔ بڑے جانور کے ذبیحہ سے جو اجزا نکلتی ہیں وہ کئی اشیا میں استعمال ہوتی ہیں۔ اس سے جہاں چمڑے کی صنعت چلتی ہے وہیں اس کے اجزا کو کینڈی میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ چیونگ گم میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس سے ادویات کی تیاری میں مدد ملتی ہے ۔ اس کے اجزا سے ڈیٹرجنٹ پاؤڈر تیار ہوتا ہے ‘ اس کے کچھ اجزا کو پرفیومس کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ گائے یا بڑے جانور سے دودھ سارے ہندوستان میں استعمال کیا جاتا ہے اور یہ صنعت لاکھوں کروڑ روپئے کی ہے ۔ گائے یا بڑے جانور سے نکلنے والی اشیا سے پلاسٹک تیار ہوتے ہیں اور کچھ اجزا کو کاسمیٹکس کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔کچھ اجزا کو ٹینس ریاکٹ کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس کا گوشت بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے اور ساری دنیا میں ہندوستان بڑے جانور کا گوشت ایکسپورٹ کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے ۔ اس کے اجزا سے فوٹو فلم تیار ہوتی ہے ‘ برش بنائے جاتے ہیں ‘ کھادوں کی تیاری میں اس سے مدد لی جاتی ہے ‘ چار کول بنتا ہے اور ائر فلٹر کے علاوہ شیمپو کی تیاری میں بھی اس کے اجزا استعمال ہوتے ہیں۔ روز مرہ کے استعمال میں آنے والی ایسی بے شمار اشیا ہیں جن کی تیاری میں بڑے جانور کے ذبیحہ سے ملنے والے اجزا استعمال کئے جاتے ہیں۔ اب گاؤ رکھشکوں کی وجہ سے یہ سارے کاروبار مشکل حالات کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔

بڑے جانور کے ذبیحہ میں جملہ 40 فیصد اس کا گوشت ہوتا ہے اور 60 فیصد دوسرے اجزا ہوتے ہیں۔ جہاں دودھ دیا جاتا ہے وہیں کئی ذیلی اشیا ایسی ہیں جو اس کی وجہ سے بنتی ہیں۔ کئی صنعتیں ہیں جو اس سے مربوط ہیں۔ یہ صنعت چمڑے یا Leather کی صنعت ہے ۔ گھریلو اور صنعتی استعمال کیلئے اسے استعمال کیا جاتا ہے ۔ کاسمٹکس ‘ برشس اور کوٹنگ وغیرہ کی تیاری میں مویشیوں کے اجزا شامل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسان اور ڈائری مالکین اور اس سے جڑے ہوئے سینکڑوں ملازمین کا اس پر انحصار ہے ۔ تاجر برادری ‘ قریش برادری ‘ ہول سیل گوشت ڈیلرس ‘ ریٹیلرس اس سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے اجزا سے گلیسرین تیار کی جاتی ہے ۔ جس وقت سے گاؤ رکھشکوں کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں اس وقت سے ساری صنعتوں پر منفی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ 2014 کے بعد سے چمڑے کی صنعتوں کو سربراہی میں کمی آئی ہے ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ گاؤ رکھشا دل سرگرم ہیں۔ پولیس حکام زیادہ سے زیادہ رشوتیں طلب کر رہے ہیں۔ صرف نومبر ۔ ڈسمبر میں خام چمڑے کی سربراہی 15 فیصد تک کم ہوگئی ہے ۔ کانپور شہر میں چمڑے کی صنعت متاثر ہوئی ہے ۔ 2014 کے بعد سے اب تک ایک تہائی کارخانہ بند ہوگئے ہیں۔ نفع بخش یونٹوں کے مالکین گاؤ رکھشا دلوں سے مخالفت مول لینا نہیں چاہتے ۔ ایسے میں انہوں نے چمڑے کی کھپت کو کم سے کم کردیا ہے ۔ اس کے علاوہ سخت گیر ماحولیاتی قوانین سے بھی ان کارخانوں کو بند کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے ۔ حکومت کے اعداد و شمار کے بموجب چمڑے کی صنعت ہندوستان میں سالانہ 14 بلین ڈالرس کی صنعت ہے ۔ اس صنعت میں 3.35 لاکھ افراد روزگار حاصل کرتے ہیں تاہم 2014 کے بعد سے 50 ہزار افراد ملازمتوں سے محروم ہوگئے ہیں۔ گاؤ رکھشکوں کی غنڈہ گردی کی وجہ سے جانوروں کی منتقلی کا کاروبار بھی متاثر ہو کر رہ گیا ہے ۔ جو نقل و حرکت ہو رہی ہے وہ بھی انتہائی مہینگی ہوگئی ہے ۔ جو ٹرانسپورٹرس بڑے جانوروں سے لدے ٹرکس چلاتے تھے وہ پہلے 5 تا 10 ہزار روپئے کرایہ طلب کرتے تھے اب یہ کرایہ بڑھ کر 20,000 تا 30,000 ہوگیا ہے۔ منتقلی میں رکاوٹ کی وجہ سے ڈیری کاروبار پر بھی اثر ہوا ہے ۔ ہر سال ریاست پنجاب سے تقریبا تین لاکھ گائیں گجرات ‘ آندھرا پردیش اور اتر پردیش کو منتقل کی جاتی ہے ۔ پنجاب کی زیادہ دودھ دینے والی گائیوں کی قیمت 90,000 تا 1.4 لاکھ روپئے کے درمیان ہوتی ہیں لیکن گاؤ رکھشا دلوں کی جانب سے نقل و حرکت کو روکنے کی وجہ سے ڈیری کسانوں کو اب تک 3,000 کروڑ روپئے کا نقصان ہوگیا ہے ۔ جو کاروباری یا تاجر پنجاب و ہریانہ میں گاؤ رکھشا دل کے غیر سماجی عناصر کو رشوتیں دینے سے انکار کرتے ہیں انہیں اپنی دوکانیں بند کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔ اس سے بھی بے شمار لوگ اپنے روزؑار سے محروم ہو رہے ہیں۔

گاؤ رکھشا دلوں اور گائے کے تحفظ کے قوانین سے متاثر ہونے کے بعد تقریبا 50 فیصد ہندوستانی کسانوں نے اپنے مویشی فروخت کردئے ہیں۔ پنجاب ‘ ہریانہ ‘ گجرات ‘ اتر پردیش ‘ مہاراشٹرا اور دوسری ریاستوں میں سڑکوں پر ہراسانی اور حملوں کا نشانہ بننے کے بعد لوگ مویشیوں کی تجارت سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض صورتوں میں مویشیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تو کہیں اس کی وجہ سے کمی آئی ہے ۔ ہریانہ میں جو بھینس 2015 میں 30 تا 50 ہزار روپئے میں فروخت ہوتی تھی اب اس کی قیمت 40 تا 80 ہزار تک پہونچ گئی ہے ۔ گائے کے تحفظ کے نام پر گاؤ رکھشا دل کے ارکان بھینسوں کے تاجروں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان حرکتوں کی وجہ سے لیدر ‘ چمڑے کو صاف کرنے والی صنعتیں ‘ صابن سازی اور دوسری صنعتوں میں حالات دگرگوں ہوگئے ہیں اور ان کی تجارت متاثر ہوگئی ہے ۔ گاؤ رکھشا دلوں کی وجہ سے واجبی قیمتوں پر بطور غذا استعمال کیلئے گوشت کی سپلائی کم ہوگئی ہے ۔ بکرے کا گوشت کہیں اگر 400 روپئے یا اس سے زیادہ قیمت پر فی کیلو دستیاب ہے تو گائے / بھینس کا گوشت 200 روپئے فی کیلو کے آس پاس پہونچ گیا ہے ۔ مویشی منتقل کرنے کیلئے ٹرکس کا کرایہ 5 تا 10 ہزار روپئے فی ٹرپ سے 20 تا 30 ہزار روپئے فی ٹرپ تک پہونچ گیا ہے ۔ گاؤ رکھشا دلوں کی وجہ سے مردہ جانوروں کی منتقلی ‘ ان کے چمڑے کی علیحدگی ‘ چمڑے کی صفائی ‘ اور چمڑے کی کٹنگ کا کام دلت ‘ ہندو ‘ مسلمان اور دوسرے طبقات کے لوگ کرتے ہیں اور ان سب کا ذریعہ معاش متاثر ہوا ہے ۔ کمیشن ایجنٹس ہوں یا مہارت رکھنے والے ورکرس ہوں سبھی کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ گاؤ رکھشا دلوں کی وجہ سے کرکٹ بال تیار کرنے والی کمپنیاں بھی اب گائے کی بجائے بھینس کا چمڑا استعمال کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں۔ بڑی جوتا ساز کمپنیوں کا کہنا ہے کہ آگرہ اور کانپور میں کام کرنے والے کاریگر اب اس کاروبار کو گاؤ رکھشا دلوں کی وجہ سے درپیش خطرات پر فکرمند ہیں۔ اس کے علاوہ بڑے جانور کی ہڈیاں منتقل کرنے والی 20,000 ٹن کی صنعت میں کام کاج بھی متاثر ہوگیا ہے ۔ ورکرس اپنی ملازمتوں اور آمدنی سے ہادھ دھو بیٹھے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں گایوں کی تعداد 190.9 ملین ہے ۔ ان میں 122 ملین گائیں ہیں اور ان کی تعداد میں 2007 کے بعد سے 6.5 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ دودھ دینے والی گایوں اور بھینسوں کی تعداد 77.04 تا 80.52 ملین ہے اور ان کی تعداد میں 4.51 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ جملہ تعداد میں ہندوستانی مویشیوں کی تعداد 1992 میں 93 فیصد تھی جو گھٹ کر اب صرف 79 فیصد ہوگئی ہے ۔ ملک میں گاؤ کشی کے سخت ترین قوانین آندھرا پردیش ‘ بہار ‘ چھتیس گڑھ ‘ دہلی ‘ گوا ‘ گجرات ‘ ہریانہ ‘ ہماچل پردیش ‘ جموں و کشمیر ‘ جھارکھنڈ ‘ مدھیہ پردیش ‘ مہاراشٹرا ‘ پنجاب ‘ راجستھان ‘ تلنگانہ ‘ اتر پردیش اور اترکھنڈ میں نافذ ہیں جبکہ کچھ شرائط کے ساتھ آسام ‘ ٹاملناڈو ‘ مغربی بنگال اور کیرالا میں گاؤ کشی کی اجازت ہے ۔ اروناچل پردیش ‘ منی پور ‘ میگھالیہ ‘ میزورم ‘ ناگالینڈ ‘ سکم اور تریپورہ ایسی ریاستیں ہیں جہاں گاؤ کشی کی عام اجازت ہے ۔ ہندوستان میں جتنی گوشت پیدا ہوتا ہے اس میں گائے کا گوشت 5 فیصد حصہ رکھتا ہے ۔ چمڑے کا کاروبار اب صرف ان گایوں تک محدود ہوگیا ہے جو فطری موت مرتی ہیں۔

ہندوستان میں بھینس کے گوشت کی پیداوار 38 ملین ٹن ہے جس 2015 میں 20 لاکھ ٹن گوشت ہندوستان میں ہی استعمال میں آیا ہے ۔ جملہ گوشت کی پیداوار میں گائے کا گوشت صرف پانچ فیصد حصہ رکھتا ہے ۔ ہندوستان نے 2014 میں 20,82,000 ملین ٹن گوشت ایکسپورٹ کیا گیا ۔ 2015 میں 20,00,000 ملین ٹن گوشت بیرونی ممالک کو روانہ کیا گیا ہے ۔ اس طرح گوشت کے ایکسپورٹ میں 82,000 ملین ٹن کی کمی درج کی گئی ہے ۔ یہ اعداد و شمار صرف گوشت کی ایکسپورٹ میں آئی گراوٹ کے ہیں۔ دوسری صنعتوں پر اس کے جو اثرات ہوئے ہیں وہ بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور اس کی وجہ سے بھی ہزاروں کروڑ روپئے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ بحیثیت مجموعی گاؤ رکھشا دلوں کی غنڈہ گردی اور دہشت گردی نہ صرف اس ملک میں مسلمانوں کو نقصان پہونچا رہی ہے بلکہ یہ کئی صنعتوں کیلئے نقصان کا باعث بن گئی ہے ۔ کئی صنعتیں بند ہونے کے قریب پہونچ گئی ہیں۔ سماج کے مختلف طبقات اور خاص طور پر دلت اور پچھڑے اور دبے کچلے طبقات اس غنڈہ گردی کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا روزگار چھن گیا ہے ۔ ان کی آمدنی ختم ہوگئی ہے ۔کئی روایتی صنعتیں اور کارخانہ بند ہوگئے ہیں۔ لوگ اس کاروبار میں خطرہ مول لینے کی بجائے محنت مزدوری کی سمت راغب ہو رہے ہیں۔ نقل و حرکت متاثر ہوگئی ہے ۔ سڑکوں پر غنڈہ گردی بڑھ گئی ہے ۔ اگر بھینس یا دوسرے بڑے جانور بھی منتقل کئے جاتے ہیں تو ان کے تحفظ کے نام پر نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی بڑھ گیا ہے ۔ گاؤ رکھشا دلوں کی سرگرمیاں ملک کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہونچانے کی ذمہ دار بنتی جا رہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT