Saturday , October 21 2017
Home / ہندوستان / گاؤ رکھشکوں کے تشددکے خلاف کارروائی کی استدعا

گاؤ رکھشکوں کے تشددکے خلاف کارروائی کی استدعا

سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست دائر ۔ مرکز اور کئی ریاستیں فریق
نئی دہلی 14 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں مرکزی حکومت اور کچھ ریاستوں کو یہ ہدایت دینے کی استدعا کی گئی ہے کہ وہ خود ساختہ گاؤ رکھشکوں کے خلاف کارروائی کریں جو گائے رکھشا کے نام پر دلتوں اور اقلیتوں کے خلاف تشدد کو فروغ دے رہے ہیںاور مظالم ڈھا رہے ہیں۔ مفاد عامہ کی یہ درخواست کانگریس کارکن تحسین ایس پونا والا نے دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان گاؤ رکھشا گروپس کی جانے جو تشدد برپا کیا جا رہا ہے وہ اس حد تک پہونچ گیا ہے کہ خود وزیراعظم نریندر مودی نے حال ہی میں ان لوگوں کو سماج کو تباہ کرنے والے افراد قرار دیا ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ گروپس گائے کے تحفظ کے نام پر دلتوں اور اقلیتوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں اور انہیں روکنے اور سماجی ہم آہنگی ‘ عوامی مفاد اور لا اینڈ آرڈر کے مفاد میں ان پر پابندی عائد کرنے کی ضرورت ہے ۔ جو حالات گاؤ رکھشا گروپس کی وجہ سے خراب ہو رہے ہیں ان کا اثر ملک کے ہر کونے میں ہو رہا ہے اور اس کی وجہ سے مختلف برادریوں اور ذاتوں کے مابین ہم آہنگی متاثر ہو رہی ہے ۔ درخواست میں خواہش کی گئی ہے کہ گاؤ رکھشا دلوں کی جانب سے سوشیل میڈیا پر جو پرتشدد مواد پیش کیا جا رہا ہے

اور دوسرے جو پوسٹس کئے جا رہے ہیں انہیں بھی روکا جائے ۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہگجرات تحفظ مویشیان قانون 1954 کے دفعہ 12 ‘ مہاراشٹرا تحفظ مویشیان ایکٹ 1976 کے دفعہ 13 اور کرناٹک تحفظ گاؤ کشی و مویشان تحفظ ایکٹ 1964 کے دفعہ 15 کو غیر دستوری بھی قرار دیا جائے ۔ کہا گیا ہے کہ یہ قوانین اور اسکے اثرات سے گاؤ کشی کے نام پر غنڈہ گردی کرنے والوں کو تشدد کا موقع مل رہا ہے ۔ درخواست مفاد عامہ میں وزارت داخلی امور ‘ وزارت زراعت و کسان بہبود کے علاوہ گجرات ‘ مہاراشٹرا ‘ اتر پردیش ‘ کرناٹک ‘ راجستھان اور جھارکھنڈ کی حکومتوں کو فریق بنایا گیا ہے ۔ گاؤ رکھشکوں کے خلاف کارروائی کی استدعا کرتے ہوئے مفاد عامہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کے خلاف کئی دفعات کے تحت کارروائی کی گنجائش موجود ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ کئی معاملات میں پولیس اور نفاذ قانون کی دوسری ایجنسیاں یا تو ان غیر قانونی کاموں میں خود شامل رہتی ہیں یا پھر وہ صرف خاموش تماشائی بنی رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT