Thursday , June 29 2017
Home / Top Stories / ’’گاؤ رکھشکوں کے مقابل قانون کی بالادستی ضروری ‘‘

’’گاؤ رکھشکوں کے مقابل قانون کی بالادستی ضروری ‘‘

مرکز میں بی جے پی حکومت کے بعد سے انتشار ، مولانا جلال الدین عمری کا خطاب
نئی دہلی۔ 11 اپریل (ای۔میل) راجستھان کے ضلع الور میں گاؤ رکھشکوں کے ذریعہ ایک مسلم شخص کا قتل انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو فوراً گرفتار کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ حکومت کو چاہئے کہ قانون کی حکمرانی و بالادستی کو یقینی بنایا جائے جو ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ یہ بات امیر جماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین عمری نے مرکز کے کانفرنس ہال میں منعقدہ و ماہانہ پریس کانفرنس میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا یہ احساس ہے کہ مرکز میں بی جے پی کے حکومت میں آنے کے بعد ہی سے گائے کے نام پر مسلمانوں اور سماج کے دلت اور دیگر طبقات کے خلاف قتل و غارت گری کے معاملات میں بتدریج اضافہ ہوا ہے اور نام نہاد گاؤ رکھشا تنظیمیں تشکیل پارہی ہیں۔ مولانا عمری نے کہا کہ حکومت کے ذریعہ کوئی کارروائی نہ ہونے کے سبب ان کے حوصلے بلند ہیں اور گاؤ رکھشا کے نام پر ملک بھر میں قانون کا مذاق اُڑایا جارہا ہے۔ انہوں نے ایک رپورٹ کے حوالے سے یہ بات بتائی کہ گزشتہ دو سال میں گاؤکشی کے افواہ یا گائیوں کے اسمگلنگ کے نام پر ملک کے مختلف حصوں میں 10 مسلمانوں کو قتل کردیا گیا ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے۔ امیر جماعت اسلامی ہند نے مزید کہا کہ جماعت اس قسم کے تمام واقعات کو مرکزی حکومت کی فرقہ وارانہ پالیسی اور ذہنیت کا نتیجہ سمجھتی ہے۔ سیاسی مقاصد کیلئے خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو پروان چڑھانا ملک کیلئے اور خود ایسا کرنے والوں کیلئے بہت خطرناک ہے۔ مولانا عمری نے جماعت مطالبہ کرتی ہے کہ مرکزی حکومت ایسے واقعات پر روک لگاکر ثابت کرے کہ وہ فرقہ واریت کو ختم کرنے کیلئے سنجیدہ ہے۔ کانفرنس کے شروعات میں جماعت اسلامی ہند کے سیکریٹری جنرل انجینئر محمد سلیم نے میڈیا نمائندوں کو مجلس نمائندگان کے اجلاس میں منظور قرارداد سے واقف کیا۔ یہ اجلاس مولانا جلال الدین عمری کی صدارت میں مرکز ِ جماعت اسلامی ہند دہلی میں 2 تا 5 اپریل 2017ء منعقد ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مجلس نمائندگان کا احساس ہے کہ مرکز میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سے ملک کی فرقہ وارانہ فضاء بتدریج بگڑتی جارہی ہے۔ جارحانہ سرگرمیوں کا مقصد بظاہر مذہبی اقلیتیں ہیں لیکن اس کے اثرات عوام پر اور خصوصاً پسماندہ اور کمزور طبقات پر بھی پڑ رہے ہیں۔ جمہوری فضاء سکڑتی جارہی ہے اور اختیارات کے ارتکاز میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ گویا ملک میں غیراعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہے۔
کروڑوں روپے کی مورتیاں چوری
پورنیہ۔ 11 اپریل (سیاست ڈاٹ کام)  بہار میں پورنیہ ضلع کے ٹکاپٹی تھانہ علاقہ میں کل دیر رات چوروں نے ٹھاکرباڑی سے کروڑوں روپے کی بیش بہا مورتیاں چوری کرلیں۔ پولیس ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ لنکاٹولا گاؤں واقع قدیم ٹھاکرباڑی کے دروازے پر لگے تالے کو توڑ کر کچھ افراد داخل ہو گئے اور رام، لکشمن، سیتا اور ہنومان کی مورتیاں چرالی کر لے گئے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT