Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / گاؤ رکھشکوں کے ہاتھوں شہید محمد ایوب کے خاندان کو 2.9 لاکھ روپئے کی امداد

گاؤ رکھشکوں کے ہاتھوں شہید محمد ایوب کے خاندان کو 2.9 لاکھ روپئے کی امداد

ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کا قارئین سیاست سے اظہار تشکر، غمزدہ خاندان کو راحت
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اکٹوبر : ( نمائندہ خصوصی ) : گجرات اور نریندر مودی نہ صرف کسی مخصوص ریاست بلکہ سارے ملک میں فرقہ پرستی کے لیے بدنام ہیں ۔ ان کی حکومت میں تحفظ گاؤ کے نام پر بے قصور انسانوں کے قتل کا ایک سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور درندگی کے اس سلسلہ کو جاری رکھنے کے لیے نام نہاد گاؤ رکھشکوں کی ہر لحاظ سے غیر قانونی مدد کی جارہی ہے ۔ انہیں بچانے کے لیے دستور اور قانون سے کھلواڑ ہورہا ہے ۔ آج سے ٹھیک ایک ماہ قبل گجرات میں وزیراعظم نریندر مودی کی سالگرہ دھوم دھام سے منائی جارہی تھی ان کے حامی آتشبازی کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر ماحول میں صوتی اور فضائی آلودگی پھیلا رہے تھے ۔ نریندر مودی اپنی ضعیف ماں کے قریب بیٹھے اس کے ہاتھوں سے مٹھائی کھا رہے تھے اور دوسری طرف ایک 25 سالہ مسلم نوجوان محمد ایوب کی بوڑھی ماں اپنے بیٹے کی موت کے غم میں بار بار بے ہوش ہوتی جارہی تھی ۔ محمد ایوب میواتی کی نوجوان بیوہ جس کے گود میں 9 ماہ کی شیر خوار بڑے سکون سے سورہا تھا ۔ اپنے شوہر کی موت پر چپکے چپکے آنسو بہارہی تھی کہ کہیں اس کے رونے اور چیخنے چلانے سے اس کی گود میں سوئے ہوئے شیرخوار کی نیند میں خلل نہ پڑ جائے ۔ ایوب کا چار سالہ بیٹا بھی جو ہر روز اپنے باپ کے سینے پر لپٹے اس سے کھیلتا رہتا تھا ۔ باپ کے سائے سے محرومی کو برداشت نہ کرتے ہوئے رو رہا تھا ۔ اسے پتہ ہی نہیں تھا کہ اس کے نوجوان باپ کو گاؤ رکھشکوں نے قتل کیا ہے اور اسے ان فرقہ پرستوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے ۔ بہر حال 16 ستمبر کو وزیراعظم نریندر مودی کے گھر میں جشن اور محمد ایوب کے گھر میں غم کا ماحول تھا ۔ محمد ایوب میواتی شہید کی ماں ، بیوی ، بچوں ، بھائی اور رشتہ داروں کی آہیں نریندر مودی کی مرکزی اور گجرات کی بی جے پی حکومت سننے سے قاصر رہی ۔ لیکن حیدرآباد کے مسلمانوں اور قارئین سیاست نے ان آہوں کو سنا اور ایڈیٹر سیاست کی اپیل پر ان کی مدد کے لیے آگے بڑھے ۔ محمد ایوب میواتی کے پریشان حال والد اسحاق ، ماں معراج بانو ، غیر شادی شدہ بہن یاسمین بانو ، بیوہ ، دو بچے اور بھائی عارف کے حالات اور ان سے ہوئی نا انصافی کے پیش نظر ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے قارئین سیاست سے اس خاندان کی مالی مدد کی درخواست کی تھی اور اس ضمن میں ایک خصوصی رپورٹ کی اشاعت بھی عمل میں آئی تھی ۔ چنانچہ اس اپیل کا اثر یہ ہوا کہ قارئین سیاست نے محمد ایوب میواتی شہید کے خاندان کے لیے تاحال 2.9 لاکھ روپئے بینک میں جمع کروائے ہیں ۔ بڑے ہی شرم کی بات یہ ہے کہ گاؤ رکھشکوں کے ہاتھوں شہید ہوئے اس نوجوان کے پسماندگان کو حکومت گجرات کی جانب سے کسی قسم کا معاوضہ ادا نہیں کیا گیا حالانکہ اس خاندان کا سارا دار و مدار ایوب کی کمائی پر ہی تھا ۔ جہاں تک سیاست اور ایڈیٹر سیاست کا سوال ہے جب بھی اس ادارہ اور جناب زاہد علی خاں نے مظلومین کی مالی مدد کی اپیل کی نہ صرف حیدرآباد دکن بلکہ ملک و بیرون ملک سیاست کے قارئین نے بڑی فراخدلی سے مالی مدد کی ۔ محمد ایوب میواتی کے خاندان کی مالی مدد کرنے والوں سے جناب زاہد علی خاں نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ مصیبت زدہ اور مظلوم خاندانوں کی مدد انسانی فریضہ ہے اور اس معاملہ میں شہریان حیدرآباد کا ساری دنیا میں ایک منفرد مقام ہے وہ ہر بے کس و مجبور انسان کے درد کو اپنے جسموں میں محسوس کرتے ہیں ۔ آپ کو بتادیں کہ 13 ستمبر کو جب کہ سارے ملک میں لوگ عیدالاضحی منا رہے تھے محمد ایوب میواتی ایس یو وی گاڑی میں ایک بیل اور بچھڑا لے جارہے تھے کہ بدقسمتی سے گاڑی حادثہ کا شکار ہوگئی ۔ اس حادثہ میں بچھڑا ہلاک ہوگیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے فرقہ پرستوں کا ایک ہجوم جمع ہوگیا اور یہ کہتے ہوئے ایوب کا تعاقب کرنے لگا کہ وہ ذبح کرنے کے لیے بچھڑا اور بیل لے جارہا تھا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان درندوں نے ایوب پر سلاخوں اور لاٹھیوں سے حملہ کردیا ۔ اس واقعہ کے تین دن بعد ایوب زخموں سے جانبر نہ ہوسکے ۔ محمد ایوب کے ماں باپ اور بیوہ و بچوں کی مدد کے خواہاں افراد معراج بانو اور سرینا بانو کے جوائنٹ اکاونٹ میں رقم جمع کراسکتے ہیں ۔۔
Meraj Banu and Sarina Banu
A/C. No: 210310510016513
Bank of India (Vatva Branch)
IFSC Code: BKID0002103
فون نمبر 9375383488 پر بھی ربط کیا جاسکتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT