Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / گاؤ کشی پر امتناع کی خلاف ورزی نہ کی جائے ، بیل یا بھینس ذبح کیے جاسکتے ہیں

گاؤ کشی پر امتناع کی خلاف ورزی نہ کی جائے ، بیل یا بھینس ذبح کیے جاسکتے ہیں

بڑے جانوروں کی منتقلی پر وزراء اور عہدیداروں سے نمائندگی ، الحاج محمد سلیم ایم ایل سی و صدر جمعیت القریش کا بیان
حیدرآباد۔29 اگسٹ ( سیاست نیوز ) گاؤ کشی پر عائد امتناع کی خلاف ورزی کئے بغیر بیل یا بھینس ذبح کئے جا سکتے ہیں اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ الحاج محمد سلیم رکن قانون ساز کونسل تلنگانہ راشٹر سمیتی و صدر جمیعت القریش حیدرآباد نے بتایا کہ بڑے جانور کی منتقلی کے سلسلہ میں اعلی عہدیداروں کے ساتھ وزراء سے بھی نمائندگی کی جا چکی ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس کاروبار سے وابستہ افراد کے علاوہ شہریوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے قوانین کا احترام کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور ہم ان ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے گاؤکشی پر امتناع کی پابندی کرتے ہیں لیکن بیل اور بھینس کی منتقلی میں فرضی گاؤرکھشک یا دیگر تنظیموں کی جانب سے کوئی رکاوٹیں پیدا نہیں کی جانی چاہیئے۔ عیدالاضحی کے قریب بڑے جانور کی منتقلی میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہوئے تاجرین کو ہراساں کرنا ہر سال معمول بنتا جا رہا ہے۔ عام طور پر یہ دیکھا جا رہا ہے کہ بڑے جانور کی منتقلی کے دوران گائے کے نام پر بیل ‘ بچھڑے اور بھینس کو بھی گاؤرکھشک اور بعض متعصب عہدیدار گاؤشالہ منتقل کر رہے ہیں بعد ازاں وہی بیل‘ بچھڑے اور بھینس کو دوبارہ بازار میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ عیدالاضحی کے انتظامات کے سلسلہ میں محکمۂ پولیس و بلدیہ کی جانب سے جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے قوانین کی پابندی کی اپیل کے ساتھ گاؤ رکھشک کے نام پر ہراسانی کے مرتکبین سے سختی سے نمٹنے کا انتباہ بھی دیا جا چکا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میںبڑے جانور کا کاروبار کرنے والوں کو کئی برسوں سے ہو رہی دشواریوں کو روکنے کیلئے کی گئی نمائندگی کے مثبت اثرات برآمد ہونے کے امکان ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ الحاج محمد سلیم نے کمشنر پولیس کے علاوہ وزارت داخلہ سے اپیل کی کہ وہ اس بات کی بھی وضاحت کردیں کہ صرف گاؤکشی پر امتناع عائد ہے اور گاؤکشی قانونی جرم ہے لیکن بیل‘ بچھڑے اور بھینس کو ذبح کیا جا سکتا ہے۔  حکومت کی جانب سے اس وضاحت کے کر دئے جانے کے بعد شکوک و شبہات کی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔ انہوں نے بتایا کہ بعض گوشوں سے بڑے جانور کی قربانی پر پابندی جیسے بیانات کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں جنہیں دور کیا جانا ضروری ہے۔ جناب محمد سلیم نے بتایا کہ جمیعت القریش کا وفد ضرورت پڑنے پر ایک مرتبہ پھر ریاستی وزراء اور متعلقہ اعلی عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے نمائندگی کرے گا تاکہ عیدالاضحی کے دوران امن و امان کی برقراری کو یقینی بنایا جا سکے۔

TOPPOPULARRECENT