Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / گائوکشی پر امتناع کی درخواست، دہلی ہائی کورٹ میں مسترد

گائوکشی پر امتناع کی درخواست، دہلی ہائی کورٹ میں مسترد

نئی دہلی۔20 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائی کورٹ نے گائوکشی پر امتناع عائد کرنے کے مقصد سے قانون وضع کرنے کے لئے پیش کردہ ایک درخواست کو مسترد کردیا اور کہا کہ ’’یہ مسئلہ عدالتی فیصلہ کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہے۔‘‘ چیف جسٹس جی روہن اور جسٹس راجیو سہائے اینڈ لاء پر مشتمل ایک بنچ نے کہا کہ ’’یہ کہنا کافی ہے کہ مقننہ جب کبھی ضروری سمجھتی ہے اس ضمن میں مناسب قوانین وضع کرسکتی ہے اور اس کے خلاف کسی چیلنج پر عدالت کی طرف سے غور کیا جاسکتا ہے۔‘‘ بنچ نے مزید کہا کہ ’’ہمیں احساس ہے کہ یہ مسئلہ عدالتی فیصلہ سازی کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ یہ ایک پالیسی مسئلہ ہے جس میں اختیارات کی علیحدگی کے اصول کے تحت عدالتیں دخل اندازی کا اختیار نہیں رکھتیں۔

‘‘ ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) سادھ فائونڈیشن کی جانب سے دائرہ کردہ مفاد عامہ کی ایک درخواست پر عدالت نے یہ فیصلہ صادر کیا۔ درخواست میں عدالت سے یہ اپیل بھی کی گئی تھی کہ بنی نوح انسان کو گائے کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ اقتصادی اور ماحولیاتی فوائد کی فراہمی کے لئے ضروری انتظامات کرنے کی ہدایت کی جائے۔ تاہم بنچ نے اس درخواست کو ٹھوس دلائل سے عاری قرار دیا اور کہا کہ حتی کہ سپریم کورٹ نے بھی اپنے حالیہ فیصلہ میں واضح کرچکا ہے کہ گائوکشی پر امتناع کے لئے عدالتیں کوئی احکام جاری نہیں کرسکتیں کیوں کہ یہ پالیسی پر مبنی مسئلہ ہے جس کے بارے میں حکومت کی طرف سے ہی کوئی فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT