Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / گائو رکھشکوں پر امتناع کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست، چھ ریاستوں سے جواب طلب

گائو رکھشکوں پر امتناع کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست، چھ ریاستوں سے جواب طلب

دیگر طبقات اور اقلیتوں پر مظالم کا گائو رکھشکوں پر الزام، راجستھان کے واقعہ کی نقوی کی تردید پر راجیہ سبھا میں کانگریس کا ہنگامہ
نئی دہلی۔7 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج چھ ریاستوں راجستھان ، مہاراشٹرا، گجرات، جھارکھنڈ، کرناٹک اور اترپردیش سے گائو رکھشکوں کے گروپ پر امتناع عائد کرنے کی درخواست پر جواب طلب کرتے ہوئے جواب داخل کرنے کے لیے تین ہفتوں کی مہلت دی۔ سپریم کورٹ کی بنچ نے مقدمہ کی سماعت 3 مئی تک ملتوی کردی۔ مختصر سی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے الور (راجستھان) کے حالیہ واقعہ کا حوالہ دیا جس میں گائو رکھشکوں کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر ایک شخص کو ہلاک کردیا۔ وکیل نے ادعا کیا کہ حقیقی صورتحال ان ریاستوں میں فکرمندی کا باعث ہے۔ کیوں کہ گائو رکھشکوں کے گروپس تشدد پر اترآپے ہیں۔ سالیسیٹر جنرل رنجیت کمار نے مرکز کی جانب سے پیش ہوکر سپریم کورٹ سے کہا کہ ریاستوں کو اس درخواست پر رسمی نوٹسیں جاری نہیں کی گئی ہیں۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے تمام چھ ریاستوں سے جواب طلب کیا۔ 21 ڈسمبر گزشتہ سال سپریم کورٹ نے درخواست سماعت کے لیے قبول کرلی تھی جس میں تشدد پر اترآنے والے کارکنوں کے خلاف کارروائی کی گزارش کی گئی تھی۔

کیوں کہ یہ کارکن دلتوں اور اقلیتوں پر مظالم کررہے تھے۔ انسانی حقوق کارکن تحسین ایس پوناوالا نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ گائو رکھشکوں کے گروپ کا تشدد اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ خود وزیراعظم نریندر مودی نے ان کے بارے میں اعلان کردیا ہے کہ وہ ’’معاشرے کو تباہ‘‘ کررہے ہیں۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ گروپس دلتوں اور اقلیتوں پر گائیوں اور دیگر مویشیوں کے تحفظ کے نام پر ظلم ڈھا رہے ہیں اور ان پر قابو پانے اور سماجی ہم آہنگی، عوامی اخلاقیات اور ملک میں نظم و قانون کی برقراری کے مفاد میں امتناع عائد کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ لعنت مبینہ طور پر گائے کے تحفظ کے گروپس تیزی سے ملک کے گوشے گوشے میں پھیلارہے ہیں اور مختلف برادریوں اور ذات پات کے درمیان ہم آہنگی تباہ کررہے ہیں۔ درخواست میں خواہش کی گئی تھی کہ غیر دستوری دفعہ 11 گجرات تحفظ مویشی قانون 1954ء، مہاراشٹرا کے تحفظ مویشی قانون 1976ء کی دفعہ 13 اور کرناٹک کی انسداد ذبیحہ گائو و تحفظ مویشیان قانون 1964ء کی دفعہ 15 ایسے افراد کو تحفظ فراہم کرتی ہے جو قانون یا قواعد کے تحت نیک ارادے سے کام کررہے ہیں۔

یہ قوانین اور تحفظ ان گائو رکھشک گروپس کی جانب سے تشدد کو ہوا دے رہا ہے۔ ان گروپس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے درخواست گزار نے کہا کہ ان کے مظالم قانون تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت قابل سزاء ہیں اور درج فہرست ذاتوں و درج فہرست قبائل (انسداد مظالم) قانون 1989ء کے تحت لائق تعزیر ہیں۔ دریں اثناء راجیہ سبھا میں مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کی جانب سے راجستھان میں گائیوں کو منتقل کرنے والے ایک شخص کی گائو رکھشکوں کی جانب سے زدوکوب کی تردید کرنے پر کانگریس نے راجیہ سبھا میں ہنگامہ کھڑا کردیا اور ان سے ایوان کو گمراہ کرنے پر معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ وقفہ صفر کے دوران کانگریس کے رکن مدھوسودن مستری کے بیان پر کہ گائو رکھشکوں نے الور میں ایک لاری روک دی تھی جس میں مویشیوں کے میلے سے گائیوں کو منتقل کیا جارہا تھا اور لاری میں سوار افراد کو زدوکوب کیا تھا جس کی وجہ سے ایک مسلمان ہلاک ہوگیا تھا۔ نقوی نے کہا تھا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ آج انہوں نے وضاحت کی کہ وہ گجرات، مدھیہ پردیش اور اترپردیش کا ذکر کررہے تھے کہ یہاں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT