Friday , July 28 2017
Home / مضامین / گائے بھینس کی تجارت ، ہندوستان کو خطرہ لاحق

گائے بھینس کی تجارت ، ہندوستان کو خطرہ لاحق

 

 

گربیر سنگھ
مرکزی وزارتِ ماحولیات نے گزشتہ ماہ ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے مویشیوں جیسے گائے، بیل اور بھینس کی منڈیوں میں تمام خریداروں کیلئے ایسا حلف نامہ دینا لازمی بنا دیا ہے کہ یہ خریدی ذبح کرنے کیلئے نہیں ہے۔ اس عمل کے ساتھ کافی کاغذی کام جڑا ہوا ہے۔ اس اقدام سے دو مقاصد کا حصول مقصود ہے: پہلا، گائے والی منڈیوں سے ذبح کرنے کیلئے مویشیوں کی خریدی اب قانونی اجازت سے کام کرنے والے مسالخ کیلئے تک ناممکن ہے؛ دوسرا، گایوں کی تجارت اور منتقلی دودھ کی صنعت والوں کیلئے بھی محدود ہوجائے گی، جو گائے کی منڈیوں کیلئے تباہی کیلئے مترادف ہے۔
ڈیری انڈسٹری کے توازن میں خلل
دودھ دینے والی گائے سے جڑی ڈیری پر مبنی معیشت کی کارآمد مدت 8 تا 9 سال ہوا کرتی ہے، جس کے بعد دودھ کی پیداوار ختم ہوجاتی ہے اور وہ غیرمنفعت بخش بن جاتی ہے۔ ایسی گایوں کا مالک اپنے بوڑھے جانور کو فروخت کرتے ہوئے اس رقم کو تازہ دم مویشیوں کو حاصل کرنے کیلئے استعمال کرتا ہے۔ معمول کے دورانیہ میں ایسے بوڑھے جانور مسالخ تک پہنچ جاتے ہیں اور اس طرح ان کے گوشت کو برآمد کرتے ہیں اور ان کی چمڑی کی کھپت چمڑا صنعت میں ہوجاتی ہے۔ تاہم، زیادہ تر ریاستوں میں ذبیحہ پر پابندی اور مسالخ کو بند کرنے پر مجبور کئے جانے کے پیش نظر ڈیری انڈسٹری سے جڑا کسان اور دیگر لوگ بھاری مالی بحران کا سامنا کرنے والے ہیں۔ گایوں کی دوبارہ فروخت کی قدر بُری طرح گھٹ چکی ہے، اور کسان کی اپنے مویشیوں کو منفعت بخش برقرار رکھنے کی قابلیت پر کاری ضرب پڑنے والی ہے۔ دوسری طرف ، غیرمنفعت بخش مویشیوں کو مجبوراً سنبھالے رکھنے کی صورتحال نے اسے مالی بکھراؤ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
جانوروں کے ذبح پر عام پابندی کے ذریعہ ڈیری پر مبنی معیشت جو کبھی بہت مستحکم تھی، یکایک شکستگی کا شکار ہوگئی ہے۔ ہزاروں قصابوں کو بے روزگار کردینے کے علاوہ مرکزی حکومت کے اقدام سے گایوں اور بیلوں کو پالنے کا رجحان زوال پذیر ہوچلا ہے۔ مہاراشٹرا میں دودھ دینے والی گائے کی اوسط قیمت گھٹ کر اندرون 50,000 روپئے ہوگئی ہے، جو دو سال قبل 65,000 روپئے ہوا کرتی تھی۔ یہ بھی نتیجہ برآمد ہوا ہے کہ بوڑھے مویشی بڑی بڑی تعداد میں آوارہ گھومتے دکھائی دینے لگے ہیں، جن کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں، اور جنھیں دھیرے دھیرے فاقہ کشی کے ساتھ کربناک موت کا سامنا ہے۔ چونکہ کسانوں میں بھینس سے دلچسپی کا رجحان بڑھنے لگا ہے، اس لئے حالیہ حکومتی اقدامات جن سے گائے کا تحفظ تو کیا ہوگا، اُلٹا اس کے بتدریج ختم ہوجانے کا اندیشہ ہے۔
برآمدات متاثر
دودھ کی صنعت کے علاوہ مویشیوں کا گوشت اور گوشت والی اشیاء ہمارے ملک کی غذائی کڑی اور معیشت کیلئے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہندوستان میں دنیا کی سب سے زیادہ مویشی آبادی …گائے، بیل، بھینس وغیرہ… موجود ہے ، جو اعداد و شمار میں دیکھیں تو 200 ملین کی تعداد یا دنیا کے جملہ مویشیوں کا 14 فیصد ہے۔ ہمارے ملک میں لگ بھگ 80 ملین افراد بیف کھاتے ہیں جس میں گھریلو استعمال کی کھپت دو ملین میٹرک ٹن تک پہنچتی ہے۔
بیف کی کھپت میں دنیا میں اگرچہ 5 واں نمبر ہے، لیکن ہندوستان مالی سال 2015ء میں بیف (لگ بھگ تمام ہی بھینس کا گوشت) کا سب سے بڑا برآمدکنندہ بن گیا اور 2.4 ملین میٹرک ٹن (عالمی برآمدات کا 20 فیصد) کی تجارت کرتے ہوئے برازیل کو اول مقام سے ہٹا دیا۔ یہی مالی سال میں برآمد پر مبنی آمدنی 4.8 بلین ڈالر رہی، یہ اُس سے کہیں زیادہ ہے جو ہمارے ملک کو باسمتی چاول کی برآمدات سے حاصل ہوا! بیف کی برآمدات میں مالی سال 2016ء میں کمتر عالمی طلب کی وجہ سے کمی آئی۔ اگر مخالف بیف مہم یونہی زور پکڑتی رہی تو اس کی برآمدات میں مزید گراوٹ آسکتی ہے۔ اترپردیش جہاں سے ہندوستان کی برآمدات کا تقریباً 60 فیصد حصہ حاصل ہوتا ہے، وہاں مسالخ کو بند کردینے اور عمومی تحدیدات کے برآمد پر مبنی آمدنی اور نوکریوں کے معاملے میں سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
لیدر (چمڑا) اور فیشن کی اشیاء والی صنعت کیلئے بھی اب مستقبل تاریک ہونے والا ہے۔ ایک ویب سائٹ کیلئے کالم میں ابھیشک واگمارے نے تخمینی اعداد و شمار پیش کئے ہیں کہ عالمی طلب میں گراوٹ اور جانوروں کی کھال کی کم سربراہی کے نتیجے میں کانپور کے 400 کے منجملہ 128 کارخانے بند ہوچکے ہیں۔ کانپور ڈسٹرکٹ چمڑا اور چمڑے سے بنی اشیاء پیش کرنے کے معاملے میں ہنوز مقدم ہے جیسا کہ ہمارے ملک کی ایک تہائی یا 268 فٹ ویئر فیکٹریاں یہیں پر ہیں اور ہندوستان کے لیدر اکسپورٹس میں اس کا 40 فیصد حصہ ہے، لیکن 2014ء سے لیدر اکسپورٹس میں 11 فیصد کمی ہوگئی ہے۔
ڈیری انڈسٹری، بیف پروڈکشن اور اکسپورٹس، نیز چمڑا اور اس سے بننے والی اشیاء زرعی اور صنعتی معیشت کا تیزی سے بڑھنے والا شعبہ رہا ہے۔ بدبختی سے گاؤ رکھشا کے نام پر غنڈہ گردی اور رجعی قانون سازی اس ملک کو پیچھے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT