Friday , August 18 2017
Home / مضامین / گائے پوجا احمقانہ عمل : ساورکر

گائے پوجا احمقانہ عمل : ساورکر

 

ویبھو پورندارے
یہ 1930ء کے دہے کی بات ہے کہ مشہور مراٹھی جریدہ ’بھالا‘ کے ایڈیٹر نے تمام ہندوؤں کے سامنے ایک سوال رکھا اور خود ہی اس کا جواب دے دیا۔ ’’حقیقی ہندو کون ہے؟ وہی ہے جو گائے کو اپنی ماتا سمجھے!‘‘
ونائک دامودر ساورکر اُن دنوں ناسک سے تعلق رکھنے والے آتشی مزاج انقلابی کے طور پر اُبھر رہے تھے اور مارسیلے میں برطانوی قید سے اُن کی فراری کی کوشش اور انڈمان کی سلیولر جیل میں زائد از ایک دہا گزارنے کے بعد خاصے معروف ہوگئے تھے۔ انھوں نے گائے سے متعلق مذکورہ بالا دعوے پر ردعمل ظاہر کیا اور لکھا: ’’اگر گائے کسی کی ماتا ہے تو وہ بس وہ خصی بیل ہے؛ نا کہ ہندو لوگ۔ ہندوتوا کو اپنی بقا کیلئے اگر گائے کے پیروں کا سہارا چاہئے تو معمولی سے بحران پر یہ بُری طرح بکھر جائے گا۔‘‘
ساورکر کو آج 1923ء کی تصنیف ’ہندوتوا‘ کے مصنف کے طور پر جانا جاتا ہے، جو ہندو قوم پرستوں کیلئے بنیادی متن کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن اُن کی جس بات کو پس منظر میں ڈال دیا گیا وہ گائے پوجا پر اُن کی سخت مخالفت ہے۔ اُن کا موقف رہا کہ گائے بہت مفید جانور ہے۔ لیکن اس کی پوجا بے تکی بات ہے کیونکہ انسانوں کو تو کسی ایسی چیز یا ذات کی پرستش کرنا چاہئے جو انسان سے کہیں افضل ہو یا جو ماورائے انسان خاصیتوں کا حامل ہو، نا کہ کوئی جانور کی پوجا کرنے لگیں جس کا درجہ بنی نوع انسان سے کمتر ہے۔ انھوں نے اس ’’نادانی کے عمل‘‘ کو ترک کردینے پر زور دیا کیونکہ یہ ’’بدھی ہتیا‘‘ یا ’’عقل مندی کا قتل‘‘ والا عمل ہورہا تھا۔ وہ گائے پالن کے خلاف نہ تھے بلکہ اُصول پرورش کو ’’قومی فریضہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے مستقل مزاجی سے بڑھاوا دیا۔ یہ سب وسیع تر معاشی اور سائنسی اُصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا کیونکہ وہ زور دیا کرتے تھے کہ امریکہ میں مویشیوں کے پالن نے معیشت کو بڑا فائدہ پہنچایا ہے۔
تاہم، اس موضوع پر اُن کا واضح موقف رہا کہ ’’ہمیں گائے کی نگہداشت درکار ہے، پرستش نہیں‘‘۔ وہ خاص طور پر اُن دنوں عمومی طور پر رائج گائے کا پیشاب پینے اور بعض معاملوں میں تو گائے کا گوبر استعمال کرلینے کی عادت پر بہت متنفر تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ یہ عمل ہوسکتا ہے اصلاً قدیم ہندوستان میں شروع ہوا ہوگا اور سزا کی شکل رہا ہوگا تاکہ خاطی فرد کے ’’گناہوں کا کفارہ‘‘ ہوجائے۔ اور جو قدامت پسند ہندو اُن کے خیالات کو اپنے مذہبی عقیدہ کی توہین باور کرتے تھے، اُن کیلئے ساورکر بس یہی تضحیک آمیز بات کہتے تھے: تمھارے مذہب کی بے حرمتی بہت، بہت ہی بڑا معاملہ ہے، دیکھو تو کیسے تم نے 33 کروڑ دیوتاؤں و دیویوں کو ایک گائے کے پیٹ میں گھسا دیا ہے۔
ہندوستان کے بائیں بازو والے تو کیا، اس کے اعتدال پسند بھی کئی دہوں تک ساورکر کا ساتھ دینے سے کتراتے رہے ۔ ان میں سے بعض نے اب یکایک انھیں سمجھنا شروع کیا اور اُن کے مذکورہ بالا خیالات کا حوالہ دینے لگے ہیں۔ شرد پوار نے ایک حالیہ تقریب میں کہا کہ ساورکر نے گائے کو مفید جانور قرار دیا، اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ یہ بلاشبہ درست ہے، اور ان کے خیالات بالخصوص ہمارے اطراف و اکناف جو کچھ ہورہا ہے اُس تناظر میں معلوماتی ہیں۔ لیکن ہم میں سے اقبالی طور پر ’’سکیولر لوگ‘‘ اور خود کو ’’فراخدل‘‘ قرار دینے والے شاید اس موضوع پر اُن کی تحریروں کو مزید کچھ گہرائی سے پڑھنا چاہتے ہیں قبل اس کے کہ وہ اس کتاب کو ہندوتوا والوں کے سامنے رکھیں ، کیونکہ گائے کے بارے میں ساورکر کا موقف اُن کے نظریۂ ہندوتوا سے ہٹایا نہیں جاسکتا، بھلے ہی اُن کا انداز ِفکر سراسر عملی کیوں نہ رہا ہو۔
ساورکر کا ماننا نہیں رہا کہ ہندوستان کو صرف برطانوی راج کے دوران تابع بنایا گیا۔ پنڈت نہرو کے برخلاف جنھوں نے ’گنگا جمنی تہذیب‘ کا خیال پیش کیا، وہ سینکڑوں برس کی مسلم حکمرانی کو بیڑیوں، اطاعت، جبر اور غلامی کا دور سمجھتے تھے۔ گائے پوجا کے معاملے میں اُن کے بڑے اعتراضات میں وہ اسے ذہن مفلوج کرنے کا سبب تو مانتے ہی تھے ، اس کے علاوہ یہ بھی کہ اسی سے ماضی میں ہندوؤں کو کئی بار شکست ہوئی۔ اور یہی گائے کی وجہ سے بزدلی سرایت کرگئی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ مسلم فوجیں اکثر ہندوؤں کے خلاف اہم لڑائیوں کے دوران گایوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتی تھیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ جب ہندو فورسیس نے ملتان پر پیش قدمی کی تو مسلمانوں نے انتباہ کے طور پر وہاں کی مشہور سورج مندر کو ڈھا دینے کی دھمکی دی تھی، اور جب مراٹھا قوم کا ملہارراؤ ہولکر نے کاشی کو ’’آزاد‘‘ کرانے کی کوشش کی تو مسلمانوں نے دوبارہ دھمکی دی کہ ہندوؤں کیلئے مقدس تمام چیزوں کو پامال کردیں گے۔ ساورکر نے ان واقعات کی روشنی میں ہندوستان کی اکثریتی برادری کو ڈانٹ پلائی کہ ایسے اہم موقعوں پر اپنے قدم اس اندیشے پر پیچھے ہٹا گئے کہ کہیں وہ مندروں کی مسماری، برہمنوں کی تذلیل اور گاؤکشی کے ذمہ دار نہ ہوجائیں۔
ساورکر نے کہا کہ اگر ہندو راشٹرا کو غیرہندو طاقتیں کبھی روکنا چاہیں اور انھیں حصولِ غذا کیلئے اور کوئی راہ نہ سوجھے تو گاؤ کشی کو ایک متبادل کے طور پر استعمال کرنا پڑے گا۔ اُن کا کہنا رہا کہ خود ہندوؤں نے اپنے کاز کو قابل لحاظ نقصان پہنچایا جب انھوں نے حریفوں کی جانب سے ڈھال کے طور پر استعمال کی جانے والی چند گایوں کو بچایا؛ کیونکہ ان کی بقاء کے نتیجے میں آخرکار ہندو مندروں کی کہیں زیادہ تباہی ہوئی اور ملک بھر میں مسالخ قائم ہوگئے۔
اور ایسے غیرہندو لوگوں کے تعلق سے جو گاؤ ذبیحہ کو مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں، ساورکر نے کہا کہ ہندو لوگ پرستش کے معاملے بدھوپن کا مظاہرہ کئے مگر وہ بے رحم نہ ہوئے۔ اس جانور کو اپنے مذہب کا حصہ سمجھ کر کاٹنے والے نہ صرف بدھو بلکہ اپنے مذہبی جوش میں بے رحم بھی ہوگئے۔ ساورکر کا تاثر رہا کہ اس طرح کی گاؤکشی میں کافی درشتی، احسان فراموشی اور غیرانسانی فطرت کا پہلو ہے۔ انھوں نے غیرہندوؤں سے اپیل کی کہ اپنی ’’گائے سے نفرت‘‘ کو ترک کرتے ہوئے ’’گائے کی نگہداشت‘‘ کا رجحان اپنائیں۔
یہ بھلے ہی پوری طرح ہندوتوا فریم ورک کے اندرون ہے اور کھلے طور پر ہندو راشٹرا کی بات کی جارہی ہے، لیکن آج کے ہندوستان میں نہایت حساس موضوع پر یہ حیران کن طور پر پیچیدہ اور اکثر جگہ ظاہراً متضاد رائے ہے۔ لیکن ساورکر کا خیال شاید دونوں ہی صورتوں میں منفرد بھی ہے مگر گاؤ رکھشکوں اور کیرالا میں بچھڑے کو سرعام ذبح کرنے والے یوتھ کانگریس ورکرس پتہ نہیں اس خیال سے کیا مطلب نکالیں گے۔

 

TOPPOPULARRECENT