Saturday , July 22 2017
Home / مضامین / گائے کو بنا دیا سماجی و سیاسی وجوہات نے ’مقدس‘

گائے کو بنا دیا سماجی و سیاسی وجوہات نے ’مقدس‘

امجد خان
برہمنوں اور غیربرہمنوں کا بیف کھانا ترک کردینا اور برادری سے ٹوٹے ہوئے لوگوں کا اسے جاری رکھنا نئی صورتحال کا نقیب بنا جو پہلے سے بالکلیہ مختلف تھی۔ ظاہری طور پر یہ فرق دیکھنے میں آیا کہ پرانے حالات میں ہر کوئی بیف کھاتا تھا، نئی صورتحال میں ایک گوشہ نہیں کھاتا اور دیگر بدستور کھاتا۔ یہ بڑا نمایاں فرق ثابت ہوا۔ اس نے سوسائٹی کو یوں بانٹ دیا کہ پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ پھر بھی اس سے سماج کی ایسی شدت سے تقسیم نہ ہوتی جو اَچھوت پن کے سبب ہوئی۔ ایسے کئی معاملے ہیں جہاں کسی کمیونٹی کے مختلف گوشے اپنی غذائی پسند یا عادت میں مختلف ہیں۔ کوئی جسے پسند کرے، دیگر اسے ناپسند کرتا ہے لیکن اس سے دونوں کے درمیان کوئی بندش قائم نہیں ہوجاتی ہے۔ لہٰذا ، ضرور کوئی خاص وجہ رہی ہے کیونکہ ہندوستان میں سماجی طور پر مضبوط کمیونٹی اور علحدہ شدہ لوگوں کے درمیان بیف کھانے کے معاملے میں فرق نے دونوں میں بڑی خلیج پیدا کردی۔ اگر بیف کھانا بدستور سکیولر معاملہ تھا یا محض انفرادی غذائی پسند کا معاملہ تو پھر بیف کھانے والوں اور بیف نہ کھانے والوں کے درمیان اس طرح کی بندش پیدا نہ ہوئی ہوتی۔
بدبختی سے بیف کھانے کو خالص سکیولر اور انفرادی معاملہ سمجھنے کی بجائے اسے مذہب کا معاملہ بنایا گیا۔ ایسا اس طرح ہوا کہ برہمنوں نے گائے کو مقدس جانور باور کرایا۔ ظاہر ہے بیف کھانا بے حرمتی قرار پایا۔ علحدہ طبقہ اس بے حرمتی کا مرتکب ہونے کے ناطے ضروری تھا سوسائٹی کے گھیرے سے باہر نکل جائے۔ ہر مذہب میں دو عناصر ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ مذہب مقدس چیزوں سے جدا نہیںہوسکتا ہے۔ دیگر یہ کہ مذہب اجتماعی معاملہ ہے جسے سماج سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ زیادہ تر مقدس چیزیں درجہ کے اعتبار سے غیرمقدس چیزوں کے مقابل برتر ہوتی ہیں۔ وہ بس مختلف ہوتی ہیں۔ مقدس اور غیرمذہبی یا غیرمقدس چیزیں یکساں زمرہ سے تعلق نہیں رکھتے ہیں۔ دونوں کے درمیان نمایاں فرق ہے۔ یہ نکتہ بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ مقدس اشیاء کا دائرہ متعین نہیں ہے۔ یہ مذہب در مذہب لامتناہی طور پر بدلتا رہتا ہے۔ خدا (یا بعض کے نزدیک لارڈ ؍ بھگوان) اور بعض ہستیاں ہی مقدس نہیں بلکہ کوئی پہاڑ، کوئی درخت، کوئی جانور، کوئی موسم، کوئی عقیق یا نگینہ، کوئی لکڑی، کوئی آشیانہ  …  مختصر یہ کہ کچھ بھی مقدس قرار ہوسکتا ہے۔ مقدس چیزیں ہمیشہ ممانعت و بندش سے جڑی ہوتی ہیں جو بہ الفاظ دیگر کسی چیز کو ممنوع قرار دینے کا عمل ہوتا ہے۔
ربط ؍ رابطہ چھونے یا مس کرنے کے علاوہ کئی طریقوں سے قائم ہوسکتا ہے۔ ایک نظر بھی ربط قائم کا ذریعہ ہے۔ اسی لئے بعض معاملوں میں مقدس چیزوں پر نظر ڈالنا غیرمذہبی لوگوں کیلئے ممنوع ہے۔ مثال کے طور پر عورتوں کو بعض چیزیں دیکھنے کی ممانعت ہے جن کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔ کوئی لفظ کی ادائیگی (جو بہ شکل سانس انسانی بدن کا حصہ ہے اور اُس سے باہر آتا ہے) رابطہ کا ایک اور ذریعہ ہے۔ اسی لئے غیرمذہبی لوگوں کیلئے مقدس چیزوں کا بولنا یا پڑھنا منع ہے۔ مثلاً وید کو صرف برہمن ہی پڑھے اور کوئی بھی شودر نہیں۔ ایک نمایاں قریبی ربط وہ ہے جو غذا کے استعمال سے پیدا ہوتا ہے۔ بس اسی کے مدنظر مقدس جانوروں یا ترکاریوں کو کھانے کے خلاف ممانعت ہے۔
’مقدس ‘ سے جڑی بندشوں اور ممانعتوں پر بحث ممکن نہیں۔ وہ بحث و مباحثہ سے بالاتر ہیں اور چوں و چرا کئے بغیر لازماً قبول کئے جانے چاہئیں۔ مقدس چیزیں اس معنی میں ’اَچھوت‘ ہیں کہ یہ ماورائے مباحث ہوتے ہیں۔ بس اس کا احترام اور اس کی تابعداری ہوسکتی ہے۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ مقدس چیزوں سے متعلق ممانعتیں سب پر لاگو ہیں۔ وہ کوئی قول یا اُصول نہیں۔ وہ تو احکام ہیں۔ وہ فرض کے زمرہ میں ہیں لیکن عمومی لفظی مفہوم میں نہیں۔ ان کے خلاف عمل جرم سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ بے حرمتی سمجھا جاتا ہے۔
درج بالا نکات سے معلوم ہوتا ہے کہ ’چھوت چھات‘ دراصل مقدس جانور یعنی کہ گائے کا گوشت کھانے کے خلاف لاگو بندش کو توڑنے کا نتیجہ ہے۔ جیسا کہ کہا جاچکا، برہمنوں نے گائے کو مقدس جانور باور کرایا۔ انھوں نے زندہ گائے اور مردہ گائے میں فرق نہیں کیا۔ بس کہہ دیا کہ گائے مقدس ہے، زندہ یا مردہ۔ بیف کھانا محض جرم نہیں ہوا۔ اگر یہ صرف جرم ہے تو اس کیلئے سزا سے کم کچھ عمل نہیں ہوسکتا۔ بیف کے استعمال کو تو ’بے حرمتی‘ قرار دیا گیا۔ کوئی بھی جو گائے کو غیرمذہبی جانور سمجھے گناہ کا مرتکب ہوا اور سماج میں مل کر رہنے کے لائق نہیں۔ علحدہ شدہ طبقہ جس نے بیف کھانا جاری رکھا ’بے حرمتی‘ کا مرتکب ہوا۔ جب گائے مقدس جانور ہوگئی اور علحدہ شدہ طبقہ نے اُس کا گوشت کھانا نہیں ترک کیا، اس برادری کا بس یہی حشر ہونا تھا کہ انھیں سماج کیلئے ناموزوں یعنی ’اَچھوت‘ بنایا جائے۔
اس نتیجہ پر بعض اعتراضات ہوسکتے ہیں۔ اس طرح کے دو اعتراضات یوں ہیں: ایک یہ کہ کیا ثبوت ہے کہ علحدہ شدہ طبقہ مردہ گائے کا گوشت کھاتا تھا۔ دوسرا یہ کہ انھوں نے بیف کھانا کیوں ترک نہیں کردیا جب برہمنوں اور غیربرہمنوں نے اسے چھوڑ دیا تھا۔ ان سوالات کا چھوت چھات کی شروعات کے نظریہ سے اہم تعلق ہے۔ پہلا سوال مطابقت رکھتا ہے کلیدی بھی ہے۔ اگر علحدہ شدہ طبقہ بہت شروع سے ہی بیف کھاتے رہے تو ظاہر ہے یہ نظریہ قائم نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ اگر وہ ابتداء سے ہی بیف کھانے کے عادی تھے اور اس کے باوجود اچھوت متصور نہیں ہوئے تو یہ کہنا کہ علحدہ شدہ طبقہ بیف کھانے کی وجہ سے اچھوت بن گیا بکواس نہیں تو غیرمنطقی ہوجائے گا۔
دوسرا سوال کلیدی نا سہی مگر مطابقت کا حامل ہے۔ اگر برہمنوں نے بیف کھانا چھوڑ دیا اور غیربرہمنوں نے اُن کی تقلید کی تو کیوں علحدہ شدہ طبقہ نے ایسا نہیں کیا؟ اگر قانون بنایا گیا کہ گاؤکشی بڑا گناہ ہے کیونکہ گائے برہمنوں اور غیرہمنوں کیلئے مقدس جانور بن گئی، تو کیوں علحدہ شدہ طبقہ نے بیف کھانا ترک نہیں کیا؟ اگر وہ بیف کھانا چھوڑ دیتے تو چھوت چھات کا جھنجھٹ نہ ہوتا۔ مندرجہ بالا میں پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ جس دور میں طاقتور سماجی طبقہ اور علحدہ شدہ لوگ دونوں فریقوں میں بیف کھانا مشترک عمل تھا، ایک سسٹم رائے ہوگیا تھا کہ مضبوط طبقہ تازہ بیف کھائے، جبکہ علحدہ شدہ طبقہ مردہ گائے کا گوشت استعمال کرے۔ اس کا اثباتی ثبوت نہیں کہ مضبوط سماجی طبقہ نے کبھی مردہ گائے کا گوشت نہیں کھایا۔ لیکن ایسا منفی ثبوت ہے جو بتاتا ہے کہ مردہ گائے علحدہ شدہ طبقہ کی خاص ملکیت اور استحقاق ہوچکی تھی۔ یہ ثبوت مہاراشٹرا کی مہار کمیونٹی سے حاصل ہوتا ہے۔ وہ مردہ گائے حاصل کرنے کے حق کی بابت روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ حق گاؤں میں انھیں ہر ہندو کے مقابل حاصل رہا۔ اس کا مطلب ہے کوئی ہندو خود اپنا جانور فوت ہوجائے تو اس کا گوشت نہیں کھا سکتا ہے۔ اسے اس کو مہار لوگوں کے سپرد کرنا ہوگا۔ چنانچہ یہ ایک اور انداز کا بیان ہوا کہ جب بیف کھانا عام تھا تب مہار لوگ مردہ گائے اور ہندو برادری تازہ بیف کھاتے تھے۔
ایک یہ سوال بھی اُبھرتا ہے: آیا جو کچھ حال میں صحیح ہے وہ ماضی قدیم میں بھی صحیح تھا؟ کیا یہ حقیقت جو مہاراشٹرا کے تعلق سے صحیح ہے اسے ہندوستان بھر میں مضبوط کمیونٹی اور علحدہ شدہ لوگوں کے درمیان بندش پر بھی لاگو کیا جاسکتا ہے؟ اس سلسلہ میں مہار لوگوں کی عام روایت کا حوالہ دیا جاسکتا ہے ، وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھیں بیدر کے مسلم حکمران کی طرف سے ہندو دیہاتیوں کے خلاف 52 حقوق دیئے گئے۔ حکمرانِ بیدر کی جانب سے حقوق دیئے جانے سے مراد یہ نہیں کہ یہ حقوق بالکلیہ پہلی بار بنائے گئے۔ وہ ضرور ماضی قدیم سے تھے۔ بادشاہِ بیدر نے بس ان کی تصدیق کی۔ اس کا مطلب ہے کہ علحدہ شدہ طبقہ مردہ جانور کا گوشت کھانا اور مضبوطی سماجی برادری تازہ گوشت کھانا ضرور ماضی قدیم سے جاری رواج رہا۔
اس سے پہلا اعتراض دور ہوتا ہے ۔ دوسرے سوال کی بابت غور کیجئے کہ گپتا بادشاہوں نے جو متعلقہ قانون بنایا اس کا مقصد گاؤکشی کو روکنا رہا۔ یہ علحدہ شدہ طبقہ کیلئے نہیں تھا۔ کیونکہ وہ گاؤکشی نہیں کرتے تھے۔ وہ تو مردہ گائے کا گوشت کھاتے تھے۔ لہٰذا ، مردہ گائے کا گوشت کھانے کا عمل جاری رکھنے کی اجازت دی گئی۔
برہمنوں اور غیربرہمنوں کی تقلید علحدہ شدہ طبقہ نے کیوں نہیں کی، اس کا جواب دو پہلو کا ہے۔ اول یہ کہ تقلید بہت مہنگی پڑتی۔ وہ اس کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے۔ مردہ گائے کا گوشت اُن کی اہم غذا رہی۔ اس کے بغیر ان کو فاقہ کشی کی نوبت آجاتی۔ دوم یہ کہ مردہ گائے کو سنبھالے رکھنا ایک فرض بن چکا تھا جو کبھی مراعات والی بات تھی۔ چونکہ وہ مردہ گائے کو لے کر فرار نہیں ہوسکتے تھے، اس لئے وہ اس کا گوشت اسی انداز میں استعمال کرنے میں عار سمجھے جیسے وہ سابق میں کیا کرتے تھے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT