Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / گائے کو قومی جانور قرار دینے پر ہی تحفظ ممکن:ارشد مدنی

گائے کو قومی جانور قرار دینے پر ہی تحفظ ممکن:ارشد مدنی

گاؤ دہشت گردوں کی غیرقانونی حرکتیں ناقابل برداشت ۔ حکومت و عدالتیں مذہبی معاملوں میں مداخلت سے گریزکریں
نئی دہلی ، 10 مئی (سیاست ڈاٹ کام) حکومت کو چاہئے کہ گائے کو قومی جانور کا درجہ دینے پر غور کرے، صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے آج یہ بات کہی اور ساتھ ہی ’گاؤ دہشت گردوں‘ کے تشدد سے ملک میں پیدا شدہ ’’خوف کے ماحول‘‘ پر تشویش ظاہر کی۔ انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ گائے کو قومی جانور کا درجہ دے ، ہم اس کی تائید کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں تشدد کے واقعات کے سبب خوف کا ماحول پیدا ہوگیا ہے جہاں گاؤ دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل بھی ہورہا ہے۔ یہ نوجوان گاؤ دہشت گرد مذہب کا استحصال کرتے ہوئے لوگوں کو لوٹ رہے ہیں، ان کا قتل کررہے ہیں اور قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں۔ ہم ہمارے ہندو بھائیوں کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہیں لیکن کسی کو بھی لا اینڈ آرڈر کی دھجیاں اڑانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ مسئلہ طلاق ثلاثہ کا ذکرکرتے ہوئے جو کل سپریم کورٹ میں زیرغور آنے کا امکان ہے، مولانا مدنی نے کہا کہ یہ مذہبی معاملہ ہے اور اس کا صرف مذہبی حل ہوسکتا ہے۔ ’’اگر سپریم کورٹ اس طرح کا قابل قبول حل پیش کرے تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ لائسنسوں کی تجدید یا نئے لائسنس بنوانے کے لئے کوئی انتباہ یا وقت دیئے بغیر ہی گوشت کی دکانوں اور مسالخ کو بند کر دیا گیا۔ اس کی وجہ سے گوشت کے کاروبار کو بڑا نقصان ہوا ہے ۔اس تمہید کے ساتھ کہ اس وقت مسلمانوں کے تعلق سے سب سے اہم مسئلہ آسام میں غیر ملکی شہریت کا ہے جہاں بعض فرقہ پرست حلقوں نے 1985 کے آسام معاہدے کو منسوخ کرنے کی عرضی داخل عدالت کر رکھی ہے‘ مولانا مدنی نے کہا کہ 1985 کے معاہدے کے تحت شہریت کے لئے قطعی تاریخ25 مارچ 1971 ہے لیکن اب 32 سال بعد پھر 1950کو شہریت کا مسئلہ حل کرنے کی بنیاد بنانا سراسر ناانصافی ہے ۔انہو نے اسی کے ساتھ یہ الزام بھی لگا یا کہ نیشنل رجسٹر آف سیٹیزنس تیار کرنے کا کام بھی جو 90 فیصد ہو چکا تھا، آسام میں بی جے پی حکومت آنے کے بعد روک دیا گیا ہے اس کی وجہ سے کوئی 48 لاکھ شادی شدہ عورتوں کی شہریت خطرے میں پڑ گئی ہے ۔تین طلاق کے معاملے پر مولانا نے کہا کہ حکومت کو کسی کے بھی عائلی معاملے میں راست مداخلت سے گریز کر نا چاہئے اور میڈیاپر بھی لازم ہے کہ وہ ایسی کسی مداخلت کی راہ ہموار نہ کرے ۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا نے کہا کہ طلاق کے محاذ پر اگر کہیں کوئی چیز سمجھ میں نہیں آتی تو حکومتی اور عدالتی ذمہ داران کو چاہئے کہ وہ علما سے سے رجوع کریں۔ علما کی وضاحت کے بعد بھی اگر کہیں استفسار کی ضرورت باقی رہ جائے تودوبارہ رجوع کیا جائے لیکن اس تاثر سے گریز کیا جائے کہ مسلم خواتین کو ہر گھر میں طلاق کے خطرے کا سامنا ہے یا مسلمانوں میں تعدد ازدواج عام ہے ۔ایودھیا تنازعہ کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ مسلمان بابری مسجد سے دستبردار تو ہر گز نہیں ہوں گے لیکن معاملہ چونکہ سپریم کورٹ میں ہے‘ لہذا جوبھی فیصلہ سامنے آئے گا مان لیا جائے گا۔ ا س کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا بیشتر معاملات میں مسلمانان ہندکو انصاف حاصل کرنے میں سپریم کورٹ میں ہی کامیابی ملی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT