Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / گائے کو مقدس جانور قرار دینے کا ہندو سماج کی مذہبی کتابوں میں ذکر نہیں

گائے کو مقدس جانور قرار دینے کا ہندو سماج کی مذہبی کتابوں میں ذکر نہیں

فسطائی طاقتوں کے ماحول خراب کرنے پر تشویش کا اظہار ، ممتاز سماجی جہدکار رام پنیانی و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔6نومبر(سیاست نیوز) ہندوستان کے ممتاز مصنف اور سماجی جہدکار رام پنیانی نے بڑھتی ہندوفسطائیت کو قابلِ تشویش قراردیتے ہوئے کہاکہ گائے کو مقدس جانور قراردیتے ہوئے ہندوفسطائی طاقتیں ہندوستان کی پرامن فضاء کو جس طرح سے خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں اس کا ذکر تو ہندوسماج کی مذہبی کتابوں میںبھی نہیں ہے۔ آج یہاں عثمانیہ یونیورسٹی کے آئی یس یس آر ہال‘ مرکزی لائبریری میں دس طلباء تنظیموں کے زیر اہتمام منعقدہ ایک روزہ طویل ’’ہندوفاشزم‘‘ کے عنوان پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کے دوران رام پنیانی نے کہاکہ ہندوسماج کی مذہبی کتابیں ویداس میں گائے کے متعلق کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کو مارنے یا پھر گائے کے گوشت کے استعمال پر قتل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ رام پنیانی نے ہندوفسطائی طاقتوںکو مذہب کے نام پر ملک کو باٹنے کی کوشش کرنے کا ذمہ دار ٹھرایااورکہاکہ نفرت کی سیاست کو پروان چڑھاتے ہوئے ہندوفسطائی طاقتیں ہندوستان کی ایک اورتقسیم کاکام کررہے ہیں۔ انہوں نے آر ایس ایس کو ہندوفسطائی تنظیموں کی نگران کار تنظیم قراردیتے ہوئے آر ایس ایس میں دوقسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک تو چھاتر یعنی طا لب علم اور دوسرا پرچارک یعنی آر ایس ایس کی نظریات کو عام کرنے والا ۔ رام پنیانی نے کہاکہ یہ ہماری بدبختی ہے کہ آر ایس ایس کے ایک پرچارک نے مہاتما گاندھی کا قتل او ردوسرا پرچاک اٹل بہاری واجپائی کی صورت میں اس ملک کے وزیر اعظم بنے اور اب  آر ایس ایس کا ایک طالب علم دوبارہ اس ملک کو نریندر مودی کی حیثیت سے وزیر اعظم بن کر ہماری قومی سالمیت کے لئے سنگین خطرہ بن رہا ہے۔ رام پنیانی نے ہندومذہب کے تصور کو ہی غلط قراردیا او رکہاکہ ہندو سندھ کے علاقے میں رہنے والوں کو پکار ا جاتا تھا جس کو انگریز وں نے مذہب میںتبدیل کرتے ہوئے نفرت کا بیج بوایاہے۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان میںانگریزوں کی آمد کے بعد ہندوقوم مذہب میںتبدیل ہوگئے جبکہ اس سے قبل یہاں کے لوگ مختلف سماجوں میں بٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ انگریزوں کے بارہا پوچھنے پر ہی برہمن طبقے نے خود کو ہندو مذہب کا ظاہر کرنے پر مجبور ہوگئے۔انہوں نے مزید کہاکہ ویداس میں خاص طور سے ہندو مذہب کی کوئی تشریح موجود نہیں ہے ۔رام پنیانی نے بدھ مت کی بڑھتی مقبولیت کو دبانے کے لئے ہندوازم کو فروغ دینے کا بھی برہمن طبقے پر الزام عائد کیا اورکہاکہ دنیا میں کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہوں وہ اپنے پیغمبر‘ مسینجر یا پیشواء کی پیروی کرتے ہیں سوائے ہندو مذاہب کے جس میں لاکھوں کی تعداد میں دیوی دیوتا ہیں اس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ یہ من گھڑت انداز میںتصور کرلئے گئے ہیںتاکہ حسب ضرورت بٹے ہوئے ہندو سماج کو مذہب کی بنیادوں پر متحد کیاجاسکے اور نفرت پھیلانے کے کام میں بھی آسانی ہوسکے۔سمینار کی افتتاحی تقریب میں رام پنیانی کے علاوہ بی سدرشن‘ بی وجئے بھارتی ‘ اوسا سامبا سیوا رائو نے بھی مخاطب کیا اس کے علاوہ مذکورہ ایک روزہ طویل کانفرنس کے دیگر چار سیشن میں بھی شاہجہاں‘ یوگیش ماسٹر‘ ڈی پربھاکر‘ کوٹی سرینواس گوڑ‘ جان وسلی‘ ویملا پلی وینکٹ ریڈی کتی پدما رائو نے بھی قومی سطح پر بڑھتی عدم رواداری اور فرقہ پرستی کا ہندوفسطائی طاقتو ں کو ذمہ دار ٹھرایا جس کا واحد مقصد ہندوستان کے اقلیتوں ‘ دلتوں اور پچھڑے طبقات کے اندر ڈروخوف کا ماحول پید ا کرنا ہے تاکہ ہندوستان کو ہندوراشٹر بنانے میںکوئی رکاوٹ پیش نہ آئے مگر مقررین نے ہندوفسطائی طاقتوں کے ناپاک عزائم کے خلاف متحدہ جدوجہد کرتے ہوئے جمہوری ہندوستان کی بقاء اور قومی سالمیت کو برقراررکھنے کے بھی عزائم کا اس موقع پر اظہار کیا۔اویو آر ایس‘ او یو ایس اے‘‘ کے این وی پی ایس‘ اے آئی ایس ایف‘ ایس ایف آئی‘ پی ڈی ایس یو‘ ٹی وی ایس ‘ ڈی ایس یو‘ ایم ایس اونے ہندو فاشزم کے عنوان سے مذکورہ کانفرنس منعقد کی تھی جس میںعثمانیہ یونیورسٹی کے سینکڑوں طلبہ نے بھی شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT