Tuesday , April 25 2017
Home / اداریہ / گائے کی سیاست

گائے کی سیاست

بتلا رہی ہیں مجھ کو مری دل کی دھڑکنیں
انجام کچھ تو ہوگا دلِ بے قرار کا
گائے کی سیاست
ملک میں ایسا لگتا ہے کہ گائے کی سیاست ایک بار پھر مرکزی مقام حاصل کرچکی ہے ۔ بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں ساری توجہ صرف اس بات پر مرکوز کی جا رہی ہے کہ گائے کشی روکنے کیلئے کیا کچھ کیا جاسکتا ہے ۔ اس کیلئے ایسے ایسے قوانین بنائے جا رہے ہیں جیسے دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے بنائے جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ اترپردیش میں بی جے پی کی انتخابی کامیابی کے بعد تیز تر ہوگیا ہے ۔ بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں گجرات ‘ مدھیہ پردیش ‘ چھتیس گڑھ وغیرہ میں ایسے قوانین بنائے گئے ہیں جن کے ذریعہ گائے کشی میں ملوث افراد کو نہ صرف عمرقید کی سزا ہوگی بلکہ انہیں سزائے موت بھی دی جائیگی ۔ گذشتہ چند دنوں سے مسلسل گائے کا مسئلہ سرخیوں میں ہے ۔ سارے ملک کی توجہ اسی جانب مبذول ہوکر رہ گئی ہے ۔ اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کے بحیثیت چیف منسٹر حلف لیتے ہی وہاں غیرقانونی مسالخ کو بند کرنے کے نام پر اس سارے کاروبار کو عملا ختم کرنے اقدامات کئے گئے جس سے لاکھوں افراد کا کاروبار اور روزگار مربوط ہے ۔ گاؤ رکھشکوں کی سرگرمیاں پھر سے شدت اختیار کرچکی ہیں۔ بی جے پی ہی کے اقتدار والی ریاست راجستھان میں الوار ضلع میں ایک مسلم شخص کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا گیا ۔ حالانکہ یہ شخص گاؤ کشی میں ملوث نہیں تھا ۔ یہ شخص سرکاری بازار سے گائے خرید کر پورے کاغذات اور رسائد کے ساتھ اسے منتقل کر رہا تھا لیکن گاو رکھشکوں نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو غیرانسانی طریقے سے مارپیٹ کرتے ہوئے ظلم کی انتہا کردی اور یہ شخص جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔ سب سے زیادہ حیرت اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ گائے کیلئے سخت گیر قوانین بنانے والوں کو ایک انسان کی جان کی کوئی پرواہ نہیں رہ گئی ہے ۔ راجستھان کے وزیر داخلہ اس واقعہ کو زد و کوب قرار دیتے ہیں جبکہ اس میں ایک شخص جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔ اس کا ویڈیو سارے ملک میں گشت کر رہا ہے اس کے باوجود مرکزی منسٹر آف اسٹیٹ اقلیتی امور مختار عباس نقوی تو ایسا کوئی واقعہ پیش آنے ہی سے انکار کردیتے ہیں۔ یہ لوگ آخر کس کو جھٹلا رہے ہیں ؟ ۔ کیا حقائق کو اس طرح سے بھی جھٹلایا جاسکتا ہے ؟ ۔ یہ حوصلہ مختار عباس نقوی کے سوا کسی اور کا نہیں ہوسکتا ۔
اس ملک میں انسانوں کو ایسے ایسے مسئلہ درپیش ہیں جن پر توجہ کرنا حکومتوں کی ذمہ داری اور فریضہ ہے ۔ یہاں لوگ دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں۔ غربت و افلاس میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ کسی کو روزگار حاصل نہیں ہے تو کسی کو ادویات دستیاب نہیں ہیں۔ اس ملک میں لاکھوں بچے ایسے بھی ہیں جو تغذیہ بخش غذا سے محروم ہیں اور ان میں لاکھوں بچے غذا کی کمی کی وجہ سے فوت ہوجاتے ہیں۔ اس ملک میںکئی گاوں اور دیہات ایسے ہیں جہاں کے عوام کو آج تک بھی بجلی اور برقی کی سہولت دستیاب نہیں ہے ۔ اس ملک میںکروڑوں گاؤں اور دیہات ایسے ہیں جہاں بیت الخلا کی سہولت نہیں ہے ۔ یہاں بے شمار دواخانے ایسے ہیں جہاں نہ ادویات دستیاب ہیں نہ ڈاکٹرس موجود ہیں۔ یہاں نہ مریضوں کے علاج کی سہولت ہے اور نہ بستر موجود ہیں۔ اس ملک میں کروڑوں نوجوان ایسے ہیں جنہیں روزگار حاصل نہیںہے ۔ اس ملک میں بے شمار خاندان ایسے ہیں جو بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اس کے باوجود ان مسائل پر توجہ دینے کی بجائے ہماری حکومتیں آستھا اور عقیدت کے مسئلوں میں الجھی ہوئی ہیں۔ ملک کے سکیولرا قدار کو ملیامیٹ کیا جا رہا ہے اور ساری سیاست گائے کے گرد گھومنے لگی ہے ۔ کسی ملک میں گائے کے تحفظ کیلئے عمر قید کی سزا کا اعلان کیا جا رہا ہے تو کسی ریاست میں سزائے موت کا قانون بھی بنادیا گیا ہے ۔ شائد ہندوستان ایسا پہلا ملک ہے جو کسی جانور کی جان لینے پر انسان کو سزائے موت سنائیگا ۔
اگر کسی جانور کو کسی مذہب میں مقدس سمجھا جاتا ہے تو یہ اس کے مذہب کا مسئلہ ہے ملک کے قانون اور ملک کے بنیادی ڈھانچہ کا مسئلہ نہیں ہوسکتا ۔ کسی بھی مذہب میں یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ کسی جانور کو بچانے کیلئے انسان کی جان لے لی جائے ۔ چند ماہ قبل ہمارے وزیر اعظم نے بھی ملک کے گاو رکھشکوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور انہیں دھندے باز قرار دیا تھا ۔ اس کے باوجود یہ گاؤ رکھشک پھر سے سرگرم ہوگئے ہیں اور اپنے مقاصد اور عزائم کو گائے رکھشا کے نام پر پورا کرنے میں جٹ گئے ہیں۔ انہیں ریاستی حکومتوں کی راست سرپرستی حاصل ہے ۔ قانون کے رکھوالے بھی ان کے سامنے بے بس اور مجبور نظر آنے لگے ہیں۔ یہ ایسی صورتحال ہے جو انتہائی افسوسناک ہے اور اس کا فوری تدارک ہونا چاہئے ۔ جو قوانین گائے کیلئے بنائے جا رہے ہیں ان کی بجائے اگر انسانوں کی تحفظ کرنے کیلئے اور انہیں بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے قوانین بنائے جائیں تو اس ملک کے عوام کو راحت مل سکتی ہے اور ان کی زندگیاں بہتر ہوسکتی ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT