Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / گائے کے تحفظ کے نام پر انسانیت کا قتل، مسلمان نشانہ

گائے کے تحفظ کے نام پر انسانیت کا قتل، مسلمان نشانہ

…… : سوشیل میڈیا مہم : عوام از خود احتجاج پر اُتر آئے، ٹینک بنڈ پر مظاہرہ :……

گاؤ دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ،مودی حکومت کی پالیسیوں سے ملک کی سالمیت کو خطرہ، سیکولر عوام کی خاموشی بھی تباہ کن ثابت ہوگی

حیدرآباد۔28جون(سیاست نیوز) مرکزی بی جے پی زیر قیادت حکومت کی ملک میں جاری مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم کے خلاف ملک بھرمیں منعقد کئے گئے احتجاج کے دوران شہر حیدرآباد میںآج ٹینک بنڈ پر بھی احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا جس میں شہر حیدرآباد کی سرکردہ سیکولر ذہن کی حامل شخصیات نے حصہ لیتے ہوئے مرکزی حکومت کے رویہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کرنے والی اہم شخصیات نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ مسلمانوں کے خلاف مظالم کرنے والوں کو کھلی چھوٹ فراہم کر رکھی ہے جس کے سبب شمالی ہند میں جو واقعات رونما ہو رہے ہیں ان میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ اس احتجاجی مظاہرہ میں پروفیسر پی ایل ویشویشور راؤ‘ مسٹر اجئے گاندھی‘ جناب سید عزیز پاشاہ ‘ کلپنا کنابیرن‘ لبنی ثروت‘ انورادھا ریڈی‘ پی ۔انورادھا‘ ایڈمیرل رام داس‘ میجر ایس جی ایم قادری‘ مسز چندنا چکرورتی‘مسز سارہ میتھیوز‘ جناب مجاہد ہاشمی‘ جناب محمد امان اللہ خان‘ جناب محمد عبدالنعیم‘ جناب محمد عفان قادری‘ محمد مبشر الدین خرم‘ جناب ثناء اللہ خان‘ محمد عبدالصمد‘ محمد سلیم کے علاوہ سینکڑوں افراد شریک تھے۔ اترپردیش ‘ ہریانہ‘ دہلی کے علاوہ ملک کی دیگر ریاستوں میں گائے کے نام پر مسلمانوں کی ہلاکت کو سنگین رجحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی سیکولر شبیہ کو متاثر کرنے کیلئے کی جانے والی یہ کوششیں ملک کی سالمیت کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ ہندستان بھرمیں مسلمانوں کے خلاف جاری نفرت انگیز مہم کو حکومت کی تائید حاصل ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے شرکاء نے کہا کہ جو حالات پیدا کئے جا رہے ہیں وہ منصوبہ بند سازش کا حصہ ہیں۔ محترمہ لبنی ثروت نے کہا کہ حیدرآباد میں ٹینک بنڈ پر جمع ہوتے ہوئے فرقہ وارانہ یکجہتی و ہم آہنگی کا مظاہرہ کرنے کا مقصد ہندستان کو اس بات کا پیغام دینا ہے کہ مرکزی حکومت یا کوئی فاشسٹ تنظیم ملک کی سالمیت کو خطرہ میں ڈالتی ہے تو ایسی صورت میں ہم خاموش نہیں رہیں گے بلکہ ملک بھر کے مختلف شہرو ںمیں ہونے والے اس احتجاجی مظاہرہ سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ہندستانی عوام ان حالات سے شدید نالاں ہیں۔ جناب سید عزیز پاشاہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کو ہندو راشٹر بنانے کی سازش کو ناکام بنانے کیلئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے ساتھ ان عناصر کے خلاف آوازاٹھانے کی ضرورت ہے۔

 

جناب سید عزیز پاشاہ نے کہا کہ ملک میں ان حالات پرخاموشی اختیار کرنے والو ںکو بھی تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی کیونکہ یہ حالات ہندستان کو ایسے دو راہے پر لا کھڑا کر چکے ہیں جہاں ملک کی دوسری بڑی آبادی میں احساس عدم تحفظ پیدا ہونے لگا ہے۔پروفیسر پی ایل ویشویشور راؤ نے کہا کہ اس مظاہرہ کا مقصد ہندستان کو بچانا ہے اور اگر سیکولرعوام خاموش رہتے ہیں تو ایسی صورت میں ہندستان کے دستور پر حملہ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ دستور ہند میں دیئے گئے اختیارات ملک میں امن و آشتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی روح ہے اسی لئے اگر ملک کی سلامتی چاہتے ہیں تو ایسی صورت میں روح کی حفاظت کے لئے فوری اٹھ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔ مسٹر اجئے گاندھی ’منتھن‘ نے بتایا کہ ہندستان میں ایک مخصوص طبقہ کے خلاف نفرت انگیز مہم کے سبب جو حالات پیدا ہو رہے ہیں انہیں اگر فوری نہ روکا گیا تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ احتجاجی مظاہرہ کے شرکاء نے کہا کہ ہندستان میں جانور کے نام پر ہو رہے انسان کے قتل پر حکومتوں کی خاموشی یہ ثابت کر رہی ہے کہ ملک میں دستور کی نہیں بلکہ ایک منافرت والے نظریہ کی حکمرانی کا دور چل رہا ہے ۔ ہندستان میں موجود چند مٹھی بھر افراد جو نفرت کی سیاست کے قائل ہیں انہیں جواب دینا ہندستان کے اصول پسند عوام کی ذمہ داری ہے اور انہیں ہر محاذ پر جواب دیا جائے گا۔گائے کے نام پر جاری قتل کے واقعات میں ہو رہے اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شرکاء نے کہا کہ انسانیت سوز قتل کے واقعات پر حکومت کی خاموشی قاتلوں کی طرفداری کے مترادف ہے کیونکہ مقتول کو انصاف حاصل نہیں ہو رہا ہے اور حکومت کی جانب سے آزادیٔ غذا پر بالواسطہ حملوں کے ذریعہ ان قاتلوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے ۔جھارکھنڈ‘ ہریانہ‘ اترپردیش‘ گجرات‘ دہلی‘ اور ملک کے دیگر حصوں میں دلتوں اور مسلمانوں کے خلاف جاری مہم ملک میں حالات کو بگاڑنے کی سازش ہے۔ مظاہرین کو پولیس کی جانب سے جبری طور پر عوامی مقام پر جمع ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے وہاں سے منتقل کرنے کی کوشش کی گئی جس پر مظاہرین نے ٹینک بنڈ پر مارچ شروع کردیا اور امبیڈکر کے مجسمہ تک مارچ کرتے ہوئے پولیس کے رویہ کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا۔محکمہ پولیس کی جانب سے ملک کی سلامتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے جمع ہونے والوں کو روکنے کیلئے زیادتی کرتے دیکھا گیا اور کئی مظاہرین کے ہاتھوں سے پلے کارڈز اور بیانرس چھین لئے گئے۔

 

TOPPOPULARRECENT