Tuesday , June 27 2017
Home / سیاسیات / گائے کے نام پر افتاد کے باوجود بی جے پی کے قدم مضبوط

گائے کے نام پر افتاد کے باوجود بی جے پی کے قدم مضبوط

کانگریس لوک سبھا نشستوں اور چند ریاستوں تک محدود، بی جے پی کا ادعا
نئی دہلی، 24 مئی (سیاست ڈاٹ کام) پچھلے تین برسوں میں ہریانہ ،مہاراشٹر، جھارکھنڈ، آسام، اتراکھنڈ، منی پور، گوا اور سب سے بڑھ کر سیاسی طور پر اہم ریاست اترپردیش میں اپنے وزرائے اعلی کو بٹھانے والی بی جے پی نے 2014 کے لوک سبھا الیکشن کے بعد اپنا قد مرحلہ وار بلند کیا اور اس تاثر کو تقویت بخشی کہ وزیراعظم نریندر مودی ہی ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں اور بی جے پی اب پورے ہندستان میں اپنے وجود کے ساتھ موجود ہے ۔خاص طور پر اترپردیش کی کامیابی نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے تعلق سے بی جے پی کے امکانات روشن کردیئے ہیں۔ اترپردیش کو لوک سبھا میں 80 سیٹوں کی نمائندگی حاصل ہے اور سابقہ عام انتخابات میں اس سیاسی طور پر حساس ریاست نے بی جے پی کے 71 ممبروں کو لوک سبھا پہنچایا تھا۔ مشاہدین کے مطابق بظاہر بی جے پی ہندستان اور بیرون ہند اپنی دائیں بازو کی سیاست کے ساتھ اسوقت چھائی ہوئی ہے ۔ بہتوں کا خیال ہے کہ بین الاقوامی منظرنامے پر ڈونالڈ ٹرمپ کے ابھرنے سے ایک نیا عالمی منظر نامہ مرتب ہونے جارہا ہے ۔ بیرون ملک ہندستانی مشن کے سربراہوں کی ایک چار روزہ کانفرنس میں یہ بات شدت سے محسوس کی گئی کہ عالمی سطح پر دائیں بازو کی سیاست کی جو لہر چلی ہے وہ ابھی اسی طرح چلتی رہے گی یہ ایک نیا منظرنامہ ہے اور ہندستان کی حیثیت استثناعی نہیں ہے۔ بعض سفیروں اور ریٹائرڈ سفارتکاروں کا بہرحال کہنا ہے کہ گئو رکشکوں کے ایپی سوڈ جیسے واقعات نے بلاشبہ ہندستان کی شبیہ بگاڑی ہے ۔ ایک باخبر ذریعہ نے یو این آئی کو بتایا کہ گئو رکشکوں کی حرکتوں اور دائیں بازو کی سیاست وقفے وقفے سے زیربحث آئی ہے ۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ حکومت دائیں بازو والوں کی حد سے سوا سرگرمیوں کی تائید کرتی ہے لیکن اس طرح کے واقعات سے ہندستان کی شبیہ ضرور بگڑ رہی ہے ۔ سیاسی طور پر پچھلے تین برسوں میں بی جے پی کے عروج کا براہ راست نقصان کانگریس کو پہنچاہے جو اب چند ریاستوں تک محدود رہ گئی ہے ۔ اس کی جھولی میں سب سے بڑی ریاست کرناٹک ہے ۔  2014 میں لوک سبھا میں 44 سیٹوں تک محدود ہوکر رہ جانے والی کانگریس اسوقت کرناٹک اور پنجاب کے علاوہ میزورم اور الیکشن کے موڑ پر کھڑی ریاست میگھالیہ میں برسراقتدار ہے ۔ ابھی پچھلے سال تک کانگریس کے پاس چھ ریاستیں تھیں۔ لیکن ان میں دو ریاستیں اترکھنڈ اور گوا اس کے ہاتھ سے نکل گیئں۔ بی جے پی لیڈروں کا کہنا ہے کہ آسام ، منی پور اور یوپی کی انتخابی کامیابیوں نے قومی سیاست کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا ہے اور بی جے پی کو اپنا دائرہ اختیار بڑھانے کی حکمت عملی بروئے کار لانے کے محاذ پر اعتماد حاصل ہوا ہے ۔ پچھلے ایک سال میں خاص طور پر یو پی الیکشن کے بعد گزرنے والے مہینوں میں بی جے پی نے اپنا ارادہ واضح کردیا ہے کہ وہ ان ریاستوں کو بھی فتح کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گی جہاں علاقائی پارٹیوں کی جڑیں مضبوط ہیں۔ اپریل میں بی جے پی نے بھونیشور میں اپنی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ کرکے نوین پٹنائک کی قیادت والی ریاست اوڈیشہ کا محاذ کھول دیا ہے ۔ بی جے پی کے صدر ہمیشہ تلنگانہ اور تریپورہ کے دورے کررہے ہیں ۔ وہ ان دونوں ریاستوں سے بالترتیب ٹی آر ایس اور مارکسی حکومتیں ختم دیکھنا چاہتے ہیں۔ پارٹی لیڈر کیلاش وجے ورگیہ نے یو این آئی کو بتایا کہ آسام کی انتخابی کامیابی ایک نیا موڑ ثابت ہوئی۔ اس کا قومی سیاست سے زبردست اثر پڑا اسکے بعد یوپی کے نتائج اور منی پور او ر گوا میں حکومت سازیوں نے بی جے پی کے ورکروں کے حوصلے انتہائی بلند کردیئے جس سے 2019 کے انتخابات میں خاطر خواہ فائدہ پہنچے ۔دوسری طرف پنجاب میں کامیابی کے باوجود کانگریس کے تعلق سے بی جے پی لیڈروں کا کہنا ہے کہ کانگریس کی حکمت عملیوں میں تبدیلی کی ضرورتیں زیربحث تو ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ کہیں کچھ ہوتا نظر نہیں آرہا ہے ۔کانگریس کے حاشیے پر پہنچ جانے سے بی جے پی قومی سیاست میں محوری حیثیت کی حامل ہوگئی ہے ۔ سی پی اپم کے ساتھ معاملات میں ترنمول کانگریس جیسی علاقائی پارٹیوں کی موقع پرستی نے تریپورہ میں ٹی ایم سی کو کمزور کیا ہے ایسی ہر کمزوری کا بی جے پی کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ یہ خیال بی جے پی میں نئے نئے شامل ہونے والے سابق ترنمول لیڈر گوتم وشواس نے ظاہر کیا۔ جے للیتا کے بعد سیاسی خلاء کو پُر کرنے کیلئے بی جے پی نے معروف اداکار رجنی کانت کو اپنا حامی بنانے کی کوشش کی۔ تمل بی جے پی لیڈر ایل گنیشن نے کہاکہ ‘پہلے رجنی کانت کو یہ فیصلہ کرنے دیں کہ کیا وہ سیاست میں آنا چاہتے ہیں۔ بی جے پی اچھے لوگوں کا خیرمقدم کرتی ہے ‘۔ معروف اداکار کی طرف سے وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف اور زعفرانی پارٹی کی طرف جھکاؤ سے یہ قیاس آرائی ہوئی کہ بی جے پی میں شامل ہوسکتے ہیں۔تاہم ، ملک گیر سطح کے منصوبہ کے تحت زعفرانی پارٹی کو کچھ چیلنجوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس میں سب سے زیادہ نظریاتی تنازع کے سبب ہیں۔
‘اچھے دن’ سے متعلق بھی سوال اٹھ رہے ہیں جس میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ حکومت نے ایسی کچھ خاص کامیابی حاصل نہیں کی ہے ، خصوصاً اوسط درجہ کے لوگوں کو نوکری دینے سے متعلق۔اے آئی سی سی کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا ہے کہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے ) نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھاکہ ہر سال دو کروڑ بے روزگاروں کو نوکری دی جائے گی۔ جبکہ حقیقتا لوگ اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT