Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / گاندھی، نہرو، امبیڈکر این آر آئیز رہے: راہول

گاندھی، نہرو، امبیڈکر این آر آئیز رہے: راہول

 

نئی دہلی 22 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے ہندوستان کی جدوجہد آزادی کے نمایاں قائدین کو ’’این آر آئیز‘‘ (غیر مقیم ہندوستانی) قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کا وجود ’’این آر آئی تحریک‘‘ سے ہوا۔ راہول نے گزشتہ روز کہاکہ اصل کانگریس تحریک این آر آئی موؤمنٹ رہی۔ گاندھی جی این آر آئی تھے، جواہرلال نہرو انگلینڈ سے واپس ہوئے تھے، امبیڈکر، آزاد، پٹیل یہ تمام غیر مقیم ہندوستانی تھے۔ گاندھی سپوت نیویارک میں کانگریس پارٹی کے این آر آئی حامیوں کے جلسہ سے مخاطب تھے جہاں لگ بھگ 2 ہزار افراد شریک ہوئے۔ امریکہ کو راہول کے دو ہفتے طویل دورہ کا یہ قطعی مرحلہ ہے۔ قوم کے بانیان کے بارے میں اپنی غیر روایتی رائے کے تعلق سے وضاحت کرتے ہوئے راہول نے کہاکہ اُن میں سے ہر ایک بیرونی دنیا کے سفر پر گیا، بیرونی دنیا کا مشاہدہ کیا، ہندوستان واپس ہوا اور بعض نظریات کو بروئے کار لایا جو اُنھیں حاصل ہوئے تھے اور اس طرح ہندوستان کو بدلا۔ اُنھوں نے کہاکہ اس طرح کے ہزارہا این آر آئیز ہیں جن کے ہندوستان کے لئے رول کو تسلیم کیا جانا باقی ہے۔ ’سفید انقلاب‘ کے بانی ورگھیز کورین کی مثال پیش کرتے ہوئے راہول گاندھی نے نشاندہی کی کہ اُن کا تعلق بھی غیر مقیم ہندوستانی کے زمرہ سے رہا۔ ہندوستان کی سب سے بڑی کامیابیوں میں شامل یہ انقلاب جو دودھ سے متعلق ہے، جسے زیادہ تر ہندوستان پیتا ہے، یہ مسٹر کورین کا کارہائے نمایاں ہے جو این آر آئی ہی تھے۔ وہ امریکہ سے آئے اور ہندوستان کو بدلنے کی کوشش کی۔ ایسی ہزاروں مثالیں ہیں جن کا ہم کو اعتراف کرنا ہے۔ اُنھوں نے امریکہ میں ہندوستانی برادری کے رول کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ محض اِس لئے کہ وہ بیرونی سرزمین پر مقیم ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ اُن کے آبائی ملک میں اُنھوں نے کچھ حصہ ادا نہیں کیا۔ راہول نے اُنھیں ہندوستان کی اہم طاقت قرار دیا۔ کانگریس لیڈر نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ اِس ملک (امریکہ) میں آپ کہیں بھی دیکھیں کوئی نہ کوئی ہندوستانی فرد امریکہ کے لئے کام کررہا ہے۔

وہ بیک وقت ہندوستان کے لئے بھی کام کررہا ہے۔ وہ امن سے زندگی گزارتے ہوئے نہ صرف اِس ملک بلکہ اپنے وطن کی تعمیر میں بھی حصہ لے رہا ہے۔ آپ درحقیقت ہمارے ملک کی طاقت ہیں۔ بعض لوگ ہندوستان کو صرف جغرافیائی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں لیکن میں انڈیا کو مختلف آئیڈیاز کا مجموعہ سمجھتا ہوں۔ لہذا میرے لئے کوئی بھی فرد جس کے پاس ہندوستان کے لئے مفید نظریات ہوں وہ ہندوستانی ہے۔ یہ ریمارکس بی جے پی زیرقیادت مرکزی حکومت پر اُن کی متواتر تنقیدوں کا سلسلہ ہے، جس کے تعلق سے راہول کا دعویٰ ہے کہ وہ انتشار پسند سیاست پر عمل پیرا ہیں اور اِس کی وجہ سے ہندوستان میں رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی خطرے میں ہے۔ راہول نے کہاکہ امریکہ کو اپنے 14 روزہ ٹور کے دوران اُنھوں نے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے بات کی چاہے وہ طلباء ہوں، دانشور ہوں یا سیاستدان۔ ان تمام نے ہمارے ملک میں فرقہ وارانہ تشدد اور عدم رواداری کی بڑھتی حرکتوں پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ ’’سب سے بڑی واحد بات جو لوگوں نے مجھ سے کہی یہ ہے کہ رواداری کا کیا حشر ہوگیا جو کبھی ہندوستان میں طرۂ امتیاز ہوا کرتی تھی۔ ہندوستان میں سماجی ہم آہنگی کو کیا ہوگیا ہے۔ ہندوستان میں انتشار پسند سیاست چلائی جارہی ہے‘‘۔ کانگریس کے نائب صدر نے مرکز کو اُس کی متعدد ناکامیوں کی وجہ سے نکتہ چینی کا نشانہ بنایا جن میں ملک کے نوجوانوں کے لئے نوکریاں پیدا کرنے میں ناکامی شامل ہے۔ ہندوستان کو درپیش حقیقی چیالنج یہ ہے کہ 30,000 نوجوانوں کو روزگار کی تلاش ہے اور صرف 450 کو جاب حاصل ہورہا ہے۔ آپ تصور کرسکتے ہیں کہ اِس طرح کے حالات کا کیا نتیجہ ہوگا۔ ہندوستان اگر اپنے نوجوانوں کو نوکری دینے سے قاصر رہے تو کسی بھی ویژن کے تعلق سے نہیں سوچ سکتا۔

TOPPOPULARRECENT