Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / ’ گاندھی جی سے زیادہ بہتر برانڈ نریندر مودی‘

’ گاندھی جی سے زیادہ بہتر برانڈ نریندر مودی‘

Haryana Health Minister Anil Vij addressing to media during Vidhan Sabha Session in Chandigarh on Wednesday, March 30 2016. Express photo by Jasbir Malhi

تصویر سے کھادی کو فائدہ نہیںہوا ، کرنسی کی قدر بھی گھٹ گئی۔ ہریانہ کے وزیر انیل وج کے متنازعہ ریمارکس اور احتجاج کے بعد دستبردار

انبالہ ۔ /14 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ہریانہ کے ایک وزیر انیل وج نے اپنے ان ریمارکس سے ایک سنگین تنازعہ پیدا کردیا کہ نریندر مودی مہاتما گاندھی سے ’’بہتر برانڈ‘‘ ہیں کیوں کہ مہاتما گاندھی کی تصویر سے کرنسی کی قدر گھٹ گئی اور کھادی کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہوسکا ۔ ان ریمارکس پر بڑے پیمانے پر تنقید و برہمی کااظہار کیا جارہا ہے ۔ حتی کہ بی جے پی نے بھی اس کی مذمت کی ۔ بعد ازاں وزیر نے اپنے ریمارکس کو واپس لے لیا ۔ ہریانہ میں بی جے پی کے اس سینئر لیڈر نے جن کے لئے تنازعات کوئی نئی بات نہیں ہے کہا تھا کہ ’’ یہ تو اچھا ہی ہوا کہ کھادی و دیہی صنعتی کمیشن (کے وی آئی سی) کے کیلنڈر اور ڈائری سے گاندھی کی تصویر ہٹادی گئی اور اس کی جگہ وزیراعظم نریندر مودی کی تصاویر شامل کی گئی ۔ کیونکہ مودی ایک بہتر برانڈ ہیں ‘‘ ۔

انہوں نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ کرنسی نوٹوں سے گاندھی کی تصویر بتدریج ہٹادی جائے گی ۔ مہاتما گاندھی کے پڑ پوتے تشار گاندھی نے انیل وج کے متنازعہ ریمارکس کی مذمت کی اور الزام عائد کیا کہ یہ ( بی جے پی) ہائی کمان کی طرف سے شروع کردہ منظم مہم ہے اور ہریانہ کے وزیر دراصل آر ایس ایس کی زبان میں بات کررہے ہیں ۔ کانگریس نے کہا کہ گاندھی کا قتل کیا جاسکتا ہے ۔ ان کی تصاویر ہٹائی جاسکتی ہیں لیکن وہ ہندوستان کی روح میں زندہ و تابندہ رہیں گے ‘‘ ۔ مودی کی تصویر پر پیدا شدہ تنازعہ کے بارے میں انیل وج نے جو حلقہ انبالہ کنٹونمنٹ سے پانچویں مرتبہ بی جے پی رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں اخباری نمائندوں سے کہا کہ ’’کھادی پر گاندھی جی کے نام کا پیٹنٹ نہیں کیا گیا ہے ، کھادی سے چونکہ گاندھی کا نام منسلک تھا اس لئے کھادی کو ترقی حاصل نہ ہوسکی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’کرنسی نوٹوں پر جب گاندھی کی تصویر شائع کی گئی کرنسی کی قدر بھی گھٹ گئی‘‘۔ انہوں نے اخباری نمائندوں کے مختلف سوالات پر جواب دیا کہ ’’گاندھی کے بجائے مودی کی تصاویر کا استعمال ایک اچھا قدم ہے ۔ مودی دراصل گاندھی سے بہتر برانڈ ہیں ۔ مودی برانڈ نام کے ساتھ کھادی کی فروخت میں اضافہ ہورہا ہے‘‘ ۔ اس سوال پر کہ نوٹ بندی کے بعد متعارف کردہ نئے کرنسی نوٹوں پر گاندھی کی تصویر کیوں برقرار رکھی گئی ۔ انیل وج نے جواب دیا کہ یہ (گاندھی کی تصویر) بتدریج ہٹادی جائے گی ۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجیوالا نے ان ریمارکس پر مودی حکومت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھی وہی کررہی ہے جو برطانوی سامراجیوں نے کیا تھا ۔ سرجیوالا نے مزید کہا کہ ’’آپ افراد اور اداروں کو پامال کریں ۔ آپ اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو اقتدار کی طاقت کے ذریعہ کچلنے کی کوشش کریں‘‘۔ لیکن مودی جی ، انیل وج اور بی جے پی یہ یاد رکھیںکہ آپ انہیں (مہاتما گاندھی کو) ہلاک کرسکتے ہیں ۔

آپ ان کی تصاویر ہٹاسکتے ہیں ۔ آپ مہاتما گاندھی کو بُرا بھلا کہہ سکتے ہیں لیکن گاندھی ہمیشہ ہندوستان کی روح میں باقی و برقرار رہیں گے‘‘۔ ہریانہ کے چیف منسٹر منوہر لال کھتر نے فوری طور پر خود کو اس تنازعہ سے دور کرلیا اور کہا کہ وزیر نے اپنی شخصی حیثیت میں یہ ریمارکس کئے ہیں ۔ پارٹی اس سے اتفاق نہیں کرتی اور ان ریمارکس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ بعد ازاں انیل وج نے بھی ان ریمارکس سے دستبرداری اختیار کرلی ۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’’گاندھی جی کے ضمن میں میری طرف سے جو بیان دیا گیا تھا وہ میری شخصی حیثیت میں دیا گیا تھا ۔ کسی کے جذبات کو مجروح ہونے سے بچانے کیلئے میں ان سے دستبردار ہورہا ہوں ‘‘ ۔ ہریانہ کے چیف منسٹر کھتر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران وج کے ریمارکس کے بارے میں سوال پر جواب دیا کہ ’’انیل وج ہمارے ایک سینئر وزیر ہیں جو پوری ذمہ داری کے ساتھ بیان دیا کرتے ہیں لیکن اپنی شخصی حیثیت کے مطابق کچھ کہا ہے تو اس کو پارٹی سے مربوط نہیں کیا جاسکتا‘‘ ۔ آر جے ڈی کے سربراہ لالو یادو نے کہاکہ ’’ملک کے لئے یہ بات انتہائی بدبختانہ ہے کہ گاندھی جی کی توہین کی جارہی ہے ‘‘ ۔ تشار گاندھی نے بابائے قوم کے خلاف توہین آمیز ریمارکس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف وج کی آواز نہیں ہے بلکہ ہائی کمان کی طرف سے یہ ایک انتہائی منظم مہم ہے ۔ تشار گاندھی نے مزید کہا کہ ’’جس نظریہ نے باپو کا قتل کیا اب وہ ان کی وراثت کو داغدار بنارہی ہے ۔ یہ محض اس حکمت عملی کا ہی حصہ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT