Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / گاندھی ہاسپٹل میں علاج کے لیے آن لائن او پی جاری کئے جائیں گے

گاندھی ہاسپٹل میں علاج کے لیے آن لائن او پی جاری کئے جائیں گے

لائن میں نہیں آن لائن میں آئیں
گاندھی ہاسپٹل میں علاج کے لیے آن لائن او پی جاری کئے جائیں گے
حیدرآباد ۔ 3 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : گاندھی ہاسپٹل میں آوٹ پیشنٹ او پی کا ونٹرس کے پاس ہونے والی ہمیشہ کی بھگڈر پر اب روک لگ رہا ہے ۔ کیوں کہ عہدیداران نے کارپوریٹ ہاسپٹلس کے جیسا ہی مریضوں کو سرکاری علاج فراہم کرنے کے انتظامات کررہے ہیں ۔ گاندھی دواخانہ میں روزانہ صبح 8 بجے او پی کاونٹرس اپنا کام شروع کردیتے ہیں ۔ فی الحال او پی کارڈ حاصل کرنے کے لیے صبح 7 بجے سے لائن میں کھڑے ہو تو ایک تا دیڑھ گھنٹہ انتظار کے بعد او پی کارڈ کا حصول اور کارڈ حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹرس سے رجوع ہو کر دواخانہ سے باہر آنے تک دوپہر ہوجاتی ہے ۔ گیاسٹرو انٹرالوجی ، سرجیکل گیاسٹرو انٹرالوجی ، نیورالوجی ، کارڈیالوجی ، جیسی اہم علاجوں کی او پی ہفتہ میں دو یا تین دن ہی کام کرتے ہیں ۔ اگر ان متعینہ ایام میں او پی نہ ملنے پر مریض کو آئندہ ہفتہ تک انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ گزشتہ چند دن سے گاندھی ہاسپٹل کے ساتھ ساتھ عثمانیہ ، نمس ، نیلوفر ، پیٹلہ برج میٹرنیٹی ہاسپٹل اور دیگر سرکاری دواخانوں میں بھی یہی حالات ہیں ۔ اسی لیے عہدیداران نے آن لائن او پی سسٹم کو متعارف کرنے کے اقدامات کررہے ہیں جس سے مریضوں کو کچھ حد تک راحت پہونچنے کے امکانات ہیں ۔۔
فی الحال کا طریقہ عمل
فی الحال گاندھی میں کسی بھی طرح کے علاج کے لیے سب سے پہلے او پی میں رجسٹر کرانا پڑتا ہے ۔ آن لائن طریقہ کار عمل میں آنے سے مریضوں کے مسائل کم ہونے کی امید ہے ۔ آن لائن میں قبل از وقت اندراج کرا کے او پی رسید حاصل کرسکتے ہیں اور اس رسید کے ذریعہ بالراست ڈاکٹرس سے رجوع ہو کر علاج کرواسکتے ہیں اور آن لائن سسٹم سے ناواقف افراد کے لیے دواخانہ ہی میں او پی سنٹرس سے کارڈ جاری کئے جائیں گے ۔ گاندھی دواخانہ میں روزانہ مریضوں کی کثیر تعداد میں رجوع ہونے کی وجہ سے دواخانہ کے اندرونی حصہ میں واقع او پی کاونٹرس کے پاس بڑا ہجوم جمع ہورہا ہے ۔ جس کی وجہ سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا درپیش ہے ۔ اسی لیے اندرونی حصہ سے او پی کاونٹرس برخاست کر کے باب الداخلہ کے پاس ہی قائم کئے جائیں گے اور ان او پی سنٹرس کے لیے وہاں پر شیڈس تعمیر کر کے تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی اور ان شیڈس میں کل 10 کاونٹرس قائم کئے جائیں گے جن میں مرد و خواتین کے لیے مساوی کاونٹرس تقسیم کئے جائیں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT