Wednesday , October 18 2017
Home / ہندوستان / گاؤشالہ میں مسلم شخص نے خود کو آگ لگالی چارہ کی فروختگی پر اسٹاف کی ہراسانی کا نتیجہ

گاؤشالہ میں مسلم شخص نے خود کو آگ لگالی چارہ کی فروختگی پر اسٹاف کی ہراسانی کا نتیجہ

بتھنڈا (پنجاب) 13 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) مذہبی عدم رواداری کا ایک اور واقعہ آج منظر عام پر آیا جہاں ایک 40 سالہ شخص نے گاؤشالہ میں اقدام خودسوزی کی کیوں کہ مذہبی وابستگی کی بناء اسے اسٹاف کے بعض ارکان مسلسل ہراساں کررہے تھے۔ پولیس نے بتایا کہ عید محمد نے خودسوزی کرلی جس میں 60 فیصد تک جھلس گیا ہے۔ اسے گرو گوبند سنگھ میڈیکل کالج فرید کوٹ میں شریک کیا گیا جہاں اس کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ عید محمد نے بال گوپال گاؤ شالہ کے ملازمین کے ساتھ گرما گرم بحث کے بعد خود کو آگ لگالی۔ گاؤشالہ کا یہ اسٹاف عید محمد کے گائے کا چارہ فروخت کرنے پر اعتراض کررہا تھا۔ بتھنڈا سیول ہاسپٹل میں جوڈیشیل مجسٹریٹ کے روبرو بیان قلمبند کراتے ہوئے عید محمد نے بتایا کہ گاؤ شالہ کے بعض ملازمین اسے مسلسل ہراساں کررہے تھے۔ وہ مذہبی وابستگی کی بناء نہیں چاہتے کہ یہاں گایوں کے لئے چارہ سربراہ کرے۔ اس بیان کی بنیاد پر پولیس نے 32 سالہ مونو کے خلاف مقدمہ درج کرلیا جو گاؤشالہ کا ملازم ہے۔ تحقیقاتی عہدیدار کرم سنگھ نے بتایا کہ ملزمین اس شخص کو چارہ فروخت کرنے پر مسلسل ہراساں کررہے تھے۔ عید محمد یہاں گاؤشالہ کے شیڈ میں چارہ فروخت کیا کرتا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ایک ماہ قبل اسے دکان منتقل کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ پیر کو اس کی بیوی اور سالے کی مونو کے ساتھ گرما گرم بحث ہوگئی تھی۔ عید محمد کا کہنا ہے کہ چارہ فروخت کرنے کی اجازت کی بناء وہ گاؤشالہ کو کمیشن دیا کرتا تھا تاہم گوشالہ منیجر ہندراج سنگلا نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جبکہ حال ہی میں دادری میں 50 سالہ محمد اخلاق کو محض گائے کا گوشت گھر میں رکھنے کی افواہ کی بناء ہجوم نے بے رحمی کے ساتھ ہلاک کردیا تھا۔ اس حملہ میں ان کا بیٹا بُری طرح زخمی ہوگیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT