Wednesday , May 24 2017
Home / کھیل کی خبریں / گاؤں میں خواتین کا موبائیل استعمال کرنا ممنوع

گاؤں میں خواتین کا موبائیل استعمال کرنا ممنوع

فراری کے واقعات میں سیل فون سے مدد ملتی ہے، کھپ پنچایت کا تاثر
نئی دہلی 4 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے مدورا ٹاؤن میں خواتین پر برسر عام موبائیل فون استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے جو مرد لوگوں کے ساتھ اُن کے رابطے پر تحدید عائد کرنے کی کوشش ہے۔ پولیس نے بتایا کہ اِس بات کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے کا منصوبہ ہے۔ گاؤں کے دانشمند لوگوں کا فیصلہ ہے کہ کوئی بھی عورت جو اپنے مکان سے باہر موبائیل کا استعمال کرتی ہوئی پائی جائے اُسے 21 ہزار روپئے کا جرمانہ ہوگا  جو عام دیہاتی لوگوں کے لئے ہفتوں مہینوں کی کمائی ہوا کرتی ہے۔ یہ فیصلہ مسلم اکثریتی گاؤں میں ہوا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ اُنھیں کھپ پنچایت کے اِس فیصلہ کی اطلاع ملی جس میں خواتین پر موبائیل فون کے استعمال کی پابندی عائد کی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اِس طرح کے احکام دستور کے مغائر ہیں اور ضروری کارروائی کی جائے گی۔ بے قاعدہ ولیج کونسلوں کو کھپ پنچایت کہتے ہیں۔ اِسی طرح کی مدورا کی کونسل کا ماننا ہے کہ موبائیل فونس انبیاہی لڑکیوں اور عورتوں کو گھر سے فرار ہونے میں مدد کرتے ہیں۔ متعلقہ پولیس عہدیدار ارون کمار سنگھ نے کہاکہ جہاں تک ناجائز تعلقات کا معاملہ ہے ہم گاؤں والوں کے جذبہ سے اتفاق کرتے ہیں لیکن وہ دستور اور قانون کے منافی کوئی احکام اپنے طور پر لاگو نہیں کرسکتے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT