Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / گاؤ رکھشکوں کو غیر سماجی عناصر قرار دینے سے ہندوؤں کی توہین

گاؤ رکھشکوں کو غیر سماجی عناصر قرار دینے سے ہندوؤں کی توہین

ملک بھر میں ذبیحہ گاؤ، منتقلی اور فروخت پر پابندی کیلئے قانون سازی کا مطالبہ: توگاڑیہ
نئی دہلی 13 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) وشوا ہندو پریشد نے آج گاؤ رکھشکوں کے خلاف وزیراعظم نریندر مودی کے ریمارکس پر شدید اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ انھیں غیر سماجی عناصر سے تعبیر کرتے ہوئے توہین کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گاؤ رکھشکوں سے فی الفور بات چیت کرے۔ وی ایچ پی کے بین الاقوامی کارگذار صدر ڈاکٹر پروین توگاڑیہ نے کہا ہے کہ گاؤ رکھشکوں کے خلاف کارروائی کے لئے ریاستوں کو وزیراعظم کی جانب سے ہندوؤں میں برہمی پیدا ہوگئی ہے کیوں کہ سابق میں ہندوؤں نے ہی مویشیوں کے تحفظ کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ وزیراعظم کے ریمارکس پر فکر و تردد کا اظہار کرتے ہوئے پروین توگاڑیہ نے سوال کیا ہے کہ ملک کے سربراہ گاؤ قصابوں کو کلین چٹ اور گاؤ رکھشکوں کو نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے جس کی حمایت سے وہ مسند اقتدار پر پہنچے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ تحفظ گائے کے لئے سرگرم ہندوؤں کی ستائش اور جذباتی گاؤ رکھشکوں سے سنجیدہ بات چیت کے لئے پہل کرنے کے بجائے 80 فیصد لوگوں کو غیر سماجی قرار دے دیا گیا ہے جس کے باعث گائے ماتا کے ساتھ ہندوؤں کی توہین ہورہی ہے جوکہ گائے کے تحفظ کے لئے اپنی زندگی داؤ پر لگادی ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی آبائی ریاست گجرات میں دلتوں کے خلاف حملوں کے پیش نظر گزشتہ ہفتہ ایک سخت پیام میں کہا تھا کہ بیشتر گاؤ رکھشک غیر سماجی عناصر ہیں جوکہ خود نمائی کے لئے شرپسندانہ حرکتیں کررہے ہیں۔ وی ایچ پی لیڈر نے وزیراعظم سے مطالبہ کیاکہ اس الزام کو ثابت کریں کہ 80 فیصد گاؤ رکھشک غیر سماجی عناصر ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ملک کے سربراہ کی حیثیت سے ریاستوں کو یہ ہدایت دیئے جانے پر کہ گاؤ رکھشکوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، ایک مخصوص برادری کی سمت اشارہ کرتا ہے جوکہ ہندو کہلاتے ہیں کیوں کہ ہندو برادری کے لوگ اپنی جان پر کھیل کر گائیوں کا تحفظ کررہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ خصوصی قانون کا اطلاق دہشت گردوں اور عادی ذانیوں کے خلاف ہوتا ہے لیکن اب اس کا نفاذ گائے کے قاتلوں کی بجائے ہندو گاؤ رکھشکوں پر کیا جائے گا۔ ڈاکٹر پروین توگاڑیہ نے پابند قانون گاؤ رکھشکوں کو تیقن دیا کہ مرکزی حکومت کی ہدایت پر اگر ریاستی حکومتیں انھیں پکڑ کر جیل میں بند کریں گی تو ان کے افراد خاندان کی امداد اور دیکھ بھال کی جائے گی۔ انھوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیاکہ ذبیحہ گاؤ، منتقلی اور کاروبار کے خلاف قومی سطح پر قانون نافذ کیا جائے اور 24 کارکرد گاؤ رکھشک ہیلپ لائن کی جائے انھوں نے بیف کی برآمد کے خلاف تحدیدات پر زور دیا اور یہ دعویٰ کیاکہ گزشتہ 4 سال کے دوران 44 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

گائے کے اسمگلرس کی گرفتاری کیخلاف احتجاج
پولیس فائرنگ میں بی جے پی کارکن ہلاک
بلیا (اترپردیش) 13 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) پولیس کے ساتھ تصادم میں بی جے پی کا ایک حامی ہلاک ہوگیا جبکہ علاقہ نرھی میں گائے اسمگلنگ کے الزام میں 5 افراد کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا جارہا تھا۔ اگرچیکہ بی جے پی کا الزام ہے کہ کارکن کی موت پولیس فائرنگ میں ہوئی ہے لیکن پولیس نے الزام کی تردید کی ہے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لئے پولیس کی بھاری جمعیت متعین کردی گئی ہے جبکہ بی جے پی رکن اسمبلی اوپیندرا تیواری اور 35 ناموں کے ساتھ اور 300 بغیر ناموں کے کیس درج کرلئے گئے ہیں۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ منوج کمار جھا نے بتایا کہ گرفتاری کے خلاف رکن اسمبلی اور ان کے حامیوں نے کل شب نرہی (Narhi) پولیس اسٹیشن کے روبرو دھرنا پر بیٹھ گئے۔ جب احتجاجیوں کو وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی گئی تو عہدیداروں پر سنگباری کردی گئی۔ بعدازاں پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے شیل داغے اور ربر کی گولیاں فائر کئے۔ دریں اثناء بی جے پی ضلع صدر ونود دوبے نے الزام عائد کیاکہ پولیس لاٹھی چارج اور فائرنگ میں ایک ورکر ونود رائے کی موت اور دیگر 50 زخمی ہوگئے۔ تاہم مسٹر جھا نے پولیس فائرنگ میں بی جے پی کارکن کی موت کی تردید کی اور کہاکہ موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی معلوم ہوگی۔ انھوں نے بتایا کہ رکن اسمبلی فرار ہوگئے جبکہ ضلع صدر بی جے پی نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس کارروائی میں وہ شدید زخمی ہوئے ہیں اور ایک ہاسپٹل میں زیرعلاج ہیں۔ جبکہ حکام نے اس واقعہ کی مجسٹرئیل تحقیقات کا حکم جاری کردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT