Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / گاڑیوں کی آر سی بُک پر تصویرکا لزوم

گاڑیوں کی آر سی بُک پر تصویرکا لزوم

آر ٹی اے دفاتر پرعمل آوری کا آغاز‘ دستاویزات آدھار سے بھی مربوط
حیدرآباد ۔ 27 جولائی ۔ ( ایجنسیز ) نئی یا استعمال شدہ گاڑیوں کی خریدی کرنے والوں یا ان کی ملکیت کی تبدیلی کروانے والوں کو اب فوٹوگراف دینے کیلئے مقامی روڈ ٹرانسپورٹ اتھاریٹی ( آر ٹی اے ) آفس جانا ہوگا کیونکہ ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ بک پر گاڑی کے مالک کی فوٹو لگانے کو لازمی بتایاگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس نئے قواعد کا اطلاق پیر سے رجسٹریشن کروائے جانے والے تمام نان ۔ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے مالکین پر ہوگا ۔ اس مقصد کے لئے آر ٹی اے آفس میں کیمرہ کا استعمال کرتے ہوئے گاڑی کے مالک کی فوٹو لی جائیگی۔ عہدیداروں کے مطابق اس قاعدہ پر عمل درآمد نان ٹرانسپورٹ گاڑیوں کیلئے 27 جولائی سے ہوگا اور ٹرانسپورٹ گاڑیوں کیلئے 3 اگسٹ سے ہوگا ۔ ان تمام دنوں میں صرف لائیسنس کیلئے درخواست گذاروں کو فوٹوگراف کیلئے ان دفاتر پہنچنا ہوگا ۔ ایک سینئر عہدیدار کے مطابق آر سی بک پر فوٹو ہونے سے گاڑی سے متعلق کسی دھوکہ دہی سے بچنے میں مدد ہوگی ۔ اس عہدیدار نے کہا کہ اب سے افراد کی جانب سے گاڑیوں کو فروخت کرنے اور منتقل کرنے پر نئے مالک کی فوٹو کے ساتھ آر سی بک جاری کی جائیگی ۔ اس قاعدہ پر ٹاملناڈؤ ، دہلی ، چندی گڑھ جیسی ریاستوں میں عمل درآمد کیا جارہا ہے ۔ ایک اور اقدام میں ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے ماہ اگسٹ سے آر ٹی اے آفس میں آدھار کارڈ کو ٹراویل ڈاکومنٹس سے مربوط کرنے کو لازمی بنایا جارہا ہے ۔ کسی بھی کام کیلئے ، خواہ پرمٹس کی اجرائی ہو یا لرننگ لائیسنس ، مستقل ڈرائیونگ لائیسنس کی اجرائی ہو ، آدھار کارڈ کی ضرورت ہوگی ۔ اس سے بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کا تدارک ہوگا ۔ اس کا اصل مقصد گاڑی کے مالکین اور ڈرائیونگ لائیسنس ہولڈرس کی ہسٹری کو رکھنا ہے۔ تلنگانہ آٹو جے اے سی لیڈر ایم دیانند نے آدھار طلب کرنے سے متعلق ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کے اقدام کا خیرمقدم کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ اقدام بہت پہلے سے کیا جانا چاہئے تھا۔ اس سے یہ معلوم کرنے میں مدد ہوگی کہ گاڑی کا صحیح مالک کون ہے اور دھوکہ سے گاڑیوں کی فروخت کا تدارک ہوگا ۔ انھوں نے کہا کہ آدھار کارڈ سے فرد کا صحیح پتہ معلوم ہوگا اور وہ ٹرانسپورٹ عہدیدار کو دھوکہ نہیں دے سکتا ہے ۔ اس سے گاڑیوں کیلئے فینانس فراہم کرنے والے فینانسرس کی غیرقانونی سرگرمیوں کو روکنے میں بھی مدد ملے گی ۔

TOPPOPULARRECENT