Sunday , October 22 2017
Home / مضامین / گجرات ‘ بی جے پی اور مودی دونوں کیلئے مشکلات

گجرات ‘ بی جے پی اور مودی دونوں کیلئے مشکلات

خلیل قادری

گجرات ہندوستان کی وہ ریاست ہے جس نے حالیہ عرصہ میں سب کی توجہ حاصل کرلی تھی ۔ جس وقت نریندر مودی گجرات کے چیف منسٹر بنے اس وقت تک گجرات دوسری ریاستوں کی طرح ہی تھی لیکن جب مودی چیف منسٹر بنے اور 2002 میں یہاں مسلم کش فسادات ہوئے اس کے بعد ساری دنیا کی توجہ گجرات کی جانب مبذول ہوئی ۔ بی جے پی نے ملک بھر میں گجرات ماڈل کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کردیا تھا ۔ سنگھ پریوار کی تنظیمیں بھی گجرات ماڈل کی پرزور وکالت کرتی رہیں۔ مودی نے تین معیادوں تک یہاں بی جے پی کو اقتدار دلایا اور وہ عملا ریاست کے بے تاج بادشاہ بن گئے تھے  تاہم جب 2014 میں بی جے پی کو مرکز میں اقتدار حاصل ہوا اور مودی نے گجرات سے دہلی منتقلی اختیار کی تو یہاں مودی کی جانشین کے طور پر آنندی بین پٹیل کو عنان اقتدار سونپی گئی ۔ گجرات میں بی جے پی کے دو انتہائی قریبی رفقائے کار تھے ۔ ایک امیت شاہ اور دوسری آنندی بین پٹیل ۔ امیت شاہ کو مودی اپنے ساتھ قومی سطح پر لے گئے اور پارٹی کی صدارت سونپ دی جبکہ آنندی بین پٹیل کو گجرات کی چیف منسٹر بنادیا گیا ۔ حالیہ عرصہ میں آنندی بین پٹیل کو جن مشکلات سے گذرنا پڑا اور پھر انہیں اعلی قیادت کی ایما پر اقتدار چھوڑنا بھی پڑا تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کیلئے گجرات میں حالات اب سازگار نہیں رہ گئے ہیں۔ یہاں نہ صرف بی جے پی بلکہ خود مودی کیلئے بھی حالات مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔

گجرات میں جس وقت سے ہاردک پٹیل نے پٹیل برادری کیلئے تحفظات کے مطالبہ کے ساتھ احتجاج کا آغاز کیا تھا اس وقت تک پارٹی کیلئے حالات مشکل نہیں تھے ۔ اندرونی طور پر کچھ مسائل پیدا ہو رہے تھے لیکن آنندی بین پٹیل ان کی جانب توجہ نہیں دے سکیں۔ جیسے ہی ہاردک پٹیل کا احتجاج شروع ہوا حالات میں تیزی سے تبدیلی پیدا ہونے لگی خود بی جے پی کے کچھ ایسے سینئر قائدین جنہیں حاشیہ پر کردیا گیا تھا ہاردک پٹیل کی بالواسطہ تائید کرنے لگے ۔ آنندی بین پٹیل اس احتجاج کی شدت کو محسوس نہیں کرپائیں اور نہ ہی ان کے مشیران اس کے اثرات سے انہیں صحیح طور پر واقف کرواسکے ۔ پٹیل کوٹہ احتجاج کے دوران پولیس نے جو کارروائیاں کیں وہ بھی آنندی بین پٹیل کیلئے ٹھیک نہیں رہیں۔ عوام میں غم و غصہ پیدا ہوگیا اور چیف منسٹر خاطی پولیس عہدیداروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکیں۔ ایک پہلو یہ بھی رہا کہ آنندی بین پٹیل وزارت اعلی کے زعم میں مودی کے طرز پر کام کرنا چاہتی تھیں لیکن وہ مودی کی طرح اثر انداز نہیں ہوسکیں۔ انہوں نے اپنے سینئر وزرا اور پارٹی کے سینئر و تجربہ کار قائدین سے بھی تعلقات کو خوشگوار رکھنے پر توجہ نہیں دی ۔ وہ صرف اقتدار کی کرسی پر فائز بعض مشیروں کی اسیر بن کر کام کر رہی تھیں اور عوام میں پارٹی اور حکومت دونوں کے تعلق سے ناراضگی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا ۔ آنندی بین نے پٹیل احتجاج کی مثال سامنے رکھتے ہوئے دلتوں پر حملوں کے بعد کارروائی تو ضرور کی لیکن وہ اس کا سیاسی فائدہ حاصل نہیں کرسکیں اور یہ فائدہ اپوزیشن جماعتوں نے حاصل کرلیا ۔ اپوزیشن عوام میں حکومت کے تعلق سے ناراضگی کو اجاگر کرنے میں کامیاب رہا ہے ۔ آنندی بین پٹیل پر اپوزیشن نے اقربا پروری کے بھی الزامات عائد کئے اور وقفہ وقفہ سے یہ بھی کہا جاتا رہا کہ انتظامیہ میں ان کے رشتہ دار مداخلت کرتے رہے ہیں۔

عوام سے رابطے کا جہاں تک سوال ہے نریندر مودی کو اس میں بھی سبقت حاصل رہی ۔ وہ عوام کی نبض کے مطابق فیصلے کرتے تھے لیکن آنندی بین پٹیل اس معاملہ میں بھی کمزور ثابت ہوئیں اور انہوں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کا تقابل بھی کیا جاسکے ۔ آنندی بین پٹیل اپنے وزرا اور عہدیداروں کو بہتر انداز میں وہ بات بھی سمجھانے میں کامیاب نہیں ہوسکیں جو وہ کرنا چاہتی تھیں۔ اس معاملہ میں بھی انہیں مشکلات پیش آئیں۔ نریندر مودی اپنے دور میں عہدیداروں کو خود منتخب کرتے اور ان پر کنٹرول حاصل کرلیتے تاہم آنندی بین پٹیل ایسا نہیں کرسکیں۔ ان کے دور میں انتظامیہ پر حکومت کی گرفت مضبوط نہیں رہی اور یہاں کرپشن کا دور شروع ہوگیا ۔ خاص طور پر پولیس میں کرپشن بڑھ گیا تھا ۔ آنندی بین پٹیل کے اقتدار کے ایک سال کے اندر ہی مختلف شعبہ جات میں کرپشن کے الزامات سامنے آنے لگے اور اپوزیشن جماعتیں ان پر عوام میں مہم چلاتی رہیں۔ اس معاملہ میں چیف منسٹر کچھ بھی نہیں کرسکیں اور وہ نسبتا خاموشی اختیار کرتی رہیں حالانکہ آنندی بین پٹیل نے شخصی طور پر کام کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی لیکن اس کو وہ صحیح طور پر عوام اور میڈیا میں پیش نہیں کرسکیں۔ نریندر مودی اپنے دور میں صرف معیشت اور انفرا سٹرکچر پر توجہ دینے میں یقین رکھتے تھے لیکن آنندی بین پٹیل نے سماجی مسائل کو ترجیح دی ۔ انہوں نے غذا میں ملاوٹ ‘ عوامی ٹائیلٹس کی فراہمی اور خواتین کو با اختیار بنانے جیسے مسائل پر توجہ دی ۔ اس سارے عمل میں خود آنندی بین پٹیل شکایت کرتی رہیں کہ بیوروکریسی سے انہیں تعاون نہیں مل رہا ہے ۔ انہوں نے بذات خود جو اسکیمات شروع کی تھیں اور جو پراجیکٹس شروع کئے تھے وہ بیوروکریسی اور پارٹی قائدین سے ناراضگی کی وجہ سے کہیں پس منظر میں چلے گئے اور پارٹی کیلئے مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا ۔

گجرات کے عوام میں یہ بھی احساس ہے کہ حالانکہ آنندی بین نے خود اچھی کوشش کی تھی کہ ریاست کو ترقی کی راہ پر آگے بڑھایا جاسکے تاہم مودی نے جو اسکیمات اور پروگرامس شروع کئے تھے وہ پٹیل کے دور اقتدار میں کمزور ہوگئے ۔ پٹیل برادری کے احتجاج کی وجہ سے خاص طور پر پارٹی کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ عوام میں بی جے پی کی ساکھ متاثر ہونے لگی اور مجالس مقامی اور بلدیات کے انتخابات میں بی جے پی کو شکست ہوئی ۔ یہاں کانگریس نے اپنا موقف مستحکم کرلیا ہے اور عام آدمی پارٹی بھی ریاست میں اپنے وجود کا احساس دلانے کیلئے کوشش کر رہی ہے ۔ اروند کجریوال مسلسل ریاست کے دوروں کو قطعیت دے رہے ہیں۔ عوام میں حکومت کے تعلق سے مہم چلائی جا رہی ہے اور اس کی خامیوں کو اور کمزوریوں کو اجاگر کیا جا رہا ہے ۔ بی جے پی کے ناراض گوشے ایسی سرگرمیوں کو ہوا دے رہے ہیں۔ سینئر بی جے پی لیڈر و سابق چیف منسٹر کیشو بھائی پٹیل نے بالواسطہ طور پر پٹیل برادری کے احتجاج پر ہاردک پٹیل کی تائید کی تھی ۔ پٹیل برادری کے خلاف پولیس نے آنندی بین پٹیل کے دور میں جو کارروائیاں کی تھیں اس سے برادری اور بھی برہم ہے اور وہ حکومت کی تائید کیلئے تیار نہیں ہے ۔ ضمانت پر رہائی کے بعد جس طرح ہاردک پٹیل کو ریاست بدر ہونا پڑا ہے اس سے بھی پٹیل برادری اور دوسروں میں ناراضگی پیدا ہوئی ہے اور یہ بات بھی بی جے پی اور مودی دونوں کیلئے اچھی نہیں سمجھی جا رہی ہے ۔ اس کے بھی پارٹی پر انتخابات کے دوران منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

جب گجرات کے اونا ضلع میں دلت نوجوانوں کو گاؤ رکھشکوں کی جانب سے مارپیٹ کی گئی اور اس کے خلاف جس بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا اور ملک بھر میں برہمی کی لہر پیدا ہوگئی تو خود نریندر مودی اور امیت شاہ نے ریاست کے حالات کو اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کرلیا ۔ اونا واقعہ سے قبل بھی ایسی کوشش ہوئی تھی ۔ آنندی بین پٹیل کو دہلی طلب کرتے ہوئے استعفی پیش کردینے کو کہا گیا ۔ آنندی بین پٹیل نے باعزت استعفی کی خواہش کی اور کہا کہ وہ نومبر میں 75 سال عمر کو پہونچتے ہی استعفی پیش کردینگی ۔ مودی نے اس پر اتفاق کیا تھا لیکن جب اونا واقعہ نے حالات کو مزید بگاڑ دیا تو آنندی بین پٹیل کو نومبر تک بھی وقت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا اور انہیں فوری استعفی کی ہدایت دیدی گئی ۔ آنندی بین پٹیل بھی اس سے انکار نہیں کرسکیں ۔ انہوں نے دہلی سے واپسی کے بعد عوامی مقبولیت کے کئی اعلانات کردئے ۔ انہوں نے ریاست بھر میں ٹول ٹیکس کو ختم کرنے کا اعلان کردیا ۔ انہوں نے ریاستی ملازمین کیلئے ساتویں پے کمیشن کی سفارشات کو قبول کرنے کا اعلان کیا اور پھر پٹیل برادری کے احتجاج کے دوران درج کردہ 430 مقدمات میں سے 391 مقدمات سے دستبرداری کے احکام بھی جاری کردئے ۔ اس کے بعد انہوں نے وہ کام کیا جو شائد ملک میں پہلے کسی چیف منسٹر نے نہیں کیا تھا ۔ انہوں نے اپنا استعفی فیس بک پر پیش کردیا اور یہاں ایک نوٹ میں تحریر کیا کہ وہ کسی بھی کام میں پیچھے نہیں رہیں اور نریندر مودی کے بعد حالات کو بہتر رکھنے کی حتی المقدور کوشش بھی کی تھی ۔ انہوں نے فیس بک پر ہی پارٹی قیادت سے استعفی قبول کرلینے کی خواہش کی تھی ۔

آنندی بین پٹیل نے استعفی پیش کرتے ہوئے بھی پارٹی کیلئے مشکلات پیدا کیں اور فیس بک کا راستہ اختیار کیا ۔ جو حالات گذشتہ دو سال میں گجرات میں پیش آئے ہیں اور جو سیاسی اتھل پتھل کا ماحول رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ ریاست میں بی جے پی اور نریندر مودی دونوں کیلئے بے تحاشہ مسائل ہیں۔ آنندی بین پٹیل کا استعفی صرف ایک مسئلہ کا حل ہے اور کئی مسائل اب بھی ان کیلئے ایک چیلنج کی طرح موجود ہیں۔ انتخابات کا موسم حالانکہ ابھی قدرے دور ہے لیکن اتنے وقت میں پارٹی کیلئے حالات کو قابو میں کرنا اور رائے دہندوں کو ایک بار پھر پارٹی سے وابستہ کرنا بی جے پی ‘ اس کی قیادت یا وزیر اعظم نریندر مودی کیلئے آسان نہیں رہے گا ۔

TOPPOPULARRECENT