Wednesday , September 20 2017
Home / مضامین / گجرات سے عروج اور گجرات سے ہی زوال ہوگا

گجرات سے عروج اور گجرات سے ہی زوال ہوگا

 

محمد رئوف الدین ایڈوکیٹ
ریاست گجرات میں مسلسل پندرہ برسوں تک چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز رہنے والے شری نریندر مودی 2002ء کے مسلم کش فسادات کے بعد سے ساری دنیا میں مشہور بھی ہوئے اور بدنام بھی۔ جس میں اخباری اطلاعات کے مطابق تقریباً 3000 مسلمان ہلاک کردیئے گئے۔ معصوم بچے، عورتیں اور بوڑھے سب ہی مارے گئے۔ اس وقت ہندوستان میں بی جے پی کے سینئر لیڈر شری اٹل بہاری واجپائی کی زیر قیادت NDA حکومت قائم تھی۔ شری واجپائی نے کہا تھا کہ ان فسادات کے بعد ہمارا ملک بہت بدنام ہوگیا ہے اور میں کس طرح منہ لے کر بیرونی ممالک کا سفر کروں؟ لیکن بی جے پی کی سرپرست آر ایس ایس نریندر مودی جیسے سفاک سیاستداں کو اپنی Good Book میں رکھی ہوئی تھی۔
گوکہ انہیں CM to PM بننے کے لیے بارہ سال تک انتظار کرنا پڑا اور بی جے پی کے موجودہ صدر امیت شاہ جنہیں سہراب الدین شیخ اور ان کی اہلیہ کے قتل میں شہر بدر بھی ہونا پڑا تھا کی جوڑی نے آر ایس ایس کی لیباریٹری میں بنے پلان کے مطابق 2014ء کے پارلیمانی انتخابات میں اپنے کرتوت کا ایسا استعمال کیا کہ بی جے پی کو ناقابل قیاس کامیابی سے ہمکنار کردیا۔ اس غیر متوقع اور عظیم کامیابی پر نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری دنیا حیرت زدہ ہوگئی!

چونکہ ان انتخابات سے قبل ملک پر کانگریس کا راج تھا جس نے 2004ء سے 2014ء تک مسلسل دس سال تک ہندوستان پر حکمرانی کی لیکن بدقسمتی سے کانگریس کا دور کچھ اس طرح گزرا کہ اس میں بہت بڑے بڑے اسکامس ہوئے جس سے کانگریس بہت بدنام ہوئی۔ ضروریات زندگی کی اشیاء اتنی مہنگی ہوگئیں اور گرانی کا بوجھ عوام پر اس قدر بڑھ گیا کہ لوگ زندگیوں سے عاجز آگئے تھے۔ کسان قرض میں مبتلا ہوکر ہزاروں کی تعداد میں خودکشیاں کرنے لگے۔ نامسلمان خوش نہ سکان خوش۔ نہ دلت خود اور نہ کوئی پسماندہ طبقات خوش۔ سب کے سب کسی مسیحا کی تلاش کرنے لگے تھے۔ اس دوران آر ایس ایس نے پوری پلاننگ کے ساتھ شری نریندر مودی کو بحیثیت وزیراعظم امیدوار اور امیت شاہ کو پارٹی کا صدر بناکر الیکشن کے میدان میں چھوڑا۔ ان دونوں حضرات نے عوام کی نبض کے مطابق اپنی خطرناک جھوٹ کا پٹارہ کھول دیا۔
عوام سے ایسے ایسے وعدے کئے گئے کہ لوگ ان کو اپنا مسیحا سمجھنے لگے۔ خاص طور پر چند وعدوں نے جو کہ ممکن ہی نہ تھے (اور نہ آج تک کوئی وعدہ پورا ہوا) عوام کو بڑی حد تک بے وقوف بنانے کا کام کیا۔ خاص طور پر یہ وعدہ کہ بی جے پی اقتدار میں آنے کے بعد 100 دنوں کے اندر گرانی پر پوری طرح قابو پالے گی اور ضروریات زندگی کے سامان ایک عام آدمی کی دسترس میں ہوں گے۔ لوگوں پر سے گرانی کا بوجھ ہٹادیا جائے گا۔
دوسرا یہ کہ ہندوستان کے ہر شہری کے اکائونٹ میں مبلغ پندرہ لاکھ روپئے حکومت کی طرف سے جمع کردیئے جائیں گے۔ یہ رقم بیرون ملک کھاتوں میں موجود اربوں روپیوں کی رقم ہے جو بے ایمان ہندوستانیوں نے اپنے کھاتوں میں جمع رکھے ہیں۔ بی جے پی کو اقتدار میں آئے تین برس گزر گئے لیکن نہ بیرون ملک میں جمع کوئی رقم ہندوستان لائی گئی اور نہ ہی کسی ہندوستانی کے بینک کھاتے میں 15 روپئے تک جمع ہوسکے!
تیسرا وعدہ 125 کروڑ ہندستانیوں کے لئے تھا کہ بی جے پی حکومت ’’سب کا ساتھ اور سب کا وکاس‘‘ کے لیے کام کرے گی لیکن حکومت نے نہ کسی کا ساتھ دیا اور نا ہی کسی کا وکاس کیا۔ بلکہ 11 نومبر 2016ء سے نوٹ بندی کا بم ڈال دیا گیا اور اس بم نے ہندوستان کے ہر شہری کو پریشان کرکے رکھ دیا خاص طور پر غریب اور اوسط درجے کے لوگ بری طرح مارے گئے۔ ان کی معاشی حالت بہت بگڑ گئی ہے۔ جو بہت پریشان ہیں۔ نقد رقمی لین دین کو محدود کردیا گیا ہے۔ ہر قسم کا لین دین چک یا ATM یا JIO کے ذریعہ کرنے کے لیے پابند کیا جارہا ہے۔ حکومت کے اقدامات سے عوام کی معاشی حالت بہت ابتر ہوچکی ہے۔ خاص طور پر روزانہ محنت مزدوری کرکے کمانے والے بہت پریشان ہیں۔ ان کو روزانہ کام ملنا مشکل ہوگیا ہے ۔ یہ نقد رقم کے لین دین پر پابندیوں کا اثر ہے۔ امیروں کو کچھ نہیں ہوا!
اچھے دن لانے کا وعدہ کیا گیا لیکن ہر دن گزشتہ تین سالوں سے برادن ثابت ہورہا ہے۔ عوام کہہ رہے ہیں کہ ہم کو وہ برے دن ہی لوٹادو چونکہ وہ دن آج کے دن سے بہتر تھے۔
اس کے علاوہ ملک کی شمالی ہند کی ریاستوں میں جہاں بی جے پی اقتدار میں آچکی ہے۔ مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف تشدد کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ انہیں گروپس کی شکل میں یعنی ہجوم کی شکل میں آکر زدوکوب کیا جارہا ہے۔ گائو رکشا کے نام پر مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا۔ یہ واقعات ساری دنیا میں ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ متعصبانہ سلوک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ ہندوستان کی رواداری پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں اور ملک بدنام ہورہا ہے۔ اقلیتیں خوف سے دوچار ہورہے ہیں۔ جمہوریت اور سکیولرازم خطرہ میں نظر آرہے ہیں۔ بی جے پی کی حکومت دراصل ایک آر ایس ایس کی حکومت بن گئی ہے چونکہ بی جے پی کے تمام قائدین کا تعلق آر ایس ایس سے ہے جو ان کے نقطہ نظر اور فکر کی بنیاد پر کام کررہے ہیں۔ آر ایس ایس ایک ایسی تنظیم ہے جو جمہوریت اور سکیولرازم سے مختلف ذہن رکھتی ہے۔ ہمارے وزیراعظم، نائب صدر اور صدر مملکت تو بہت ہی کم عمری سے ہی آر ایس ایس سے وابستہ رہے ہیں جو آر ایس ایس کے نظریات کے کٹر علمبردار ہیں۔

جب سے بی جے پی ہندوستان کی مرکز میں برسر اقتدار آئی ہے اور پھر یو پی، ہریانہ، راجستھان اور مدھیہ پردیش وغیرہ میں ستا میں آئی ہے ملک میں آر ایس ایس کے نظریات کو عوام پر بلالحاظ مذہب و ملت تھوپنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ان کے نظریات برہمن واد نظریات ہیں جن کے پاس دلت اور پسماندہ طبقات کو شودر کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ لوگ مسلمانوں اور اسلام کے بھی سخت مخالف ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق تقریبا 72 مسلمان گائو رکشا ہجوم کی برسر عام زدوکوب سے ہلاک کردیئے گئے ہیں۔ اخبارات، الیکٹرانک میڈیا اور پارلیمنٹ کے ذریعہ وزیراعظم نریندر مودی نے ان واقعات پر ناخوشی کا اظہار کیا ہے۔ شیوسینا کے ترجمان نے بھی ان واقعات کو غلط قرار دیا ہے لیکن زدوکوب کے واقعات تھمنے کا نام نہیں لیتے۔ ملک میں حالات دن بدن غیر یقینی ہوتے جارہے ہیں۔
ایسے میں چین اور پاکستان سے بھی تعلقات کشیدہ ہوتے جارہے ہیں خاص طور پر چین کی جانب سے محدود جنگ کی دھمکی دی جارہی ہے۔ ڈوکلام سے ہندوستانی فوجیوں کو ہٹانے کے لئے دبائو ڈال رہا ہے تاکہ وہاں سڑک تعمیر کی جاسکے جو چین کی زبردستی ہے اور ناقابل قبول ہے۔ حکومت ہند اس مسئلہ سے بہتر انداز میں نہیں نمٹ رہی ہے۔ کشمیر میں عوام اور سکیوریٹی فورسس کے درمیان پتھرائو اور فائرنگ کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف انکائونٹر کئے جارہے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں امرناتھ یاترا کے سات یاتریوں کو دہشت گردوں نے ہلاک کرڈالا اور کئی ایک زخمی بھی ہوئے۔ دونوں طرف LOC پر بھی فائرنگ کے واقعات ہورہے ہیں۔
بحرحال ایک طرف چین، دوسری طرف پاکستان اور تیسری طرف کشمیر میں ہماری فوجیں ڈٹی ہوئی ہیں اگر ہماری حکومت ملک اور ہندوستانی قوم کے تئیں واقعی مخلص ہوتی تو وہ ضرور ملک کی داخلی صورتحال کو پرامن رکھنے کی کوشش کرتی لیکن اس کے برخلاف وہ دلتوں اور مسلمانوں کو ٹارگٹ کرتے ہوئے حالات کو گنجلک اور خوف زدہ بنانے میں لگی ہوئی ہے۔ دوسری ریاستوں کی اپوزیشن حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کی مکروہ کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اسمبلی کو پیسے اور طاقت کے بل پر بی جے پی میں شامل ہونے کے لیے دبائو بنائی ہوئی ہے۔ Defection کے لیے اکسارہی ہے اور گجرات میں حالیہ دنوں میں چند ایم ایل ایز کو کانگریس سے چھین لیا گیا ہے۔ ریاست گجرات میں حالیہ راجیہ سبھا کی تین نشستوں پر انتخاب ہوا جس میں کانگریس کے امیدوار احمد پٹیل کو ہرانے کی بے حد کوشش کی گئی۔ بہت سارے ڈرامے ہوئے۔ بالآخر کانگریس کے احمد پٹیل نے جو کہ مسز سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر بھی ہیں، یہ سیٹ جیت لی۔ اس نشست کے لیے بی جے پی کے صدر نے ایڑی چوٹی کا زور لگاکر احمد پٹیل کو ہرانے کی پوری کوشش کرلی لیکن ناکام رہے۔ اس ٹکر کے مقابلے میں کانگریس کامیاب رہی اور اس طرح بی جے پی کو ایک جھٹکا لگا۔ ایسے جھٹکے بی جے پی کو اب لگتے رہیں گے کیوں کہ بی جے پی آر ایس ایس کے نظریات پر عمل کرتے ہوئے ملک کے اعلی اقدار کو ختم کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ ہندوستان کے آئین (دستور) کی سخت مخالف ہے چوں کہ ہندوستان دستور کے مطابق ایک سوشلسٹ جمہوری اور سکیولر اسٹیٹ ہے اور بی جے پی اس کو تبدیل کرکے ایک ایسا ہندو اسٹیٹ بنانا چاہتی ہے جس کی باگ ڈور ان کے مطابق اعلی ذات کے برہمنوں کے ہاتھ میں ہو۔ ہزاروں سال قبل بنائے گئے اس فارمولے کو سارے ہندوستان میں لاگو کرنا چاہتی ہے جس میں دلت۔ مسلمان اور دیگر پسماندہ ذاتوں کا موقف سب سے نچلی سطح کا ہو جسے شودر کہتے ہیں۔

ہندوستان میں ان مکروہ ارادوں کو ناکام بنانے کے لیے اب مختلف تحریکات کا آغاز ہوچکا ہے ان تحریکات کا مقصد دستور ہند کی حفاظت کرنا ہے جس میں جمہوریت، سوشلزم اور سکیولرازم نہایت ہی اہم عنصر ہیں اور تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا بھی ان تحریکات میں شامل ہیں۔ بائیں بازو (کمیونسٹوں) کی طلباء تنظیم AISF آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر سید ولی اللہ قادری جنرل سکریٹری کنہیا کمار اور ان کے ہزارہا کارکنوں نے لانگ مارچ کا اہتمام کرتے ہوئے ملک کی تمام ریاستوں میں آر ایس ایس اور بی جے پی کے غلط ارادوں کے خلاف عوام کو بیدار کرنے کا کام انجام دے رہے ہیں۔ ان کی تحریک کا نعرہ ہے ’’ملک بچائو ملک بنائو‘‘۔
ہندوستان چھوڑدو تحریک کے 75 سال پر سوشلسٹوں نے بھی نئی دہلی میں ایک بڑی ریالی کا اہتمام کیا۔ ان کا مقصد آئین مخالف طاقتوں کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہے۔ معروف صحافی اور سماجی کارکن کلدیپ نیئر نے اس ریالی کو جھنڈی دکھائی۔ انسانی حقوق کے معروف کارکن اور سابق جج جسٹس راجندر سچر نے اس ریالی کو مخاطب کیا۔ سوشلسٹ پارٹی کے صدر ڈاکٹر پریم سنگھ نے اس ریالی کا اہتمام کیا۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ آج سکیولرازم، جمہوریت اور سوشلزم خطرہ میں ہیں۔ اقتدار پر فائز طاقتیں ان قدروں کو پامال کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ آر جے ڈی سربراہ لالوپرساد یادو نے 24 اگست کو بہار میں عظیم اتحاد کی ایک عظیم ریالی نکالنے کا اعلان کیا ہے جس میں ہندوستان بھر کی تقریباً تمام اپوزیشن پارٹیوں کے قائدین حصہ لیں گے۔ اس ریالی کا مقصد بھی آر ایس ایس اور بی جے پی کے مکروہ ارادوں کا پردہ فاش کرنا اور آئین کی حفاظت کرتے ہوئے ان طاقتوں کو اقتدار سے بیدخل کرنے کی جدوجہد کرنا ہے۔ بنگال کی چیف منسٹر شریمتی ممتا بنرجی نے بھی ’’بی جے پی ہندوستان چھوڑدو‘‘ تحریک کا آغاز کردیا ہے۔
ان کا عزم ہے کہ ہندوستان سے بی جے پی کا صفایا کردیا جائے اور اس ملک کی جمہوری، سکیولر اور سوشلسٹ قدروں کو ہمیشہ کے لیے بحال رکھا جائے تاکہ ہمارے دستور کے تحت سماج کے تمام طبقوں کو بشمول پسماندہ ذاتوں سے تعلق رکھنے والوں اور اقلیتوں کو عام شہریوں کے برابر حقوق حاصل ہوتے رہیں اور سب کے لیے تعلیم اور روزگار کے مساوی مواقع حاصل ہوسکیں۔ ان تحریکات کی ابھی تو ابتداء ہے بالآخر یہ تحریکات اپنی انتہا کو پہنچ جائیں گی جس کا مقابلہ کرنا آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیے ناممکن ہوجائے گا۔

TOPPOPULARRECENT