Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / گجرات فرضی انکاؤنٹرس : تحقیقات کیلئے ٹاسک فورس کو مزید 3 ماہ کی مہلت

گجرات فرضی انکاؤنٹرس : تحقیقات کیلئے ٹاسک فورس کو مزید 3 ماہ کی مہلت

نئی دہلی 9 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے آج خصوصی ٹاسک فورس کو مزید تین ماہ کا وقت دیدیا ہے تاکہ وہ گجرات میں 2002 سے 2006 کے مابین ہوئے فرضی انکاؤنٹرس کی تحقیقات کا کام مکمل کرسکے ۔ خصوصی ٹاسک فورس کی جانب سے ریاست میں اس طرح کے فرضی انکاؤنٹرس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ یہ ٹاسک فورس ایک سابق سپریم کورٹ جج کی قیادت پیانل کی نگرانی میں کام کر رہی ہے ۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اور جسٹس اے ایم کھانویلکر اور جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ پر مشتمل ایک بنچ نے کہا کہ اب جملہ 24 کے منجملہ 2 مقدمات میں تحقیقات کی ضرورت ہے ۔ کچھ معاملات میں تحقیقات کا کام ذمہ دار پیانل کی نگرانی میں مکمل ہوگیا ہے اور کچھ مقدمات میں تحقیقات کا کام جاری ہے ۔ اس کمیٹی کے نگران جسٹس ( ریٹائرڈ ) ایچ ایس بیدی ہیں ۔ بنچ نے آج اپنی رولنگ میں کہا کہ خصوصی ٹاسک فورس کو اس پیانل کی نگرانی میں تحقیقات کا کام مکمل کرنے کیلئے تین ماہ کا مزید وقت دیا جاتا ہے ۔ جسٹس بیدی کو پہلے سے کام کر رہی نگران کار کمیٹی کا صدر نشین بنایا گیا تھا ۔ یہ کمیٹی ریاستی حکومت نے 2 مارچ 2012 کو قائم کی تھی ۔ سپریم کورٹ نے نگران کار اتھاریٹی سے کہا ہے کہ وہ 2002 سے 2006 کے مابین ہوئے فرضی انکاؤنٹر کی تحقیقات سے متعلق ابتدائی
تفصیلات عدالت میں پیش کرے ۔ گجرات میں ہوئے ان فرضی انکاؤنٹرس میں بطور خاص اقلیتی برادری کے نوجوانوں کو دہشت گرد کے طور پر پیش کیا گیا تھا ۔ نگرانکار کمیٹی وقفہ وقفہ سے عدالت میں اپنی رپورٹس پیش کرتی رہی ہے ۔ اس سلسلے میں مفاد عامہ کی درخواست سینئر وکیل بی جی ورگیس اور نغمہ نگار جاوید اختر نے 2007 ء میں پیش کی تھی ۔ انہوں نے ان تمام فرضی انکاؤنٹر واقعات کی آزادانہ ادارے سے تحقیقات کروانے یا سی بی آئی کو ذمہ داری سونپنے کی استدعا کی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT