Wednesday , April 26 2017
Home / Top Stories / گجرات فسادات تحقیقات ، ایس آئی ٹی کے سربراہ راگھون سبکدوش

گجرات فسادات تحقیقات ، ایس آئی ٹی کے سربراہ راگھون سبکدوش

عدالت کے مشیرقانونی کی سفارش پر کارروائی ، راگھون کے ساتھی وینکٹیشم بھی علحدہ ، ایس آئی ٹی کی ستائش

نئی دہلی ۔ /13 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج ایس آئی ٹی کے سربراہ آر کے رگھون کو سبکدوش ہونے کی اجازت دیدی ۔ وہ سپریم کورٹ کی مقررہ ایس آئی ٹی کی جانب سے گجرات فسادات مقدمات کی تحقیقات کررہے تھے ۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر اور جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ اور ایس کے پول نے سینئر قانون دان ہریش سالوے کی جو عدالت کے مشیر قانونی کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں ، کی سفارش قبول کرتے ہوئے راگھون کو ایس آئی ٹی کے سربراہ کے فرائض سے سبکدوش کردیا ۔ بنچ نے ایس آئی ٹی کی اب تک کی کارروائی کی ستائش کرتے ہوئے ایس آئی ٹی کے ایک اور رکن اے کے ملہوترا کو تحقیقاتی ٹیم کی نگرانکاری کی ذمہ داری سپرد کردی ۔

عدالت نے ایک اور رکن کے وینکٹیشم کو بھی سبکدوش ہونے کی اجازت دیدی اور ملہوترا کو ہدایت دی کہ سہ ماہی موقف رپورٹ فسادات مقدمات کی تحقیقات میں پیشرفت کے بارے میں سپریم کورٹ کو پیش کرنا جاری رکھیں ۔ عدالت العالیہ نے 9 بڑے مابعد گودھرا فسادات مقدمات بشمول نروڈا گام فسادات مقدمہ جس میں ایک ہی فرقہ کے 11 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ تحقیقات کی ذمہ داری ایس آئی ٹی کے سپرد کی تھی ۔ گزشتہ سال /19 ستمبر  کو سپریم کورٹ نے گجرات کی تحت کی عدالت کو نروڈا گام فسادات 2002 ء مقدمہ کی تکمیل کیلئے 6 ماہ کی مہلت دیدی ۔ یہ مابعد گودھرا 9 فسادات میں سے ایک ہے ۔ جس کی تحقیقات ایس آئی ٹی کررہی ہے ۔ سالوے اور راگھون نے کہا تھا کہ تحت کی عدالت تقریباً 300 گواہوں کے بیانات حاصل کررہی ہے ۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے مہلت دی ۔

قبل ازیں عدالت کو اطلاع دی گئی تھی کہ 8 مقدمات میں تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں اور تحت کی عدالتیں فیصلہ کا اعلان کرنے کے مرحلے میں ہیں ۔ اس کے بعد ہائیکورٹ میں اپیل کی جاسکے گی ۔ اقلیتی طبقہ کے 11 افراد نروڈا گام 2002 ء فسادات میں ایک بند کے دوران جس کا اعلان گودھرا ٹرین آتشزنی واقعہ کے خلاف بطور احتجاج کیا گیا تھا جملہ 82 افراد مقدمات کا سامنا کررہے ہیں ۔ گزشتہ سال جون میں خصوصی عدالت نے گلبرگ فسادات مقدمہ میں جس میں 68 افراد بشمول سابق کانگریس ایم پی احسان جعفری ہلاک ہوگئے تھے ، 24 افراد کو مجرم قرار دیا تھا ۔ /22 فبروری 2016 ء کو سپریم کورٹ نے احمد آباد تحت کی عدالت کے فیصلہ کے اعلان کی راہ ہموار کردی ۔ مختلف مقدمات بشمول گلبرگ سوسائیٹی قتل عام مقدمہ کے فیصلہ کے اعلان کی راہ ہموار ہوگئی ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ مقدمہ کی سماعت کرنے والے جج پر مقدمہ کا فیصلہ سنانے کے سلسلے میں کوئی گواہ نہیں ہے اور انہیں 3 ماہ کی مہلت دی گئی ۔ /5 اگست 2015 ء کو سپریم کورٹ نے مزید 3 ماہ کی مہلت مقدمہ کی تحقیقات کی تکمیل کیلئے دی ۔ سپریم کورٹ 9 حساس مقدموں کی نگرانی کررہی ہے ۔ قبل ازیں قومی انسانی حقوق کمیشن اور مختلف این جی اوز نے شکایت کی تھی کہ تحقیقات مشتبہ اور ناقابل اعتماد ہیں ۔ فسادات کے مقدمات گجرات کے مختلف مقامات بشمول گلبرگ سوسائیٹی ، اوڈ ، صدرپورہ ، نروڈا گام ، ، نروڈا پاٹیہ ، مچھی پیٹھ ، پرسالی ، پنڈرواڑہ اور راگھوپورہ میں قائم کئے گئے تھے ۔ ایک تخمینہ کے بموجب گجرات فسادات 2002 ء میں 2000 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT