Thursday , June 29 2017
Home / ہندوستان / گجرات میں بھی غیرقانونی مسالخ کا مسئلہ

گجرات میں بھی غیرقانونی مسالخ کا مسئلہ

گجرات اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران مسئلہ اٹھانے ریاستی بی جے پی کا منصوبہ
احمدآباد ۔2اپریل ( سیاست ڈاٹ کام) گجرات میں  برسراقتدار بی جے پی نے کہا کہ وہ غیرقانونی مسالخ کا مسئلہ ریاستی اسمبلی کے وقفہ سوالات کے دوران اٹھائے گی ۔ بی جے پی کے ادعا کے موجب یہ غیرقانونی مسالخ ریاست گجرات میں کارکرد ہیں ۔ 31مارچ کو سی اے جی کی رپورٹ گجرات کے ایوان اسمبلی میں پیش کی گئی تھی جس میں ادعا کیا گیا ہے کہ گجرات میں مسالخ کاروباری اداروں کے زیر انتظام ہیں ۔ ان مسالخ نے قانون تحفظ اغذیہ اور معیارات کے تحت لائسنس بھی حاصل نہیں کیا ہے ۔ چنانچہ ان کی کارکردگی غیرقانونی ہے ۔ سی اے جی یہ تبصرہ ایک ایسے وقت پیش آیا جب کہ ریاستی حکومت نے ایک مسودہ قانون کی منظوری دہے ہے جس میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ جو لوگ ذبیحہ گاؤ میں ملوث پائے جائیں انہیں سزائے عمر قید اور گائے کے گوشت کی فروخت یا منتقلی میں ملوث افراد کو 10سال کی سزائے قید دی جائے ۔ بی جے پی یقیناً ریاستی حکومت کی اس مسئلہ کی طرف توجہ مبذول کرنا چاہتی ہے اگر کوئی کام غیرقانونی ہے تو حکومت کو اس مسئلہ پر توجہ دینی چاہیئے اور اس سے نمٹنا چاہیئے ۔ کسی کو بھی عوام کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ ایک پریس کانفرنس میں بی جے پی قائد پانڈیا نے کہا کہ بی جے پی یقینی طور پر ریاستی حکومت کی اس مسئلہ پر توجہ مبذول کروائے گی اور سنجیدگی سے نمائندگی کی جائے گی کہ حکومت اس سلسلہ میں کارروائی کرے ۔ بی جے پی قائد نے اس بات کی بھی تردید کی کہ مویشی پالنے والوں کو زبردستی ان کی گائیں مسلخ روانہ کرنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے کیونکہ گائے کا چارہ موجود نہیں ہے ۔ اپوزیشن پارٹی کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ گائے کا چارہ بی جے پی حکومت نے صنعت کاروں کو فروخت کردیا ہے ۔ حکومت گائیوں کے تحفظ کی پابند ہے اور اس نے مختلف اسکیمیں شروع کی ہیں ۔ اس کا دعویٰ کرتے ہوئے بی جے پی قائد نے کہا کہ بی جے پی پورے گجرات میں کل سے تین دن کیلئے ریاستی حکومت کے اظہار تشکر کی مہم شروع کرے گی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT