Friday , August 18 2017
Home / مضامین / گجرات میں عروج اور یہیں سے زوال بھی

گجرات میں عروج اور یہیں سے زوال بھی

غضنفر علی خان
مودی اقتدار ایوان کی پہلی وکٹ اُس وقت گری جبکہ گجرات کے ابتر حالات پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد ریاست کی پہلی خاتون چیف منسٹر آنندی بین پٹیل نے اپنی جانب سے استعفیٰ پیش کیا۔ انھوں نے سبکدوش ہونے کی وجہ اپنی بڑھتی ہوئی عمر (75 سال) بتائی جو محض ایک بہانہ ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ وزیراعظم مودی نے اپنی کابینہ یا پارٹی کے کسی عہدہ پر 75 سال کی عمر کے کسی فرد کو فائز نہ کرنے کا اُصول بنایا تھا اور بڑی حد تک اس پر عمل بھی کیا گیا تو پھر آخر آنندی بین کو کیوں اس اُصول کے تحت چیف منسٹر بننے سے روکا نہیں گیا۔ انھیں یہ مراعات کس لئے دی گئیں۔ بڑھتی ہوئی عمر تو ان کے تقرر کے وقت بھی تھی اور اب سبکدوشی کے وقت بھی یہی عذر پیش کیا جارہا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ گجرات میں مودی کی مضبوط حکومت کے طویل عرصے کے دوران کوئی متبادل قیادت اُبھر نہ سکی اور مودی گجرات کی سیاست میں برگد کا وہ پیڑ بن گئے جس کے نیچے کوئی چھوٹے پودے یا درخت نہیں اُگتے۔ آج گجرات کے حالات کسی بھی قیادت خود وزیراعظم مودی کے کنٹرول سے باہر ہوگئے ہیں۔ گجرات کی ترقی کا ماڈل سارے ملک کے لئے قابل تقلید نہ تو تھا اور نہ آج ہے نہ کبھی رہے گا۔ آنندی بین پٹیل کی سبکدوشی دراصل مودی کے ایوان اقتدار کی وہ پہلی اینٹ بن گئی جو عمارت کی بوسیدگی اور ناپائیداری کی وجہ سے گرگئی۔ عمارت کی ہر اینٹ اہم ہوتی ہے۔ گجرات ہی سے وزیراعظم مودی کو عروج ملا تھا اور یہاں سے ان کے زوال کا بھی آغاز ہوسکتا ہے۔ گجرات نے حالات اتنے بے قابو ہوگئے ہیں کہ ان پر قابو پانا ممکن نہیں ہے۔ پہلے پٹی دار پٹیل برادری کے او بی سی کے زمرہ کے تحت تحفظات کا مطالبہ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پٹیل طبقہ کے نوجوان ہردک پٹیل اس ایجی ٹیشن کے لیڈر بن گئے ابھی یہ تحریک چل ہی رہی تھی کہ دلتوں پر ظلم و ستم کے واقعات رونما ہونے لگے۔ ایک مردہ گائے کی کھال اُتارنے کے سلسلہ میں (جو کسی بھی لحاظ سے جرم نہیں ہے) 5 دلتوں کو سرے بازار کوڑے مارے گئے ان پر ظلم و زیادتی کی گئی۔ اس واقعہ کے بعد دلت طبقہ سڑکوں پر اُتر آیا اور آناً فاناً مودی کا نام نہاد و ترقی یافتہ ، مستحکم گجرات بی جے پی کے لئے دہکتا سیاسی الاؤ بن گیا۔ سیاسی اقتدار ان ہی معنوں میں ’’بے وفا صنم‘‘ ہوتا ہے۔ اس سے بڑھ کر ہرجائی کوئی نہیں ہوتا۔ ہاں اگر بنیادی اُصولوں کے تحت سمجھداری اور تدبر سے کام لیا جائے تو یہ برسوں قائم رہتا ہے۔ تدبر اور سیاسی فراست کا تو بی جے پی میں فقدان ہے۔ اس پارٹی نے کوئی مسئلہ (قومی نوعیت کا) حل نہیں کیا بلکہ نت نئے مسائل کھڑے کردیئے۔ ناکام و نامراد بی جے پی حکومت صرف دو سال کے اندر تاش کے پتوں کی طرح بکھر رہی ہے۔ آنندی بین تو محض قربانی کا بکرا بن گئیں ورنہ آج جو حالات گجرات میں ہیں سیاسی عدم استحکام اور عوامی تائید سے محرومی کا جو ماحول وہاں پیدا ہوگیا وہ بہت پہلے ہی پیدا ہوچکا ہوتا۔ ایک کے بعد ایک اسکینڈل ہوئے۔ وزیر خارجہ سشما سوراج پر بھگوڑے للت مودی کو سہولتیں بہم پہنچانے کا الزام عائد ہوا لیکن وزیراعظم مودی کی حکومت نے انھیں تمام قواعد اور اُصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بچالیا۔ مدھیہ پردیش میں ویاپم اسکینڈل نے وہاں کے چیف منسٹر کے پاؤں اُکھار پھینکے تھے لیکن مودی حکومت نے ان کی پشت پناہی کرکے انھیں بھی بچالیا۔ راجستھان کی مضبوط لیڈر وسندرا کو بھی ایک اسکینڈل سے محفوظ رکھنے میں مودی حکومت نے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا۔ آنندی بین کی جب باری آئی تو ان کے سیاسی سرپرست ان ہی نریندر مودی نے ان کے سر پر سے ہاتھ ہٹالیا اور آنندی بین نے اس میں اپنی عافیت جانی کہ خود استعفیٰ کا پیشکش کردیں۔ گجرات کے حالات پر قابو پانے کے مواقع کم سے کم ہوتے دیکھ کر بی جے پی نے اس میں خیریت سمجھی کہ آنندی بین بڑھتی ہوئی عمر کے بہانے استعفیٰ پیش کرے اور اس کو بلا رکاوٹ قبول کرلے۔ حالانکہ یہ خاتون نریندر مودی کی وفادار سپاہی سمجھی جاتی تھیں۔ 2010 ء میں آنندی بین کی بیٹی کی ایک کمپنی کو کوڑیوں کے مول بیش قیمت زمین کا الاٹمنٹ کیا گیا تھا۔ یہ اسکینڈل اس لئے نہیں اُٹھ سکا کہ گجرات میں کسی میں ہمت نہیں تھی کہ مودی کو روک سکے ورنہ اس وقت مسئلہ ہوّا بن جاتا تھا۔ عوامی مقبولیت کی کمی، دلتوں کا احتجاج اور پٹیل برادری کا ایجی ٹیشن بی جے پی کے گجرات میں زوال کا نکتۂ آغاز بن رہا ہے اور بہت جلد یہ دہلی پر بی جے پی حکومت کے زوال کا ذریعہ بن جائے گا۔ اترپردیش میں تمام سیاسی طاقتیں بشمول کانگریس پارٹی خم ٹھونک کر بی جے پی کا مقابلہ کررہی ہیں۔ پچھلے ہفتے صدر کانگریس سونیا گاندھی نے اترپردیش کے شہر بنارس میں روڈ شو کیا تھا جو غیر معمولی طور پر کامیاب سمجھا جارہا ہے۔ سیاسی حلقوں (خاص طور پر سنگھ پریوار) میں سوال کیا جارہا ہے کہ کیوں کانگریس نے اپنی انتخابی مہم کے آغاز کے لئے بنارس شہر کا انتخاب کیا۔ حالانکہ یہ سوال کوئی معنی نہیں رکھتا۔ کل ہند پارٹی کی صدر کی حیثیت سے سونیا گاندھی اترپردیش کے کسی بھی شہر سے انتخابی مہم شروع کرسکتی ہیں۔ بنارس کا انتخاب شاید اس لئے بھی کیا گیا کہ وزیراعظم مودی کا پارلیمانی حلقہ ہے۔ پنجاب میں جہاں اس سال چناؤ ہونے والے ہیں اکالی دل۔ بی جے پی کی حکومت عوام کی نظر میں گر چکی ہے۔ بہار میں بی جے پی کو شکست اٹھانی پڑی۔ دہلی کی ریاستی اسمبلی میں تو بی جے پی کو عام آدمی پارٹی کو دھول چاٹنے پر مجبور کردیا اور یہ تمام واقعات بی جے پی کے 2014 ء میں اقتدار پر آنے کے بعد ہوئے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی مائل بہ زوال ہے۔ بی جے پی کی مقبولیت میں اضافہ کرنے کے لئے اب دوبارہ مودی کا سحر نہیں چل سکتا۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی مودی کی مرہون منت رہی۔ جس کا آغاز گجرات ریاست میں ان کے دورِ وزارت اعلیٰ سے ہوا تھا۔ اب ان کی آبائی ریاست ہی میں حالات بگڑ گئے ہیں اس لئے یہ واقعات ان کے سیاسی عروج کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT