Saturday , August 19 2017
Home / ہندوستان / گجرات میں نابالغ لڑکی کا اغوا اور عصمت ریزی

گجرات میں نابالغ لڑکی کا اغوا اور عصمت ریزی

زبردستی شادی کیلئے بھیانک جرم کا ارتکاب
احمد آباد۔/27ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) گجرات میں ضلع موربی کے موضع کولاڈا نیانی میں پیش آئے صدمہ انگیز واقعہ میں ایک 15 سالہ لڑکی کا اغوا کرنے کے بعد ایک زرعی گڑھے میں جبراً محروس رکھتے ہوئے ایک نوجوان نے مسلسل عصمت ریزی کا شکار بنایا۔ ماہ نومبر میں اس لڑکی کو یرغمال بنانے کے بعد جاریہ ماہ آزاد کردیا گیا۔ ونکا نیر پولیس اسٹیشن کے عہدیدار نے بتایا کہ 19سالہ نوجوان نریش سولنکی کے خلاف اغوا، غیر قانونی محروس اور عصمت ریزی کا کیس درج کرلیا گیا ۔ اس جرم میں اعانت کرنے پر نوجوان کے 7افراد خاندان کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی گئی۔ اس جرم کی وجہ جبراً شادی بتائی جاتی ہے کیونکہ ملزم کے رشتہ دار متاثرہ لڑکی کے ساتھ شادی کرنا چاہتے تھے جن کا تعلق ایک ہی ذات دیوی پوجکس سے ہے لیکن شادی کی پیشکش سے انکار کردیا گیا تھا۔ نریش کے رشتہ داروں نے لڑکی کے اغوا کا منصوبہ بنایا جس کے مطابق 11نومبر کو لڑکی کا اغوا کرکے گاؤں سے 2کلو میٹر دور ایک زرعی کھیت لے گئے اور 8×8 گٹ کا گڑھا کھودکرلڑکی کو باندھ کر ڈال دیا لکڑیوں کی چھت بناکر ڈھانپ دیا گیا تاکہ کسی کو بھی کوئی شبہ نہ ہوسکے۔ اس لڑکی کی 9 ہفتوں تک مسلسل عصمت ریزی کی گئی۔ تاہم لڑکی کے والد اور مقامی دیہاتیوں نے بالآخر خفیہ ٹھکانہ کا پتہ چلالیا جس کے بعد 4 ڈسمبر کو لڑکی آزاد کردی گئی۔ پولیس نے لڑکی کے بیان پر 8افراد بشمول نریش، اس کے بھائی ہریش، والد جناتھ ، بھائی سولنکی اور دادا چتوربھائی سولنگکی کے خلاف کیس درج کرلیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT