Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / گجرات میں 9 افراد ہلاک، فوج کا فلیگ مارچ

گجرات میں 9 افراد ہلاک، فوج کا فلیگ مارچ

سنگباری اور فائرنگ کے واقعات، مزید شہروں میں کرفیو نافذ، بند کی وجہ سے معمول کی سرگرمیاں مفلوج

امن کیلئے وزیراعظم اور چیف منسٹر کی اپیل ، گجراتی زبان میں ٹیلیویژن پر خطاب

احمدآباد ۔ 26 اگست (سیاست ڈاٹ کام) آج وسیع پیمانے پر کوٹہ احتجاج کی بناء پر جاری تشدد پر قابو پانے میں پولیس کی مدد کیلئے فوج طلب کرلی گئی۔ گجرات میں پٹیل برادری نے کوٹہ کیلئے احتجاج شروع کر رکھا ہے جس میں تاحال 9  افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ آج شام فوج نے شہر میں فلیگ مارچ کیا جبکہ ریاست کے چند علاقوں سے تشدد کے اکا دکا واقعات کی اطلاعات ملی۔ وزیراعظم نریندر مودی کی امن کیلئے اپیل کی پرواہ کئے بغیر احتجاجیوں نے آتشزنی، سنگباری، سرکاری و خانگی جائیدادوں پر حملے جاری رکھے۔ پٹیل قائدین نے معمولات زندگی مفلوج کردینے کیلئے آج شہر میں بند کی اپیل کی تھی۔ احمدآباد، سورت، راجکوٹ، مہسانہ، پٹن، پالن پور، اونجھا، وس نگر اور جام نگر میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔ فوج کی پانچ کمپنیاں شہر احمدآباد کی نظم و ضبط کی صورتحال پر قابو پانے کیلئے طلب کردی گئی کیونکہ تشدد میں اضافہ ہوگیا تھا۔ احمدآباد کے ضلع کلکٹر راجکمار بینی وال نے کہا کہ فوج نے شہر کے پانچ علاقوں میں جہاں پرتشدد واقعات پیش آئے تھے، فلیگ مارچ کیا۔ فوج کی دو کمپنیاں سورت اور دیگر دو مہسانہ میں تعینات کی گئی ہیں۔ 5 ہزار نیم فوجی فورس کے ارکان عملہ گجرات لائے گئے ہیں۔ پولیس کی فائرنگ میں 6 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایک کل رات شروع ہونے والی جھڑپوں میں سر پر زخم آنے کی وجہ سے ہلاک ہوا۔ تین افراد احمدآباد، تین بناس کنٹھا کے دیہات گڑھ اور ایک مہسانہ میں ہلاک ہوا۔ قبل ازیں دن میں وزیراعظم نے گجراتی زبان میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے ان سے امن کی اپیل کی تھی اور پرزور انداز میں کہا تھا کہ مسائل کی یکسوئی بات چیت کے ذریعہ ہوسکتی ہے۔ مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے چیف منسٹر گجرات سے آج صبح گجراتی زبان میں بات چیت کی اور انہیں مرکز کی بھرپور تائید کا تیقن دیا۔ دریں اثناء 22 سالہ ہادرک پٹیل نے جو پٹیل انامت آندولن سمیتی کے قائد ہیں، نے پولیس پر تشدد کا الزام عائد کیا اور کہا کہ احتجاج میں آئندہ دنوں میں شدت پیدا کردی جائیں گی۔ احتجاجیوں پر تشدد کے آغاز کے الزام کی تردید کرتے ہوئے تحریک نے کہا کہ سیاسی ایماء پر تحریک میں پولیس خلل ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔

بند کے پیش نظر بیشتر علاقوں میں آج اسکولس، کالجس، دکانیں اور بینکس بند رہے۔ ہاردک کو مختصر حراست کے بعد کل رات رہا کردیا گیا۔ سرکاری بسیں اور ریلوے کی ٹریفک بھی متاثر ہوئی۔ پولیس کے بموجب احتجاجیوں نے ریلوے پٹریاں ریاست کے کم از کم 8 مقامات پر اکھاڑ دیں۔ فائرنگ میں ایک شخص ہلاک ہوا جبکہ ایک ہجوم مودھیرا چوراہے پر جو مہسانہ کے مضافات میں ہے، آج دوپہر سنگباری میں مصروف تھا۔ 23 راونڈ فائرنگ کی گئی جس میں ایک شخص نیلیش پٹیل ہلاک ہوگیا۔ بی ڈیویژن پولیس اسٹیشن کے عہدیدار رتن سنگھ نے کہا کہ پولیس فائرنگ میں تین افراد ہلاک ہوئے جبکہ ہجوم نے پالن پور کے قریب دیہات گڑھ کے پولیس اسٹیشن کو نذرآتش کرنے کی کوشش کی۔ احمدآباد پولیس فائرنگ سے وسترال کے علاقہ میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کو گھٹلوریا سے ایک نعش دستیاب ہوئی جو سر پر زخم کی وجہ سے ہلاک ہوا تھا۔ پولیس کے بموجب اسے شبہ ہیکہ کل رات جھڑپ کے دوران اسے زدوکوب کیا گیا تھا۔ آتشزنی اور سنگباری کے واقعات کی صورت کے کئی علاقوں سے اطلاع ملی کیونکہ احتجاجی بند اور عمل آوری کروانے کی کوشش کررہے تھے۔ چیف منسٹر آنندی بین پٹیل نے قبل ازیں دن میں امن کی اپیل کی تھی۔ نیک فوجی فورسیس کی کم از کم 53 کمپنیاں طلب کرلی گئی ہیں اور کچھ دیر بعد ریاست کے مختلف علاقوں میں فوج تعینات کردی جائیں گی۔ چیف منسٹر نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہمیں فوج طلب کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ انہوں نے عوام سے ہاتھ جوڑ کر صبر و تحمل اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ تقریباً 12 ٹرینیں ویسٹن ریلوے نے منسوخ کردیں اور 19 ٹرینوں کا ریاست گجرات میں راستہ تبدیل کردیا گیا۔ کئی مقامات پر پٹریاں اکھاڑ دی گئی تھیں۔ ایک ہجوم نے ایک مال گاڑی کو سابرمتی ریلوے اسٹیشن پر نذرآتش کرنے کی کوشش کی لیکن ریلوے پولیس نے اس کوشش کو ناکام بنادیا۔ اشرار نے جی ایس ٹی کراسنگ بھاونگر میں پٹریوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ 1000 افراد کے ایک ہجوم نے سورت میں بلدیہ کے گوداموں کو نذرآتش کردیا۔ موٹر سائیکلیں،

 

بسیں اور گاڑیاں سورت میں کئی مقامات پر نذرآتش کردی گئیں۔ کپڑا ملوں کا مرکز سورت آج پوری طرح بند رہا۔ ریاستی ریزرو پولیس کی مزید کمپنیاں تعینات کردی گئیں۔ سوراشٹر کے علاقہ میں راجکوٹ، جام نگر، بھاونگر اور پوربندر میں بند منایا گیا۔ تشدد کے اکادکا واقعات 4 اضلاع میں پیش آئے۔ شمالی گجرات کے اکثر شہروں میں مکمل بند منایا گیا۔ وسطی گجرات میں وڈودرا اور آنند میں بند کی اپیل پر ملا جلا ردعمل دیکھا گیا۔ پولیس کے بموجب پٹیل برادری کیلئے کوٹہ کے احتجاج نے پرتشدد شکل اختیار کرلی جبکہ ہاردک کو مختصر وقفہ کے لئے حراست میں لیا گیا تھا۔ ضلع پٹن میں کرفیو نافذ کردیا گیا کیونکہ فسادیوں پر قابو پانا ناممکن ہوگیا تھا۔ جام نگر میں اسی وجہ سے کرفیو نافذ کردیا گیا۔ پورے گجرات میں ایس آر پی کی 133 کمپنیاں اور مرکزی نیم فوجی فورسیس سی آر پی ایف اور بی ایس ایف کو تعینات کیا گیا۔ کئی مذہبی قائدین بشمول مراری باپو اور پرمکھ سوامی مہاراج نے عوام سے امن کی اپیل کی۔ ہر کمپنی 80 ارکان عملہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ احمدآباد میں 49، وڈودرا میں 6، سورت میں 10 اور راجکوٹ میں 3 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ باقی کمپنیاں ریاست کے دیگر علاقوں میں نظم و ضبط کی صورتحال کو قابو میں لانے کیلئے تعینات کی گئی ہیں۔ بس اسٹیشنوں پر بھی احتجاجیوں کے ہجوم نے گاڑیاں نذرآتش کردیں اور ریاستی وزیر زراعت کے دفتر پر حملہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT