Monday , June 26 2017
Home / مضامین / گجرات کے ایم پی بنے غازی آباد کی عورت کا شکار بی جے پی قیادت خاموش

گجرات کے ایم پی بنے غازی آباد کی عورت کا شکار بی جے پی قیادت خاموش

عرفان جابری
ہندوستان میں سیاست دانوں کے اخلاقی معیار میں گراوٹ کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے، جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ پہلے پہل اس معاملے میں صرف کانگریسی لیڈروں کی نشاندہی کی جاتی تھی، پھر اکثر علاقائی جماعتوں کے قائدین غیراخلاقی یا غیرسماجی سرگرمیوں مثلاً غنڈہ گردی میں ملوث ہونے لگے۔ سابقہ این ڈی اے دَورِ حکومت سے بی جے پی خود کو ’’مختلف طرز کی پارٹی‘‘ قرار دیتی رہی ہے یعنی کہ اُن کے پاس ڈسپلن ہے، کرپشن سے پاک قائدین ہیں، اور باکردار منتخب نمائندے ہیں، نیز حقیقی جمہوریت کے ساتھ پارٹی کے اُمور چلائے جاتے ہیں کسی مخصوص خاندان یا شخصیت کا پارٹی پر تسلط نہیں ہوتا۔ قارئین کرام کو یاد ہی ہوگا یا پچھلے 20 سال میں دو مرتبہ این ڈی اے حکمرانی کا جائزہ لیں تو آشکار ہوجائے گا کہ بی جے پی بھی گندی ہندوستانی سیاست سے بچی ہوئی نہیں ہے۔ اب نہ ڈسپلن اُس کا طرۂ امتیاز رہا، کرپشن اسکینڈل میں اس کے قائدین کے بھی نام آئے، باکردار بی جے پی کا بھانڈا ایم پی کے سی پٹیل کے تازہ معاملے نے پھوڑ دیا ہے۔ اور جہاں تک مخصوص خاندان کی بالادستی کا معاملہ ہے، اسے تو نریندر مودی نے اپنے آمرانہ طرز سے ایک شخص کی حکمرانی تک محدود کردیا ہے۔
ان میں سے ہر نکتہ پر تفصیلی روشنی ڈالی جاسکتی ہے لیکن بہت طوالت ہوجائے گی۔ اس تحریر میں بی جے پی ایم پی کے سی پٹیل کے کیس کی بات کرتے ہیں کیونکہ یہ معاملہ مرکز میں مودی دَور حکومت کا ہے جو اَب تک اپوزیشن پارٹیوں کے دَور حکمرانی کی خامیوں، غلطیوں، اسکینڈلوں کا ذکر کرنے میں کبھی چوکے نہیں ہیں۔ تاہم ، مئی 2014ء سے جب بھی کوئی مسئلہ اُبھرا ، طویل خاموشی کو انھوں نے اپنا شیوہ بنالیا۔ چاہے وہ سابقہ وزیر فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی کی تعلیمی قابلیت سے متعلق دروغ گوئی کا غیرسیاسی معاملہ ہے، چاہے دادری قتل کیس کا انتہائی تشویشناک مذہبی آزادی کا معاملہ ہو، پاکستان کے ساتھ سرحد پر ہندوستانی فوجیوں کو ہلاک کرکے اُن کی نعشوں کے ٹکڑے کردینے کا سنگین قومی سلامتی کا معاملہ کیوں نہ ہو۔
بی جے پی کے رکن لوک سبھا کے سی پٹیل نے دہلی پولیس میں شکایت درج کرائی کہ غازی آباد (اتر پردیش) کی ایک عورت اُن سے کچھ مدد کیلئے رجوع ہوئی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اُن سے پینگیں بڑھائی اور غازی آباد میں اپنے مکان آنے کی دعوت دی اور یہ چلے گئے۔ جہاں انھیں اُس عورت نے جو دراصل جبری وصولیوں کی ایک گینگ چلاتی ہے اور خاص طور پر پارلیمنٹیرینس کو پھنساتی ہے، کوئی ڈرگس یعنی نیندآور دوا ملا ہوا سافٹ ڈرنک نوش کرایا اور وہ اپنے ہوش کھوبیٹھے۔ پھر اُس عورت نے اُن کے ساتھ جو کچھ کیا، وہ ناقابل اشاعت ہے جسے کیمرہ نے قید کرلیا۔ جب 67 سالہ ایم پی کو ہوش آیا تو اپنی حالت دیکھ کر پریشان ہوئے اور یہ پریشانی مزید بڑھ گئی جب عورت نے 5 کروڑ روپئے کا مطالبہ کیا، ورنہ ……
بی جے پی ایم پی کی پولیس سے یہ شکایت کی ترجمانی میری طرف سے کوئی اختراع نہیں ، یہ تو ملک بھر میں میڈیا نے بھی پیش کیا اور حقیقت پر مبنی ہے۔ مجھے پٹیل جی کی پولیس سے شکایت پر اچنبھا ہوا، اس لئے کہ یہ کوئی پریشان حال اسکولی بچہ کا دیا گیا بیان معلوم ہوتا ہے۔ کے سی پٹیل گجرات کے نمائندہ ایم پی ہیں، ملزمہ کا تعلق اترپردیش سے ہے جہاں سے موجودہ طور پر درجنوں بی جے پی قائدین لوک سبھا کیلئے منتخبہ ہیں۔ پٹیل نے اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کہ ایسا کیا مسئلہ رہا جس میں اُس عورت کی مقامی بی جے پی قائدین، ایم ایل اے یا پھر ایم پی مدد نہیں کرسکتے تھے کہ انھوں نے سب کو نظرانداز کرکے خود معاملے میں پڑنے کو ترجیح دی۔ پھر یہ بھی واضح نہیں کہ عورت تو اُن سے نئی دہلی میں رجوع ہوئی تھی، اس کی مدد کیلئے انھیں غازی آباد تک اور پھر  اُس کے مکان میں جانا کیوں ضروری ہوا؟ ایم پی یا ایم ایل اے تو دور کی بات ، آج کا کوئی بلدی کارپوریٹر تک اس طرح تنہا اجنبی مقام پر اجنبی لوگوں کے گھروں میں جانے کا جوکھم مول نہیں لیتا؛ پھر ایم پی کے تمام تر سرکاری مددگار، سکیورٹی عملہ اس پورے معاملے میں کونسی ڈیوٹی پر لگے ہوئے تھے، کیا ان سب کو چھٹی پر بھیج دیا گیا تھا؟
میرے ان سوالات کا یہ مطلب نہیں کہ وہ عورت اور اُس کی گینگ بے قصور ہے اور تمام تر غلطی ایم پی صاحب کی ہے۔ ایسا بالکل نہیں۔ تاہم، یہ ذہن نشین رکھنا ہوگا کہ پارلیمنٹ کسی بھی ملک کا اہم ترین قانون ساز ادارہ ہوتا ہے، وہاں کا ممبر اگر اس طرح بچکانہ اور غیرذمہ دارانہ عمل کرتا ہے تو اس سے قانون سازی جیسے حساس اور اہم امور میں کیا توقع رکھی جاسکتی ہے۔ وہ عورت اور اُس کی ٹولی تو بے شک خاطی ہے کیونکہ جنسی طور پر جو کچھ ہوا وہ چاہے مرضی سے ہو یا زبردستی یا پھر مجرمانہ سازش کے تحت  …  بہرحال قابل گرفت ہے۔ چنانچہ پولیس اس عورت کو گرفتار کرچکی اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
کے سی پٹیل کا کہنا ہے کہ اُن کے خلاف عورت کے سب الزامات جھوٹ ہیں۔ انھیں قانون پر پورا بھروسہ ہے اور تحقیقات میں تعاون کریں گے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی انکوائری کے مطابق وہ عورت بلیک میل ریاکٹ چلاتی ہے جو صرف پارلیمنٹیرینس کو پھانستی ہے تاکہ ان سے رقومات اینٹھ سکے۔ اُس کا عمومی طریقہ کار یہی ہوتا ہے جیسا کے سی پٹیل کے معاملے میں ہوا۔ وہ کسی ایم پی سے کچھ مدد کیلئے رجوع ہوتی ہے اور چکنی چپڑی باتوں سے پینگیں بڑھاتی ہے۔ پھر اپنے مکان مدعو کرکے مہمان لیڈر کے ساتھ اپنے نازیبا حالت کی تصاویر بنواتی ہے، ویڈیو بھی تیار کرواتی ہے تاکہ وہ دکھاکر لیڈر کو بلیک میل کرتے ہوئے رقم کا مطالبہ کیا جاسکے۔ کبھی وہ کوئی اچھا جاب دلانے کا اصرار بھی کرتی ہے ، ورنہ لیڈر کے خلاف ریپ کا کیس درج کرانے کی دھمکی دیتی ہے۔ غازی آباد کی اس  عورت کے خلاف یہ پہلا کیس نہیں ۔ گزشتہ سال اُس نے دو پارلیمنٹیرینس کو پھانس کر اُن سے بڑی رقم کا مطالبہ کیا تھا۔
یہاں ایک اور تشویشناک بات اُبھرتی ہے کہ جب گزشتہ سال ہی اس عورت نے دو ارکان پارلیمنٹ کو پھنسایا تھا تو پھر وہ کس طرح اتنی آزادی سے غازی آباد سے دہلی آتے جاتے ہوئے ہنوز ایم پیز کو پھنسانے میں کامیاب ہورہی ہے۔ معمولی چوروں ، سارقوں اور پاکٹ مار افراد کی تصویریں عوام و خواص کو چوکنا کرنے کیلئے پولیس اسٹیشنوں، بس اسٹیشنوں، ریلوے اسٹیشنوں، بینکوں و دیگر عوامی مقامات پر لگائے جاتے ہیں۔ پھر یہ کیوں کر ممکن ہوا کہ غازی آباد کی عورت یکے بعد دیگر ایم پی کو نشانہ بنارہی ہے اور گرفت کرنے والا کوئی نہیں؛ اور نا ہی عوام کے منتخب رکن پارلیمان کا ’نالج نٹ ورک‘ اتنا چوکس ہے کہ وہ ایسے چالبازوں، دھوکے بازوں اور مجرم افراد کے جھانسے میں آنے سے محفوظ رہ سکیں۔ یہاں ایک طرف کے سی پٹیل ہے اور دوسری طرف ایک عورت (صنف ِ نازک) جو دل پھسلانے والی گفتگو بھی کرتی ہے۔ اس لئے حلقہ لوک سبھا ولساڈ(گجرات) سے منتخب ایم پی خود کو بالکلیہ بے قصور نہیں قرار دے سکتے۔
رکن پارلیمان کے سی پٹیل کی شکایت پر عورت تو گرفتار ہوچکی اور انکوائری جاری ہے۔ معاملہ برسراقتدار پارٹی سے وابستہ ایم پی کا ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ ہندوستان میں ہمیشہ بالخصوص پولیس محکمہ پر بعض کیسوں میں سیاسی دباؤ کے تحت کام کرنے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کے سی پٹیل کیس میں حقیقت ِ حال کتنی مدت میں آشکار ہوجاتی ہے اور مجرم کو کیا سزا ملتی ہے؟
اس میں کوئی قانونی یا دستورِ ہند کے اعتبار سے پابندی تو ہے نہیں کہ ایک ریاست کا نمائندہ ایم پی کسی دیگر ریاست کے شہری کی بپتا نہ سُنے اور اگر اُس کے مسئلہ میں کچھ مدد کرسکتا ہے تو نہ کرے۔ چنانچہ گجرات کے نمائندہ کے سی پٹیل سے غازی آباد کی عورت کا کسی مسئلہ کے ساتھ رجوع ہونا کوئی غیرقانونی کام نہیں ہوا۔ مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا اور رکن پارلیمنٹ کو خود پولیس کی مدد لینا پڑا، یہ باتیں بعض سوالات کو جنم دیتی ہیں اور برسراقتدار پارٹی کے ایم پی کے اخلاقی معیار پر سوال اُٹھاتی ہیں۔ کیا وزیراعظم ہند اس پر توجہ دینا چاہیں گے؟ کیا وہ اس معاملے میں کچھ درس دینا چاہیں گے؟ کیا وہ اس معاملے میں بھی اُسی طرح خاموشی اختیار کرلیں گے جیسا کہ اب تک کئی اہم معاملوں میں کرچکے ہیں، جن میں سے بعض کا ذکر ان ہی سطور میں آچکا ہے؟
اصل بات تو یہ ہے کہ کیا بی جے پی، کیا کانگریس اور کیا علاقائی جماعتیں  …  عوامی خدمت کا جذبہ ناپید ہوچکا ہے جو ماضی میں سیاسی پارٹی اور لیڈر کا خاصہ ہوا کرتے تھے۔ موجودہ دَور کی سیاست اخلاقی پستیوں میں دھنستی چلی جارہی ہے۔ اور ایک بات واضح کردوں کہ شاید Politics ہی اب ایسا شعبہ رہ گیا ہے جس میں کوئی مذہبی بھید بھاؤ نہیں، یعنی ایسا نہیں کہ فلاں مذہب سے تعلق رکھنے والا لیڈر دیانت دار اور اچھی صفات والا ہے اور فلاں مذہب کا ماننے والا بدعنوان اور بدمعاش سیاستدان ہے۔ بہ الفاظ دیگر گھٹیا سیاست کے معاملے میں سب یکساں قبیل کے ہیں، کوئی کم خراب ہے تو وہ زیادہ خراب لیڈر کو دیکھ کر بڑا مطمئن ہے کہ میں اتنا خبیث تو نہیں۔ افسوس کہ اس کے برعکس سوچنے والے سیاستداں منظر سے اوجھل ہوتے جارہے ہیں!
[email protected]

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT