Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / گجرات کے داغدار پولیس عہدیداروں کے کنٹراکٹ تقرر کو چیلنج

گجرات کے داغدار پولیس عہدیداروں کے کنٹراکٹ تقرر کو چیلنج

حیدرآبادی نوجوان مجاہد سلیم کے قاتلو ں کے خلاف گجرات کے ریٹائرڈ آئی پی ایس عہدیدار سپریم کورٹ سے رجوع

حیدرآباد 23 جولائی (سیاست نیوز) گجرات کے دو داغدار پولیس عہدیداروں نریندر کمار امین اور ترون بیروٹ کو کنٹراکٹ تقرر کے خلاف سپریم کورٹ میں داخل کی گئی درخواست مفاد عامہ پر کورٹ نے گجرات حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے جبکہ مذکورہ عہدیداروں کے خلاف شہر میں ایک قتل کا مقدمہ بھی زیرالتواء ہے۔ این کے امین اور ترون بیروٹ سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر، عشرت جہاں فرضی انکاؤنٹر اور دیگر مقدمات میں طویل عرصہ تک جیل میں رکھے گئے تھے اور گزشتہ سال ضمانت پر رہا ہونے کے بعد حکومت گجرات نے وظیفہ پر سبکدوش ہونے کے باوجود اُنھیں دوبارہ کنٹراکٹ پر تقرر کیا تھا۔ اس تقرر کے خلاف گجرات کے ایک ریٹائرڈ آئی پی ایس عہدیدار راہول شرما نے سپریم کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے الزام عائد کیاکہ مذکورہ دو عہدیداروں جن کا ریکارڈ انتہائی داغدار ہے، اُنھیں کن وجوہات کی بناء پر دوبارہ محکمہ پولیس میں تقرر کیا گیا۔ مذکورہ عہدیداروں کی داغدار ریکارڈ میں ایک ایسا کیس بھی موجود ہے جس میں شہر کے ایک نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ واضح رہے کہ 30 نومبر 2004 ء کو اُس وقت کے تحریک تحفظ شعائر اسلام تنظیم کے مولانا محمد نصیرالدین کو گجرات کے ایک کیس میں احمدآباد پولیس کی کرائم برانچ کی خصوصی ٹیم اُنھیں منتقل کرنے کے دوران سعیدآباد کے ایک نوجوان مجاہد سلیم اعظمی کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ اِس واقعہ کے بعد سیف آباد پولیس نے دو علیحدہ مقدمات درج کئے تھے جس میں پہلا مقدمہ جس کا کرائم نمبر 882/2004 ہے مسلم نوجوانوں کے خلاف گجرات پولیس پر حملہ کرنے کا تھا جبکہ ایک اورکیس نمبر جس کا کرائم نمبر 883/2004 ہے، این کے امین اور اس کی ٹیم کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ نوجوانوں کے خلاف درج کئے گئے مقدمے کی تحقیقات اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کے حوالے کردی گئی تھی جبکہ گجرات پولیس کے خلاف درج کئے گئے مقدمے کی تحقیقات کو دوسرے پولیس عہدیداروں کے حوالے کیا گیا تھا اور اس کیس سے متعلق کوئی تفصیلات موجود نہیں ہیں جبکہ اس کیس سے متعلق ایف آئی آر کورٹ میں زیردوران ہے۔

 

TOPPOPULARRECENT