Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / گداگروں کا بھی پرانے نوٹس لینے سے انکار

گداگروں کا بھی پرانے نوٹس لینے سے انکار

سارقوں کا نئے نوٹس نشانہ ، شراب کی دکان سے نئے نوٹس سرقہ کو ترجیح
حیدرآباد۔17نومبر(سیاست نیوز) نئے کرنسی نوٹ سارقوں کی بھی پہلی پسند بن چکے ہیں اور وہ بھی اب منسوخ شدہ کرنسی نوٹ کی چوری سے اجتناب کرنے لگے ہیں۔8نومبر کو 1000اور 500کے کرنسی نوٹ بند کردیئے جانے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر کئی ایسی ویڈیوز گشت کرنے لگی جن میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی کہ 9نومبر کے بعد بھکاری بھی 1000اور500کے نوٹ لینے سے انکار کررہے ہیں ۔ ان ویڈیوز کی سوشل میڈیا پر گشت شائد مضحکہ خیز انداز میں کی گئی تھی لیکن اب یہ حقیقت بنتی جا رہی ہے اور سارق چوری کے دوران پرانے نوٹوں کے بجائے نئے نوٹوں کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ ضلع ورنگل کے علاقہ کاشی بگا کی ایک شراب کی دکان میں پیش آئی سرقہ کی واردات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ سارقوں کو بھی اب منسوخ شدہ نوٹوں سے کوئی دلچسپی نہیں رہی ۔ جس شراب کی دکان میں سرقہ کی واردات پیش آئی ہے اس دکان میں سارقوں نے 1000اور 500کے نوٹوں کو ہاتھ تک نہیں لگایا بلکہ 1000اور 500کے علاوہ جو چھوٹی کرنسی تھی اسی کی چوری پر اکتفاء کیا گیا۔ شراب کی دکان کے مالک نے بتایا کہ دکان میں ایک لاکھ روپئے کی کرنسی موجود رہنے کے باوجود قفل شکنی کے ذریعہ صرف 35000کے چھوٹے کارآمد کرنسی نوٹوں کا سرقہ کیا گیا جس سے یہ کہا جا سکتا ہیکہ اب چور واقعی ان نوٹوں کے متعلق نہیں سونچ رہے ہیں جن کا حساب دینا پڑے گا۔ نوٹوں کی تنسیخ کے ساتھ ہی سوشل میڈیا میں گشت کئے گئے پیغاموں میں یہ بھی ایک پیغام تھا کہ اب چور نہیں آئیں گے اور حقیقت میں چوروں کی پسند بھی کارآمد نوٹ بن چکے ہیں اور اس کرنسی کو ہاتھ نہیں لگایا جار ہا ہے کہ کہیں ان کرنسی نوٹوں کو تبدیل کروانے کے چکر میں ان کی واردات کا علم نہ ہوجائے۔ سارقوں کی جانب سے کی جانے والی ان کاروائیوں پر اب نئے نوٹ رکھنے والوں کو بھی چوکنا ہو جانا چاہئے کیونکہ وہ بھی سارقوں کا آسان نشانہ بن سکتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT