Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / گداگروں کی معاشی حالت ڈگری یافتہ ملازمین سے بہتر!

گداگروں کی معاشی حالت ڈگری یافتہ ملازمین سے بہتر!

گداگر اُنھیں بطور رقم روپیہ ، دو روپئے دینے سے والوں سے زیادہ کمالیتے ہیں
نئی دہلی۔23جولائی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) قومی راجدھانی خطہ (این سی آر) کی تقریباً ڈیڑھ فیصد آبادی بھکاریوں کی ہے جن سے روزانہ عام لوگوں کا واسطہ پڑتا ہے ، لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ ان میں سے زیادہ تر کی حالت ان ڈگري یافتہ نوکری پیشہ لوگوں سے کافی اچھی ہے جو ان پر رحم کھاکر ان کے پیالے میں ایک دو روپے کے سکے ڈال کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔گلاب کے پھول کے ساتھ نوئیڈاکے سیکٹر 15 میٹرو اسٹیشن کے قریب بھیک مانگنے والا بہار کے شیوہر ضلع کا 26 سالہ سنیل ساہنی کہتا ہے کہ ’’میرے لئے کاروبار کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے ، کیونکہ کاروبار سے میرے بھیک مانگنے کے کام میں رخنہ پڑتا ہے ۔ میں یومیہ دو شفٹوں میں 1200 سے 1500 روپے بھیک مانگ کر کما لیتا ہوں‘‘۔سنیل اس پیشے سے ہر ماہ 36 سے 45 ہزار روپے کما لیتا ہے ، جو انہیں چند سکے دینے والے تعلیم یافتہ نوکری پیشہ لوگوں کی کمائی سے زیادہ ہے ۔ سنیل بچپن میں پولیو کا شکار ہو گیا تھا۔ وہ دونوں پیروں سے معذور ہے ۔ ماں کے علاوہ چھوٹے بھائی بہنوں کی ذمہ داری اس کے کاندھوں پر ہے ۔ وہ بالکل نہیں چاہتا کہ اس کے چھوٹے بھائی کو یہ دن دیکھنا پڑے ۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’بھیک مانگنے کا کام عزت دارانہ نہیں ہے ،کوئی بھی، جب چاہے ہمیں دھتکار کر چلا جاتا ہے‘‘۔کچھ بھکاری اپنا نام پتہ ظاہر نہیں کرنا چاہتے ۔ گذشتہ دو برسوں سے ایک میٹرو اسٹیشن کے باہر بیٹھنے والے دونوں ہاتھوں سے معذور اشوک (تبدیل کیا ہوا نام) اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’ایک تو میں برہمن ہوں، اور دوسرے بہن کی شادی بھی کرنی ہے ۔ اگر میرا صحیح پتہ ٹھکانہ شائع ہو گیا تو میری بہن سے شادی کون کرے گا‘‘؟ ویسے اشوک جہاں بیٹھتا ہے وہاں عام دنوں میں ایک گھنٹے بیٹھنے سے 70 سے 100 روپے کی آمدنی ہوجاتی ہے ۔ تقریباً سات آٹھ سال قبل تھریسر میں ہاتھ چلے جانے کے بعد انفیکشن کی وجہ سے اسے اپنے دونوں ہاتھ گنوانے پڑے تھے ۔ علاج میں چھ بیگھہ زمین بھی فروخت کرنی پڑی ۔ علاج میں پونے 12 لاکھ روپے خرچ ہو گئے ، اس کے باوجود اس کے ہاتھ بچ نہ سکے ۔ اسے پیٹ بھرنے کے لئے بھیک مانگنے سے بہتر کوئی دوسرا متبادل نظرنہیں آیا۔اشوک نے اپنی مدد کے لئے گاؤں کے ہی ایک بے روزگار نوجوان کو بلایا ہے ۔ نارائن نامی نوجوان اب اشوک کی ہر ضرورت پوری کرتا ہے اور بدلے میں اسے رہنے کیلئے مفت میں کمرہ ملا ہوا ہے ۔ اس دوران وقت ملنے پر وہ اپنی ریہڑی سے کچھ کمائی بھی کر لیتا ہے ۔ نارائن نے بتایا کہ اس کام سے میں پوری طرح مطمئن ہوں۔ میں روزانہ 100 سے 200 روپے الگ سے کما لیتا ہوں۔ان معذور بھکاریوں کی باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں اپنے کنبے سے کوئی مدد نہیں ملتی، جس کی وجہ سے انہیں اس دھندے کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔ پیدائش سے معذور عرفان ملک نے بتایا کہ ہم چار بھائی ہیں، لیکن کوئی کسی کی مدد نہیں کرتا۔ سبھی کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہیں۔کچھ بھکاری ایسے بھی ہیں جو اپنے پورے کنبے کے ساتھ بھیک مانگتے ہیں۔ ان میں کئی خواتین بھی ہوتی ہیں جو روزانہ 250 سے 300 روپے تک کما نے کا دعوی کرتی ہیں۔ ایک میٹرو اسٹیشن پر اپنے دو بچوں کے ساتھ بھیک مانگ رہی مدھیہ پردیش کی کوشلیا دیوی نے بتایا کہ اس کے شوہر کے دونوں پیر ٹوٹ گئے ہیں، جس کی وجہ سے اسے بھیک مانگنے کے لئے مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ کچھ بھکاری بچے سماجی جرائم کا نتیجہ ہوتے ہیں ، مثلا بچوں کو اغوا کرکے معذور بنادیا جاتا ہے اور انہیں بھیک مانگنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT