Sunday , August 20 2017
Home / مضامین / گداگری

گداگری

کے این واصف
تغیر یا تبدیلی ایک فطری عمل ہے ۔ صدیوں پرانی انسانی تاریخ نے اس کرہ ارض پر زندگی کے ہر شعبہ میں تبدیلیاں دیکھی ہیں ۔ آج ہم جس موضوع پر کچھ لکھنے جارہے ہیں اس میں بھی وقت کے گزرتے تبدیلیاں آئی ہیں ۔ ہم کوئی گمبھیر مسئلہ کی بات نہیں کررہے ہیں ۔ ہمارا آج کا موضوع ہے گداگری ۔جو وقت کے گزرتے ایک صنعت کی شکل اختیار کرگئی ہے ۔ مانگ کر کھانا یا اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کیلئے دست طلب دراز کرنے کا طریقہ انسانی تہذیب کی تاریخ کے برابر ہی ہوگا ۔ مگر اگلے وقتوں میں لاچار ، ضعیف ، بے یار و مددگار  ،بیمار ، کمزور، اپاہج وغیرہ جیسے افراد مانگ کر اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کرتے تھے ۔ پھر شاید کچھ کام چور اور محنت سے جی چرانے والوں نے مساجد ، خانقاہوں اور دیگر عبادت گاہوں کے پاس بیٹھ کر آواز لگاکر سکے اکٹھا کرنے کا دھندا شروع کیا ۔ اور پھر بھیک مانگنے کے نت نئے طریقے ایجاد ہونے لگے ۔ جھوٹی کہانیاں سنا کر بھیک مانگنا ، مصنوعی معذوری دکھا کر بھیک مانگا ، گا بجا کر بھیک مانگنا ، کوئی فن بتا کر بھیک مانگنا ، کرتب دکھا کر بھیک مانگنا ، جانوروں کے کھیل دکھاکر بھیک مانگنا وغیرہ وغیرہ ۔ گزرے وقتوں میں مانگنے والے مزاجاً مسکین ہوا کرتے تھے ۔ دینے والوں کی منت سماجت کرتے تھے ۔ اس پر بھی کچھ لوگ ان پر غصہ اور ناراضگی دکھاتے تھے ۔ اسی لئے کسی شاعر نے کہا تھا

سائل سے خفا یوں مرے پیارے نہیں ہوتے
کیا مانگنے والوں کے گزارے نہیں ہوتے
مگر آج کل یہ ’’جو دے اس کا بھلا جو نہ دے اس کا بھی بھلا‘‘ کہنے والے قانع و صابر فقیر نہیں رہے ۔ آج کے مانگنے والے اگر انھیں کچھ کہو تو وہ آپ کو الٹا کھری کھری سنادیتے ہیں ۔ بلکہ آپ خیرات کرنے سے انکار کریں تو بھی آپ کو کچھ نہ کچھ سنا ہی دیتے ہیں ۔ ان مانگنے والوں کے کئی اقسام ہیں ۔ جیسے گھر گھر گھوم کر مانگنے والے ، عبادت گاہوں کے پاس بیٹھ کر مانگنے والے ، ریل گاڑیوں میں گھوم کر مانگنے والے وغیرہ ۔ ان سب میں ٹرافک سگنل پر مانگنا آج سب سے مقبول ہے ۔ ٹرافک سگنل پر مانگنے والے صرف ہندوستان میں نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ملیں گے ۔ خود سعودی عرب جہاں بھیک مانگنا ممنوع اور غیر قانونی ہے،  یہاں بھی آپ ہر بڑی سڑک کے ٹریفک سگنل پر بھیک مانگنے والے دیکھیں گے ۔ ٹرافک سگنل پر بھیک مانگنا اس لئے بھی مقبول ہورہا ہے کیونکہ یہ کام بہت آسان ہے ۔ گھر گھر جا کے آواز لگانے میں کافی پیدل چلنا پڑتا ہے مگر سگنل پر ہر دو ، تین منٹ بعد نئی گاڑیاں آکر لگتی ہیں ۔ صرف دس بیس قدم آگے پیچھے چلنے سے کام بن جاتا ہے ۔ ہندوستان میں حال میں ’’ٹریفک سگنل‘‘ نام سے ایک فلم بھی بنی تھی جس میں سگنل پر مانگنے والوں کے پیچھے جو gangs ہوتے ہیں جو مانگنے والوں کو مختلف سگنل الاٹ کرتے ہیں جس کی وہ یومیہ فیس یا بھتہ بھی وصول کرتے ہیں وغیرہ دکھایا گیا تھا ۔ سگنل ٹریفک کے اعتبار سے جتنا مصروف ہوگا اس کی اتنی زیادہ مانگ اور قیمت ہوگی ۔ سنا ہے کہ یہ مانگنے والے زیادہ آمدنی دینے والے سگنل دوسروں کو بڑی رقم لیکر سگنل پر بھیک مانگنے کا ’’حق گداگری‘‘ منتقل کرتے ہیں ۔ ہم نے یہ بھی سنا کہ ایک فقیر نے اپنا سگنل اپنی بیٹی کے جہیز کے طور پر داماد کے نام منتقل کردیا ۔
جو این آر آئیز چھٹی پر وطن آتے ہیں وہ اشیاء کی قیمت کو ایک کے پندرہ کے حساب پر تقسیم کرکے دیکھتے ہیں ۔ لہذا ان کے نزدیک روپیہ کی قیمت کم رہتی ہے ۔ سنا ہے کہ کوئی این آر آئی وطن میں سگنل پر گاڑی روکی تو فوری ایک فقیر اس کے پاس آگیا ۔ اس نے جیب سے 500 روپئے کا نوٹ نکال کر فقیر کو دیا ۔ فقیر نے بھی فورا 400 روپئے این آر آئی کو واپس کئے ۔ این آر آئی نے پوچھا یہ کیا تو فقیر نے جواب دیا باقی کے پیسے ۔ تو این آر آئی نے کہا نہیں میں نے تم کو 500 کا نوٹ ہی دیا ہے اسے رکھ لو ۔ اس پر فقیر نے کہا نہیں صاحب آپ یہ رقم لے لیں ۔ میں بھی کبھی این آر آئی ہی تھا اور اسی طرح فقیروں کو 500 اور ایک ہزار کے نوٹ دیا کرتا تھا۔

گداگری جو اب ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کرگئی ہے پر کافی فلمیں اور ٹی وی سیریلس بن چکے ہیں ۔ لیکن یہاں ہمیں کوئی 35 ، 40 سال قبل ماہنامہ شمع میں پڑھا ایک افسانہ یاد آرہا ہے ۔ جس میں ایک نوجوان نوکری کی تلاش میں کسی بڑے شہر جاتا ہے ۔ کئی روز کی تگ و دو کے بعد بھی اسے کوئی ملازمت نہیں ملتی ۔ ایک دن وہ ایک اخبار کے دفتر پہنچتا ہے اور ایڈیٹر سے کہتا ہے کہ میں پڑھا لکھا ہوں ۔ کئی دن سے روزگار کی تلاش میں ہوں ۔ لیکن اب یہ حال ہے کہ میرے پاس کھانے کو تک پیسے نہیں رہے اور میں دو روز سے بھوکا ہوں ۔ اس پر ایڈیٹر اس سے کہتا ہے میں ایک بہترین اعداد وشمار پر مبنی تحقیق شدہ مضمون شہر کے بھیک مانگنے والوں پر شائع کرنا چاہتا ہوں ۔ آپ یہ مضمون لکھئے ۔ اس سے آپ کی قابلیت کا امتحان بھی ہوجائے گا ۔ پھر ایڈیٹر نے جیب سے ایک سو روپیہ کا نوٹ نکالا اور نوجوان کو دیتے ہوئے بولا کہ یہ بطور ایڈوانس رکھئے اور جلد ایک اچھا مضمون تیار کرکے لے آیئے ۔ نوجوان تمام حقائق کو گہرائی اور قریب سے جاننے کیلئے طے کیا کہ عبادت گاہوں کے پاس بیٹھے فقیروں کے ساتھ وقت گزارا جائے ۔ نوجوان کی اس تحقیق میں ہوتا یہ ہے کہ جب لوگ قطار میں بیٹھے فقیروں کو سکے ڈالتے تو اس شخص کے آگے بھی لوگ سکے پھینکتے ۔ اس طرح ہر روز اس کو کافی وصولی ہونے لگتی ہے ۔ اور آہستہ آہستہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے ذہن سے وہ بات ہی نکل جاتی ہے جس کیلئے وہ عبادت گاہوں کے پاس فقیروں کی قطار میں بیٹھا تھا ۔ عبادت گاہوں پر ہجوم جمع ہونے کے کچھ مخصوص دن ہوتے ہیں ۔ عبادت گاہ کے پاس مانگنے والے اندھے فقیر ہفتہ میں کچھ دن گروپ کی شکل میں آواز لگاتے شہر کی مختلف سڑکوں پر گھومتے ہوئے بھیک مانگتے ہیں ۔ یہ نوجوان بھی ان اندھوں کے ساتھ ہولیتا ہے ۔ اس گروپ کے ساتھ گھومتے ہوئے ایک دن اس کی نظر اس اخبار کے دفتر پر پڑتی ہے ۔ جہاں سے اس نے مضمون لکھنے کے لئے سو روپئے بطور ایڈوانس لئے تھے ۔ نوجوان اندھوں کے گروپ کو کچھ دیر انتظار کرنے کو کہہ کرتیز رفتاری سے اخبار کے دفتر کی سیڑھیاں پھلانگتا ہوا اوپر پہنچتا ہے ۔ اسے دیکھتے ہی ایڈیٹر سوال کرتا ہے کیا مضمون تیار ہوگیا ۔ نوجوان جیب سے 100 کا نوٹ نکال کر ایڈیٹر کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے واپس ہوجاتا ہے اور اندھوں کے گروپ کے ساتھ آگے نکل جاتا ہے  ۔

ہم اس افسانے پر بغیر کوئی تبصرہ کئے اسے قارئین پر چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں ۔ قارئین کرام ! دراصل آج کے عنوان پر لکھنے کا خیال ہمارے ذہن میں تب آیا جب ہم نے تین روز قبل سعودی عرب کے انگریزی روزنامہ ’’عرب نیوز‘‘ میں ایک سرخی پڑھی کہ ایک سال کے عرصہ میں گرفتار کئے گئے فقیروں کے قبضہ سے برآمد کی گئی جملہ رقم 700 ملین ریال ہوئی ۔ سعودی عرب میں سرعام بھیک مانگنا غیر قانونی عمل ہے ۔ لیکن پھر یہاں ہر ٹریفک سگنل پہ آپ کو مانگنے والے نظر آتے ہیں جبکہ ان کی پکڑ دھکڑ بھی ہوتی رہتی ہے ۔ دراصل آج کے دور میں بھیک مانگنا ایک ایسا کاروبار ہے جس میں بغیر کوئی سرمایہ لگائے اور بغیر کسی جانفشانی کے اچھا خاصا پیسہ کمایا جاسکتا ہے ۔ بھیک مانگنا اب ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کرگیا جس کے پیچھے بڑے بڑے gangs کام کرنے لگے ہیں ۔
دنیا کے ہر خطہ یا ملک میں امیر ، غریب ، دولت و ثروت سے نوازے ہوئے اور تیرہ بخت ، متمول اور کم یافت والے لوگ ملتے ہیں ۔ دنیا میں کوئی بھوکا اور محتاج نہ رہے اس کا حل مذہب اسلام نے 1400 برس قبل دے دیا ہے وہ ہے زکوۃ کا نظام ۔ اس کے علاوہ اللہ کی راہ میں صدقہ اور خیرات کی اہمیت اور اس کے اجر سے بھی ہمیں واقف کرادیا گیا ۔ اگر سارے مسلمان احکام الہی کے پابند ہوجائیں تو شاید کم از کم مسلمانوں میں افلاس اور بھوک باقی نہ رہے ۔ دوسرے یہ کہ جس مقدار میں دنیا میں کھانا یا غذائی اشیاء ضائع کی جاتی ہیں ان کو ضرورت مندوں تک پہنچانے کا انتظام ہوجائے تو دنیا سے بڑی حد تک بھکمری ختم ہوجائے ۔ تیسرے یہ کہ جن کے پاس ہر چیز وافر مقدار میں میسر ہے اور وہ لوگ ان کا اسراف بند کریں تو بڑے پیمانے پر معاشی مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔ صرف لوگ غذائی اشیاء ، بجلی اور پانی کا اسراف بند کریں تو ان لاکھوں افراد کو روشنی نصیب ہوگی جو تاریکی میں جی رہے ہیں ۔ ان لاکھوں افراد کو پانی ملے گا جو بوند بوند کو ترستے ہیں اور دنیا کے نو کروڑ سے زائد انسانوں کو کھانا میسر آئے گا  جو ہر رات بھوکے سوجاتے ہیں ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT