Saturday , July 22 2017
Home / شہر کی خبریں / گذشتہ دو برسوں میں آبپاشی پراجیکٹس میں کوئی پیشرفت نہیں ‘ کانگریس

گذشتہ دو برسوں میں آبپاشی پراجیکٹس میں کوئی پیشرفت نہیں ‘ کانگریس

اپوزیشن کو مورد الزام قرار دینے کی مذمت ۔ حکومت کو تفصیلات پیش کرنے کانگریس لیڈر جیون ریڈی کا چیلنج
حیدرآباد۔ 21 مارچ (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر میں رکاوٹ کیلئے اپوزیشن کو موردالزام قرار دینے کی مذمت کی، اور کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں ٹی آر ایس حکومت نے آبپاشی پراجکٹس کی تکمیل کے سلسلے میں کوئی پیشرفت نہیں کی ہے۔ تلنگانہ اسمبلی میں آبپاشی اور دیگر محکمہ جات کے مطالباتِ زر پر مباحث کا آغاز کرتے ہوئے کانگریس ڈپٹی لیڈر ٹی جیون ریڈی نے حکومت کو چیلنج کیا کہ وہ گزشتہ دو برسوں میں آبپاشی پراجکٹس کی تکمیل میں کارناموں کو اجاگر کرے۔ انہوں نے کہا کہ دو برسوں میں حکومت نے سوائے اپوزیشن پر الزام تراشی کے کچھ نہیں کیا ۔ زیرالتواء پراجکٹس کے ڈیزائن میں تبدیلی اور ٹنڈرس میں تبدیلی کے ذریعہ بے قاعدگیوں کو ہوا دی گئی جس کے نتیجہ میں سرکاری خزانہ پر بھاری بوجھ پڑا ہے۔ جیون ریڈی نے کہا کہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے حکومت اپوزیشن کو نشانہ بنا رہی ہے، حالانکہ اپوزیشن نے پراجکٹس کی تعمیر میں کبھی رکاوٹ پیدا نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے اُن بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی ہے کہ جو پراجکٹس کی تکمیل میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹس کی تعمیر میں حکومت کی منصوبہ سازی اور ری ڈیزائننگ میں کئی خامیاں ہیں۔ انہوں نے ملنا ساگر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس پراجکٹ کے پانی کو نظام ساگر سے مربوط کرنے کا دعویٰ کررہی ہے جو کہ ناممکن اور مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کو پانی کی سربراہی پر توجہ دی جانی چاہئے۔ اس کے علاوہ حیدرآباد کے راستے میں حائل مواضعات اور صنعتوں کو بھی پانی درکار ہے۔ اس طرح حکومت کو تقریباً 60 ٹی ایم سی پانی کا انتظام کرنا ہوگا۔ انہوں نے پراناہیتا چیوڑلہ پراجکٹ کو قومی پراجکٹ کا درجہ دلانے کیلئے مرکز سے نمائندگی کی خواہش کی اور کہا کہ آندھرا پردیش حکومت نے پولاورم کو قومی پراجکٹ کا درجہ حاصل کرلیا ہے۔ مشن کاکتیہ پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے جیون ریڈی نے کہا کہ بہتر مانسون کے سبب ریاست کے تمام تالاب اور کنٹے زیرآب ہیں اور حکومت نے تالابوں اور جھیلوں کے تحفظ کیلئے 20,000 کروڑ روپئے کے خرچ کا منصوبہ بنایا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ رقم کب خرچ کی جائے گی۔ انہوں نے مجالس مقامی کے اداروں کو فنڈس کی عدم اجرائی کی شکایت کی اور کہا کہ 14 فینانس کمیشن نے مجالس مقامی کیلئے جو فنڈس جاری کئے ہیں، انہیں ریاستی حکومت روکے ہوئے ہے۔ منڈل پرجا پریشد اور ضلع پرجا پریشد جیسے ادارے حکومت کی عدم توجہی اور تساہل کے سبب معاشی بحران کا شکار ہیں اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی سے قاصر ہے۔ انہوں نے مجالس مقامی کو مستحکم کرنے سالانہ کم از کم 500 کروڑ روپئے جاری کرنے کی مانگ کی۔ کانگریس رکن کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے آبپاشی پراجکٹس کے ٹنڈرس میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کا الزام عائد کیا اور کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے باوجود آج بھی آندھرائی کنٹراکٹرس راج کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف چند کنٹراکٹرس کو جن کا تعلق آندھرا پردیش سے ہے، تلنگانہ حکومت سرپرستی کررہی ہے اور ہزارو کروڑ روپئے کے کام الاٹ کئے گئے۔ وینکٹ ریڈی نے حکومت کی کارکردگی اور اسکیمات پر عمل آوری میں شفافیت کی ضرورت ظاہر کی اور کہا کہ کانگریس پارٹی اپنے الزامات ثابت کرنے تیار ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT