Wednesday , August 23 2017
Home / ہندوستان / گرمی کی شدت دہی سے دور کیجیے

گرمی کی شدت دہی سے دور کیجیے

دہی صدیوں سے انسانی غذا کاحصہ چلاآرہا ہے۔ قدیم زمانے میں انسانی غذاکا اصل ذریعہ گائے، بھینس، بکری اور اونٹنی کادودھ ہوا کرتا تھا۔ خمیرکیا ہوا دودھ تازہ دودھ کے مقابلے میں زیادہ دنوں تک استعمال کیاجاسکتاتھا۔ہرموسم میں کھایاجانے والا دہی اپنے اندر افادیت کاخزانہ رکھتا ہے۔
دہی اصل وہ دودھ ہے، جسے لیکٹک ایسڈ (LACTIC ACID) یعنی، دودھ کے تیزاب کی مدد سے جمالیاجاتا ہے، جوگاڑھا ہوکر منجمد شکل اختیار کرلیتا ہے۔دہی گائے بھینس کے علاوہ بکری اور اونٹنی کے دودھ سے بھی بنایاجاسکتا ہے۔ دودھ اْبال کر ہلکا ٹھنڈا ہونے پر پہلے تیار شدہ تھوڑا سا دہی اس میں ملادیاجاتا ہے۔ کچھ گھنٹوں بعد یہ دہی کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ گھریلوخواتین اسی طریقے سے گھرمیں دہی تیارکرتی ہیں۔بعض خواتین بازار کے مقابلے میں گھر کے بنے ہوئے دہی کو فوقیت دیتی ہیں۔ دہی کے فائدے بہت زیادہ ہیں۔ا ب یورپ اور امریکہ میںآ ئسکریم کی دکانوں کی طرح دہی کی دکانیں بھی کھلنے لگی ہیں۔ گرمیوں اور سردیوں دونوں موسموں میں دہی کھانا فائدہ مندہے۔ دہی میں کیلشئیم لحمیات (پروٹینز) اور فاسفورس ہوتے ہیں جو صحت کیلئے مفید ہیں۔ دہی بہ آسانی ہضم ہوجاتا اور آنتوں کے نظام کو درست رکھتا ہے۔ بغیر بالائی کی ایک پیالی دہی میں 272 ملی گرام کیلشیئم ہوتا ہے، جب کہ نشاستے (کاربوہاریٹ ) کی مقدار 2گرام ہوتی ہے۔ دہی میں حراروں (کیلوریز) کی مقدار کم ہوتی ہے۔ دہی معدے میں تیزابیت نہیں ہونے دیتا۔دہی میں موجود کیلشئیم اور فاسفورس ہڈیوں اور دانتوں کومضبوط کرتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی عمر کے بچے، جودودھ پینے سے کتراتے ہیں، انھیں ایک پیالی دہی ضرور کھلانا چاہیے۔ دہی میں پایاجانے والا بیکٹیریا مفیدبیکٹیریا کہلاتا ہے‘ جو دودھ میں شامل ہوکر بڑی مقدار میں حیاتین ب (وٹامن بی) پیداکرتا ہے۔ حیاتین ب آنتوں کے نظام کو درست رکھتی ہے۔ دل کی صحت کیلئے بھی دہی مفید ہے۔

TOPPOPULARRECENT