Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / گرمی کی شدت کے ساتھ ہی آوارہ کتوں کی دہشت

گرمی کی شدت کے ساتھ ہی آوارہ کتوں کی دہشت

عوام پر خوف کا سایہ ، رات کے وقت عوام کی آمد و رفت تکلیف دہ
حیدرآباد۔19اپریل (سیاست نیوز) شہر میں گرمی کی تمازت میں اضافہ کے ساتھ ہی شہر کے کئی علاقوں میں آوارہ کتوں کی دہشت میں اضافہ ہونے لگا ہے۔بندلہ گوڑہ ‘ وٹے پلی‘ بارکس‘ چندرائن گٹہ‘ سعید آباد‘ ملک پیٹ ‘ مصری گنج‘ بہادر پورہ کے علاوہ پرانے شہر کے کئی علاقو ںمیں آوارہ کتوں کی کثرت سے رات کے وقت عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رات کے وقت راہگیروں پر کتوں کے بھونکنے سے راہگیر خوف و دہشت کا شکار ہونے لگتے ہیںجس کے سبب حادثات کے خطرات میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ گرمی کی شدت میں اضافہ کے بعد رات کے اوقات میں عوامی سرگرمیوں میں اضافہ ہونے لگا ہے لیکن آوارہ کتوں کی کثرت اور کتوں کے غول کے سبب شہر کی مصروف ترین سڑکو ںپر حادثات پیش آنے لگے ہیں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں بالخصوص آوارہ کتے پکڑنے کے شعبہ کے ذمہ داروں کا ماننا ہے کہ موسم گرما کی شدت کے اثرات کتوں پر جلد نمایاں ہوتے ہیں اور انہیں فوری پکڑا جانا ضروری ہوتا ہے۔ شعبہ ویٹرنری کے ماہرین نے بتایا کہ موسم گرما کی شدت میں اضافہ کے سبب کتوں میں پاگل پن رونما ہونے لگتا ہے اور وہ راہگیروں پر حملہ آور ہونے لگتے ہیںاسی لئے آوارہ کتوں کو فوری پکڑا جانا ضروری ہے لیکن جی ایچ ایم سی میں درکار عملہ کی عدم موجودگی کے سبب صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے لیکن ان حالات پر فوری قابو پایاجانا ضروری ہے کیونکہ گرمی کی لہر میں شدت مزید 15یوم برقرار رہنے کے امکانات ظاہرکئے جا رہے ہیں۔بندلہ گوڑہ ‘ ایراکنٹہ ‘ کاٹے دن‘ فلک نما‘ چندرائن گٹہ کی مصروف ترین سڑکوں پر آوارہ کتوں کے غول کے غول نظر آنے لگے ہیں اور ان کے سبب ان اہم سڑکوں پر حادثات رونما ہونے لگے ہیں اور ان حادثات کا شکار اکثر موٹر سیکل راں ہونے لگے ہیں۔ شہر کے بیشتر علاقوں سے موصول ہونے والے ان شکایات کے ازالہ کیلئے جی ایچ ایم سی کو فوری طور پر آوارہ کتوں کی کثرت پر قابو پانے کے اقدامات کرنے چاہئے تاکہ شہریوں کو نہ صرف حادثات سے محفوظ رکھا جا سکے بلکہ انہیں گرمی کی شدت سے پاگل پن میں مبتلاء ہونے والے کتوں کے کاٹنے سے بھی بچایاجاسکے۔ شدید دھوپ کے سبب شہری شام کے اوقات میں گھروں سے نکل رہے ہیں اور اگر شام اور رات کے اوقات میں انہیں ان مسائل کا سامنا کرنے پڑے تو ان میں احساس عدم تحفظ پیدا ہوگا جسے روکا جانا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT