Wednesday , September 20 2017
Home / مضامین / گریجویٹ چائے والا …

گریجویٹ چائے والا …

محمد مصطفی علی سروری
اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں رام منوہر لوہیا دواخانہ کے باہر کی سڑک پر ایک چائے خانہ ایسا ہے جس کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے یوں چائے پینے والے لوگ کہیں بھی چائے پیتے ہیں مگر چائے کی اس دکان کے متعلق ہندوستان ٹائمز نے لکھا ہے کہ چائے کی اس دکان کا نام ہی ایسا ہے کہ لوگ فوری اس کی جانب متوجہ ہوجاتے ہیں ۔ چائے کی دکان کا نام ہے ’’گریجویٹ چائے والا‘‘ ۔
جی ہاں  چائے کی دکان کا صرف نام ہی گریجویٹ چائے والا نہیں بلکہ جو تین بھائی اس چائے کی دکان کو چلاتے ہیں وہ سبھی گریجویشن پاس ہیں ۔ اس برس اگست کے مہینے میں  چائے کی دکان ایک الگ ہی نام سے شروع کرنے والے 25 برس کے گوند ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ میں کوئی بڑا کاروبار تو شروع نہیں کرسکتا تھا اس لئے میں  نے چائے کی دکان شروع کی جہاں پر میں کسی کے ماتحت نہیں بلکہ اپنے ہی بھائیوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہوں ۔ سال 2012 میں بڑے بھائی نے اندرا گاندھی اوپن یونیورسٹی سے کمپیوٹر میں گریجویشن کیا اور جلد ہی ایک کال سنٹر میں کام کرنے لگا لیکن کال سنٹرسے ملنے والی تنخواہ بہت کم تھی اس لئے اس نے وہ ملازمت ترک کردی  ۔ان بچوں کے والد ستیش چندرا ترپاٹھی یو پی ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں کام کرتے تھے ۔ 1996 میں ان کی نوکری چلی گئی اور ان بچوں کی ماں کو بھی کوئی ملازمت نہیں ملی ۔ اس سال جب گوند ترپاٹھی کے دو چھوٹے بھائیوں نے بھی اپنا گریجویشن ہردوائی کے ڈگری کالج سے مکمل کرلیا تو تب تینوں نے مل کر  چائے کی دکان کھولنے کا فیصلہ کیا ۔ کال سنٹر میں گوند کو ماہانہ 5 ہزار روپے تنخواہ تھی لیکن اب  چائے کی اس ’’گریجویٹ دکان‘‘ سے یہ لوگ ہر روز 350 تا 400 روپے کا منافع کمالیتے ہیں ۔
کیا ان تینوں بھائیوں نے ’’گریجویٹ چائے والا‘‘ کے نام سے  چائے کی دکان کھول کر بہت بڑا تیر مار لیا ہے ؟ اس سوال کا جواب ہاں میں ہی ہوگا ۔ کیونکہ ان گریجویٹ بھائیوں نے اپنی  چائے کی دکان کھول تو لی مگر اپنے آگے بڑھنے کے خوابوں کو بریک نہیں لگایا ۔ جی ہاں یہ تینوں بھائی باری باری سے  چائے کی دکان سنبھالتے ہیں ، ساتھ ہی اپنے آگے کے تعلیمی کیریئر کو بنانے کے لئے سنجیدگی سے کوششوں میں مصروف ہیں ۔ اخبار ہندوستان ٹائمز لکھتا ہے کہ ’’گوند نے ایک واٹر پلانٹ میں سپروائزر کی نوکری بھی سنبھال لی ہے ۔ جبکہ اسکے دونوں چھوٹے بھائی سیول سرویسز اور بینکنگ ریکروٹمنٹ کے امتحانات کی تیاری میں مصروف ہیں اور اپنی ’’گریجویٹ چائے والا‘‘کی دکان کی مزید شاخیں کھولنے کے لئے بھی منصوبہ بندی کررہے ہیں ۔

لکھنؤ کے گوند برادران کے ’’گریجویٹ چائے والا‘‘ کے نظریہ سے مجھے لگتا ہے کہ ان لوگوں کے لئے بہت ساری سیکھ ہے جو تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے اپنی قسمت کے پھوٹے ہونے کا رونا روتے ہیں ۔
ہاں یہ سچ ہے کہ مسلمانوں میں غربت زیادہ ہے لیکن جو لوگ مسلمان نہیں ہیں اور ساتھ ہی غریب بھی ہیں  ،کیا وہ دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اب یہاں پر میں ایک ایسے واقعہ کا ذکر کرنا چاہوں گا کیسے ہمارے ہاں قسمت پر رونا رونے والوں کی ایک بڑی فوج تیار ہوگئی ہے ۔
بینک ملازم محمد افسر علی نے (نام تبدیل) اپنی تین لڑکیوں اور دو لڑکوں کو اچھی تعلیم دلوائی ۔ لڑکیوں کی شادیاں کیں ایک لڑکے کو انجینئر بنایا، دوسرے کو بھی انجینئر بنانا چاہتے تھے لیکن وہ انجینئرنگ تو نہیں کرپایا لیکن کسی طرح ایم بی اے مکمل کرلیا ۔ افسر علی بینک سے ریٹائر ہوچکے ہیں۔ ان کی اہلیہ بیمار رہتی ہیں ۔ وظیفہ سے گذارہ نہیں ہوتا ۔ اب ایک خانگی کمپنی میں اکاونٹس دیکھنے کا کام کررہے ہیں ۔ ان کے دونوں لڑکے آئے دن ان سے جھگڑا کرتے ہیں کہ ایک وہی لوگ ہیں جو خراب زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ۔ ان کا ایک سے زائد مکان نہیں ۔ انکے والد نے بینک میں نوکری کرنے کے باوجود کوئی ایسی جائیداد نہیں بنائی جس سے کرایہ آتا اور آج ان کو بے روزگاری میں بھی آسانی سے زندگی گذارنے کا موقع ملتا ۔
انجینئرنگ کامیاب لڑکا کچھ عرصہ تو باہر جا کر کمانے کی کوشش کرتا رہا ۔ مگر کامیابی ہاتھ نہیں آئی اور وہ واپس آگیا ۔ کبھی شین جن ویزا کی کوشش کرتا ہے تو کبھی امریکہ جانے کے لئے کسی ایجنٹ کا پیسہ دینے کی بات کرتا ہے ۔ دوسرا لڑکا ابتداء میں سبنجیدگی سے ہائی ٹیک سٹی کے کسی کال سنٹر میں کام کرتا رہا بعد میں مسلسل نائٹ ڈیوٹی سے طبیعت خراب ہوگئی کہہ کر آج کل دوسری جاب کی تلاش میں اپنے بڑے بھائی کی طرح مصروف ہے ۔ ان دونوں بھائیوں کو ہر دوسرے دن اپنے والد سے 500 روپئے پٹرول اور دیگر خرچوں کے لئے چاہئے اور انہی پیسوں کے لئے روز کا جھگڑا ہوتا ہے ۔ ماں بیمار بستر پر اپنے بچوں کے کھانا نہ کھانے کی دھمکی پر شوہر سے سفارش کرتی ہے  ۔ اندرون ملک ان لوگوں کے لئے کام کرنا اور وہ بھی دس ہزار سے کم کی ملازمت معیوب ہے ۔
ایک ہو تو بتاؤں جدھر دیکھو ادھر کچھ نہ کچھ مسئلہ ہی ہے ۔ افسر علی کو جب ہم نے راجستھان کی دیپالی کی کہانی سنائی کہ دیپالی کی عمر 40 برس ہوچکی ہے اور وہ ایک مصنوعی پیر کے سہارے کھڑے ہو کر جئے پور کے قریب واقع ایک بازار میں پھول فروخت کرتی ہے اور اپنی گذر بسر کا سامان خود پیدا کرتی ہے تو انھوں نے کہا ارے رہنے دو بھائی یہ سب بیکار کی باتیں ہیں ۔ ہم نے ان کے آئے ہندوستان ٹائمز اخبار کا وہ صفحہ رکھا جس میں چھپی خبر میں لکھا تھا کہ دیپالی پیر سے معذور ضرور ہے مگر معذوروں کے کھیلوں میں حصہ لیتے ہوئے وہ ابھی تک 100 سے زیادہ میڈل اور ٹرافیز جیت چکی ہے ۔ وہ کہتی ہے میں معذور ہوں یہ کہہ کر کسی سے بھیک نہیں مانگنا چاہتا ہوں اور میں تو پھول بیچتی ہوں اور میرے شوہر  چائے کی دکان چلاتے ہیں ۔ اس طرح ہمارا گزارہ ہوجاتا ہے ۔ دیپالی کا شوہر  چائے کی دکان اس لئے چلاتا ہے کہ وہ بھی معذور ہے اور دوسرا کوئی کام نہیں کرسکتا ۔ دیپالی معذوروں کے کھیل کود کے مقابلوں میں پچھلے 12 برسوں سے حصہ لے کر انعامات اور نقد رقم حاصل کررہی ہے ۔
افسر صاحب نے ساری کہانی سننے اور اخباری رپورٹ پڑھنے کے بعد کہا کہ جناب پڑھنے کے لئے تو ساری کہانی اچھی لگی لیکن آپ کیا بول رہے ہیں کہ میں اپنے بچوں کو چائے کی دکان لگاؤں ۔ بولو کیسی بات کررہے ہیں ؟
واقعی مجھے کیا ہوگیا ہے میں انجینئرنگ اور ایم بی اے کرنے والے بچوں کو کیا مشورہ دے رہا ہوں ۔ کیا اخباروں میں پڑھنے کے بعد ان کو بھی چائے بیچنا شروع کرنا چاہئے ؟
واقعات اور مثالیں اس لئے بتائی جاتی ہیں کہ اس سے ہم حالات اور واقعات سمجھیں ۔ محنت اورکامیابی کے حصول کے لئے تحریک حاصل کریں نہ کہ لوگوں کی نقل کریں ۔ نقل کرنے سے کامیابی نہیں ملتی ۔ کامیابی تو محنت کے راستے سے چل کر ہی حاصل کی جاسکتی ہے ۔

محنت کرنے والوں کی مثالیں لکھنؤ اور جئے پور میں ہی نہیں بلکہ خود ہمارے شہر حیدرآباد میں بھی موجود ہیں ۔ نامپلی اجنتا گیٹ کے روبرو واقع رہبر صنعت و تجارت کی جانب سے ہر اتوار کو بیروزگار نوجوانوں کو خود روزگار کے کئی طریقے سکھائے جاتے ہیں اور urdu.yourstory.com کے مطابق اس ادارے سے ٹریننگ لیکر محمد عبدالجلیل نے آلو کے چپس بنانے کا کام شروع کیا ۔
12 ویں کامیاب عبدالجلیل آج پرانے شہر کی بیشتر دکانوں پر آلو چپس سپلائی کرتے ہیں اور گذشتہ تین برس قبل انھوں نے اپنے کاروبار کو 50 ہزار کے قرض سے شروع کیا تھا اور آج وہ اپنا ذاتی کاروبار چلارہے ہیں اور بہت جلد اپنا خود کا برانڈ وہ متعارف کرنے جارہے ہیں ۔
تعلیم سے زیادہ توجہ تربیت پر مرکوز کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔ وہ اس لئے کہ 17 دسمبر 2015 کو ایک مقامی خبررساں ادارے سے خبر ملی کہ ساؤتھ زون پولیس نے فلک نما پولیس اسٹیشن کے حدود میں ایک حقہ پارلر پر دھاوا کیا تو وہاں پر اسکول یونیفارم پہنے 15 بچے پکڑے گئے  ۔ پولیس کے حوالے سے بتایا گیا کہ اسکول جانے کے لئے گھر سے نکلنے والے یہ کم عمر اسکولی بچے گھر سے تو نکلے مگر اسکول کے بجائے حقہ پارلر پر جاپہنچے ۔ اب کیا یہ پولیس والوں کا کام ہے کہ وہ اسکول کے بچوں پر نگرانی رکھے کہ بچے اسکول جانے کے لئے گھر سے نکل رہے ہیں تو واقعی اسکول کو ہی جارہے ہیں یا راستہ میں اپنا راستہ بدل رہے ہیں ؟
پولیس کیا کیا کرے ۔ پہلے سے تو وہ لوگ راتوں میں بچوں کو چبوتروں سے پکڑ کر گھروں کو بھیج رہی تھی اب دن میں بھی ایسے بچوں پر نظر رکھنے کا کام ہم پولیس کو ہی سونپ دیں تو والدین کیا کریں گے ؟ ان کی کیا ذمہ داری ہے ۔ کچھ بھی نہیں ۔ اور کیا میں پولیس کے اس اچھے کام کی تعریف بھی نہیں کرسکتا؟ تو بتایئے والدین نے کونسا ایسا کام کیا ہے کہ ان کی تعریف کروں ؟اور مجھے تو یہ بتایا گییا کہ تعریف تو اللہ کی کرنی چاہئے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے مگر ہم رزق کی بھاگ دوڑ میں ایسے گم ہوگئے اسی ایک ذات کو چھوڑ کر ہر ایک کی تعریف کرنے پر آمادہ ہیں ۔
کیوں غیر کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہو
بندے ہو رب کے تو رب سے مانگو
[email protected]

TOPPOPULARRECENT