Saturday , August 19 2017
Home / اداریہ / گریٹر حیدرآباد اور کانگریس

گریٹر حیدرآباد اور کانگریس

اجڑا ، اجڑا رنگ چمن ہے
چاندنی بھی سورج کا کفن  ہے
گریٹر حیدرآباد اور کانگریس
انتخابات کی سیاسی تاریخ میں کامیابی و ناکامی کا سفر ہر پارٹی کو درپیش ہوتا ہے لیکن قومی پارٹی کی حیثیت سے کانگریس نے علاقائی سطح پر اپنی ساکھ کو مضبوط بنانے اور مقامی کیڈرس کی حوصلہ افزائی کرنے کیلئے سینئر قائدین کے تجربات سے استفادہ کرنے میں تساہلی سے کام لیا ہے جس کی وجہ سے حالیہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں پارٹی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ گریٹر حیدرآباد کانگریس کمیٹی صدر کی حیثیت سے دانم ناگیندرکے استعفیٰ سے مقامی سطح پر پارٹی کے اندر انتشار کی کیفیت عیاں ہوگئی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے ہیکہ تلنگانہ کانگریس بتدریج کمزوری کا شکار ہورہی ہے۔ پارٹی کے سینئر قائدین ایک بعد دیگر میدان چھوڑ رہے ہیں۔ بلدی انتخابات میں ناکامی نے انہیں مزید مایوس کردیا ہے۔ انتخابی ناکامی کے فوری بعد ڈی ناگیندر کا استعفیٰ پارٹی ہائی کمان کی توجہ کا متقاضی ہے۔ اگر دہلی میں بیٹھی کانگریس کی اعلیٰ قیادت علاقائی اور شہری سطح پر اپنی پارٹی کے اندر پائی جانے والی ناراضگیوں کو یوں ہی نظرانداز کرتی رہی تو پھر علاقائی سطح پر اس قومی پارٹی کا وجود ختم ہوجائے گا۔ جنوبی ہند کی ریاستوں سے کانگریس کا بتدریج صفایا جاری ہے۔ ٹاملناڈو میں اس کا احیاء تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ آندھراپردیش کی تقسیم کے بعد پارٹی کے حصہ میں ہر محاذ پر رسوائی ہی آئی اورپارٹی کے مقامی قائدین پر سیاسی مستقبل تاریک بن گیا۔ اس لئے جو قائدین اپنے سیاسی مستقبل کو لیکر فکرمند رہتے ہیں پارٹی کو خیرباد کرکے دوسری پارٹیوں میں شامل ہونے لگے۔ حیدرآباد ضلع میں کانگریس کو زبردست طاقت حاصل تھی اس کی مقامی قیادت کو مسلسل نظرانداز کردینے سے ریاستی سطح پر بھی اس کا بھاری نقصان ہوا۔ ڈی ناگیندر کے بعد ضلع رنگاریڈی کے ڈی سی سی صدر کیام ملیش نے بھی اپنا استعفیٰ پیش کردیا ہے۔ جی ایچ ایم سی میں ناکامی کو پارٹی قائدین نے سنجیدگی سے لیا ہے تو اس سمت میں ہر پارٹی رکن کو کام کرنے اور اپنی حکمت علی پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کانگریس کی صف سے سینئر قائدین ایک بعد دیگر دور ہورہے ہیں تو انہیں فوری پارٹی میں سرگرم کرنے کیلئے حوصلہ افزاء اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس میں کانگریس پارٹی فلور لیڈر کے جاناریڈی گذشتہ چند دنوں سے پارٹی کی سرگرمیوں سے دور دکھائی دے رہے ہیں دیگر ایسی شخصیتیں بھی ہیں جو پارٹی سے اپنی وابستگی کو ختم کرنے کیلئے غور کررہے ہیں۔ چند ارکان اسمبلی بھی ہائی کمان کے تعلق سے ناراضگی ظاہر کررہے ہیں۔ سیاسی امور کے انچارج کو ان کی شکایات کا فوری نوٹ لیتے ہوئے ناراض اور مایوس قائدین کو پارٹی کے اندر پھر سے سرگرم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ آنے والے دنوں میں اگر پارٹی ہائی کمان کی عدم دلچسپی کو محسوس کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر قائدین اپنے حامیوں کے ساتھ علحدہ راستہ اختیار کرنے لگیں تو پھر تلنگانہ میں کانگریس کا وجود ٹاملناڈو کی طرز کا رہ جائے گا اور پھر اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہوگی کہ آنے والے دنوں میں پارٹی تلنگانہ کے اندر ویرانی کا شکار ہوجائے گی۔ کانگریس پارٹی کے علاقائی معاملات کو یوں ہی ڈھیل دینے کا نتیجہ ہے کہ یہ بدترین حالات کی طرف جارہے ہیں۔ اگرچیکہ پارٹی کے بعض وفادار قائدین نے شکست اور ناکامی کو معمول کا عمل سمجھ کر پارٹی کے احیاء کیلئے خود کو سرگرم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو ان کی ہر قدم پر رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرنے کیلئے اعلیٰ کمان کو دلچسپی دکھانی ہوگی۔ سردست پارٹی کو مزید انتشار سے بچانے اور پارٹی کے سینئر قائدین اور کیڈرس کو دوسری صف میں شامل ہونے سے روکنے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ پارٹی کے ہر لیڈر کو وفاداری کے ساتھ سر جوڑ کر بھیٹھنا ہوگا کہ آخر موجودہ حالات میں پارٹی کے اندر مضبوطی کس طرح لائی جائے۔ بحیثیت اپوزیشن کانگریس کو تلنگانہ عوام کے بنیادی مسائل کی جانب توجہ دے کر ہر شہری اور دیہی فرد کی مدد کیلئے رات دن سرگرم رکھنا ہوگا۔ عوام کے درمیان پارٹی قائدین کی موجودگی سے ہی پارٹی کی ساکھ مضبوط ہوتی ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ پارٹی نے قومی و علاقائی سطح پر اپنی غلطیوں اور حماقتوں کے ذریعہ خود کا بڑا سیاسی خسارہ کرلیا ہے۔ کوئی بھی پارٹی عوام کے دم سے ہی ہوتی ہے۔ اگر عوام ناراض ہوجائیں تو پھر کسی بھی پارٹی کا وجود خطرہ میں پڑ جاتا ہے۔ لہٰذا عوامی ناراضگی کو دور کرنے کیلئے عوام کے اندر پارٹی کو پہلے سے زیادہ سرگرم کرنے کی ضرورت ہے۔ کانگریس کی خرابیوں کی زمینی حقیقت یہ ہیکہ اس نے سیکولر مزاج کے اندر فرقہ پرستی کی جڑوں کو مضبوط کیا اور اس کی مثال صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کی حالیہ منظرعام پر آنے والی کتاب سے ملتی ہے جس میں انہوں نے پارٹی کے وزرائے اعظم اور کانگریس ہائی کمان کی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT