Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات کیلئے مصروف،150 بلدی وارڈس کی برقراری کا فیصلہ

گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات کیلئے مصروف،150 بلدی وارڈس کی برقراری کا فیصلہ

حیدرآباد ۔ 19 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز): ریاستی حکومت تلنگانہ نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے مجوزہ انتخابات منعقد کرنے کے لیے مشاورت و تیاریوں کا آغاز کیا ہے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اس سلسلہ میں انتظامات کرنے میں مصروف ہے ۔ جی ایچ ایم سی کے باوثوق ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ سال 2011 کی مردم شماری ( آبادی ) کے لحاظ سے 150 بلدی وارڈز رکھنے جی ایچ ایم سی عہدیداروں نے فیصلہ کیا ہے تاہم اس سلسلہ میں عہدیداران جی ایچ ایم سی عوام کی جانب سے تجاویز ، مشورے اعتراضات ہونے کی صورت میں باقاعدہ طور پر جی ایچ ایم سی کو واقف کروانے کی خواہش کریں گے بعد ازاں عوامی رائے موافق رہنے کی صورت میں قطعی طور پر وارڈز کی فہرست مرتب کریں گے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو 200 وارڈز میں تقسیم کرنے کا حکومت نے فیصلہ کرتے ہوئے احکامات بھی جاری کئے تھے ۔ لیکن بعض فنی وجوہات کی بنا جوں کے توں 150 وارڈز کو ہی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا اور بتایا جاتا ہے کہ اس صورتحال میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن عہدیداروں نے سال 2011 کی آبادی کے تناسب سے ہی تقریبا 64 لاکھ آبادی کے تناسب سے 44 ہزار آبادی کے لحاظ سے ایک وارڈ رکھتے ہوئے جملہ 150 وارڈز کے ذریعہ ہی مسودہ اعلامیہ کو مرتب کیا ہے ۔ اسی ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ بعض مقامات پر ایک وارڈ میں صرف 12 ہزار آبادی رہنے پر دیگر چند مقامات پر وارڈز میں 70 ہزار سے زائد رائے دہندے ( آبادی ) رہنے کے باعث عجیب و غریب صورتحال پائی جاتی ہے لیکن اس مرتبہ اس طرح کی خامیوں کو دور کر کے ہر وارڈ میں مساوی آبادی ( رائے دہندوں کی تعداد ) کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے لہذا اس سلسلہ میں حکومت کی جانب سے بھی ’ گرین سگنل ‘ حاصل ہونے پر ہی مسودہ نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا عہدیداران جی ایچ ایم سی نے فیصلہ کیا ہے اور اعلامیہ کے تعلق سے عوام کو اعتراضات پیش کرنے وغیرہ کے لیے وقت دیا جائے گا اور اگر کوئی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت پڑنے پر مناسب انداز میں ترمیمات کے ذریعہ قطعی فہرست مرتب کرنے کا اظہار کیا گیا اور بتایا گیا کہ آخری وقت میں کوئی رکاوٹیں پیدا نہ ہونے کی صورت میں 19 اکٹوبر کو مسودہ نوٹیفیکیشن وارڈز کی اجرائی بہر صورت متوقع ہے اور اس کے بعد فوری طور پر انتخابی عمل کا آغاز کرتے ہوئے بی سی آبادی کا سروے کر کے بی سی ریزرویشن کی تقسیم کی جائے گی ۔ اسی ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ اب تک ہی ہمہ مقصدی خاندانی سروے کی تفصیلات حکومت کے پاس موجود رہنے کے باعث بی سی ، ایس سی ، ایس ٹی آبادی کی تفصیلات اکھٹا کرتے ہوئے ایس سی ایس ٹی بی سی وارڈز کے تحفظات کا عمل پورا کیا جائے گا اور پھر بعد ازاں خواتین کے وارڈز کو قطعیت دی جائے گی ۔ اس طرح بتایا جاتا ہے کہ یہ تمام عمل ماہ جنوری تک مکمل ہونے کا امکان پایا جاتا ہے اور اس کے بعد ہی حکومت گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات منعقد کرنے کا حکومت فیصلہ کرنے پر ہی الیکشن کمشنر کی جانب سے انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے لیے راہ ہموار ہوسکے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT