Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / گریٹر حیدرآباد میں کسی جماعت کی تائید کے بغیر ٹی آر ایس کو اکثریت یقینی

گریٹر حیدرآباد میں کسی جماعت کی تائید کے بغیر ٹی آر ایس کو اکثریت یقینی

حیدرآباد۔/19ڈسمبر، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے مجوزہ انتخابات میں ٹی آر ایس واحد بڑی پارٹی کے طور پر اُبھرے گی اور پارٹی قیادت کو یقین ہے کہ ارکان پارلیمنٹ ، اسمبلی و کونسل کے ووٹ کے ذریعہ کارپوریشن میں باآسانی اکثریت حاصل ہوجائے گی۔ پارٹی کو یقین ہے کہ آئندہ ایک ماہ میں پارٹی کے موقف کو مزید مستحکم کرلیا جائے گا۔ گریٹر انتخابات سے قبل چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے بعض قومی اداروں کے ذریعہ سروے کا اہتمام کیا جس کے ذریعہ گریٹر رائے دہندوں کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ پارٹی کے موقف کے بارے میں بیشتر سروے مثبت پائے گئے ہیں لیکن چیف منسٹر نے تمام سروے رپورٹس کو یکجا کرتے ہوئے سیاسی پنڈتوں کے ذریعہ جو نتیجہ اخذ کیا ہے اس کے مطابق موجودہ صورتحال میں ٹی آر ایس کی لہر ہے اور پارٹی 70 تا 80نشستوں کے ساتھ واحد بڑی پارٹی کے طور پر اُبھرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ چیف منسٹر کو یقین ہے کہ انہیں میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدہ پر اپنے امیدوار کو نامزد کرنے کیلئے کسی جماعت کی تائید کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ نتائج کے بعد اکثریت کیلئے درکار کارپوریٹرس کی تائید حاصل ہوجائے گی۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں ارکان پارلیمنٹ، اسمبلی اور کونسل کی تعداد کے لحاظ سے چیف منسٹر کو یقین ہے کہ پارٹی اپنی طاقت پر میئر اور ڈپٹی میئر کو منتخب کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ واضح رہے کہ میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کیلئے گریٹر سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں کو ووٹ کا حق حاصل ہے۔ گریٹر میں ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں کے علاوہ حالیہ عرصہ میں کانگریس اور تلگودیشم کے عوامی نمائندوں نے بھی ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس طرح ٹی آر ایس کو گریٹر حیدرآباد پر قبضہ کیلئے مقامی جماعت پر انحصار کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے گریٹر انتخابی مہم کی حکمت عملی کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ اجلاس میں سینئر قائدین کے ساتھ تجزیہ میں پارٹی کی کامیابی کا یقین ظاہر کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے شہر میں سرگرم  وزراء، عوامی نمائندوں اور ٹی آر ایس قائدین کو ہدایت دی ہے کہ وہ انتخابی اعلامیہ کی اجرائی تک پارٹی کے موقف کا کھل کا اظہار نہ کریں اور مقامی سیاسی جماعت کے ساتھ انتخابی مفاہمت پر کسی بھی تبصرہ سے گریز کریں۔ پارٹی کی حکمت عملی ہے کہ اگر اعلامیہ کی اجرائی کے بعد انتخابی مہم کے دوران سروے میں اگر پارٹی کا موقف مستحکم آئے گا تو مقامی جماعت سے کسی مفاہمت کے بغیر تنہا مقابلہ کو ترجیح دی جائے گی۔ چیف منسٹر کو جب پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے پارٹی قائدین اور کیڈر کے اندیشوں سے واقف کرایا گیا تو انہوں نے واضح کردیا کہ کسی بھی ایسے قائد سے ناانصافی نہیں کی جائے گی جو کامیابی کی صلاحیت رکھتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ کیڈر کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مقامی جماعت کے مضبوط حلقوں میں بھی پارٹی پوری شدت کے ساتھ مقابلہ کیلئے تیار ہے۔ پرانے شہر کے قائدین اور کارکنوں کو اس بات کا اندیشہ تھا کہ مقامی جماعت سے مفاہمت کی صورت میں ٹکٹوں کی تقسیم میں ان سے ناانصافی ہوگی۔ پارٹی کے ایک سینئر قائد نے بتایا کہ چیف منسٹر انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے بعد پارٹی حکمت عملی کو قطعیت دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر میں شروع کی گئی ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات کے سبب عوام کا رجحان ٹی آر ایس کے حق میں ہے حتیٰ کہ پرانے شہر کے علاقوں میں بھی ٹی آر ایس کی لہر دیکھی جارہی ہے۔ سابق میں ٹی آر ایس کی رکنیت سازی میں اہم رول ادا کرنے والے قائدین بھی پارٹی کے موجودہ موقف سے مطمئن ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بہت جلد اسمبلی حلقہ جات کی سطح پر جائزہ اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں وارڈز کے انچارجس کو متحرک ہوجانے کی ہدایت دی جائے گی۔ ٹی آر ایس انتخابی اعلامیہ سے قبل ہی امکانی امیدواروں کو متحرک کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ انہیں عوامی تائید کے حصول اور شدت سے انتخابی مہم چلانے کا وقت مل سکے۔ اسی دوران گریٹر حیدرآباد کے صدر ایم ہنمنت راؤ نے دعویٰ کیا کہ ٹی آر ایس بلدی انتخابات میں واضح اکثریت کے ساتھ کارپوریشن پر قبضہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 14برسوں کے دوران اپنے اپنے علاقوں میں پارٹی کو مضبوط بنانے میں اہم رول ادا کرنے والے قائدین کو ٹکٹوں کی تقسیم میں مناسب نمائندگی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی قائدین کو بھی پارٹی اقلیتی آبادی والے حلقوں میں امیدوار بنائے گی۔ تمام طبقات کے ساتھ ٹکٹوں کی تقسیم میں مکمل انصاف کیا جائے گا۔ مقامی سیاسی جماعتی کے ساتھ امکانی درپردہ مفاہمت کے بارے میں سوال پر ہنمنت راؤ نے کہا کہ درپردہ یا کھلے عام مفاہمت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

TOPPOPULARRECENT