Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / گریٹر حیدرآباد میں تلنگانہ میونسپل بلڈنگ ٹریبونل کا قیام

گریٹر حیدرآباد میں تلنگانہ میونسپل بلڈنگ ٹریبونل کا قیام

غیر مجاز تعمیرات کی روک تھام کیلئے حکومت کا اقدام، اُردو اور تلگو میں درخواست داخل کرنے کی سہولت
حیدرآباد 11 جولائی (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے گریٹر حیدرآباد کے حدود میں غیر مجاز تعمیرات کی روک تھام کے لئے ’’تلنگانہ میونسپل بلڈنگ ٹریبونل‘‘ کا قیام عمل میں لایا ہے۔ تمام متنازعہ مقدمات اِس ٹریبونل کو منتقل کئے جائیں گے۔ اُردو اور تلگو میں درخواستیں داخل کی جاسکتی ہیں۔اِس کے علاوہ کسی بھی مقدمہ کی اندرون 6 ماہ یکسوئی کے احکامات بھی جاری کئے گئے۔ ٹریبونل کے صدرنشین برسر خدمت جج ہوں گے جبکہ محکمہ بلدی نظم و نسق کے عہدیداران کو بحیثیت ارکان شامل کیا جائے گا۔ یہ ٹریبونل تعطیلات کے ماسواء تمام ایام کار میں کام کرے گا۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے کہاکہ گریٹر حیدرآباد میں غیرقانونی تعمیرات کو روکنے کے لئے حکومت نے سخت فیصلے کئے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ شہر کی ترقی، توسیع اور منصوبہ بندی کے لئے اِس طرح کے فیصلے ضروری ہیں۔ سکریٹری بلدی نظم و نسق نوین متل نے میونسپل بلڈنگ ٹریبونل کی تشکیل سے متعلق جی او جاری کیا جس میں جج کو صدرنشین نامزد کیا گیا۔ مکانات کی تعمیر سے متعلق تمام تنازعات کا ٹریبونل جائزہ لے گا۔ بعدازاں اِسے ریاست بھر میں توسیع دینے کا منصوبہ ہے۔ ٹریبونل کی کارروائی انگریزی میں چلائی جائے گی جبکہ عوام کو اُردو اور تلگو میں اپنی درخواست داخل کرنے کی سہولت رہے گی۔ درخواست کے ساتھ کسی قومیائے ہوئے بینک کا 500 روپئے کا ڈی ڈی منسلک کرنا ہوگا۔ ہر مقدمہ کی اندرون چھ ماہ یکسوئی کرلی جائے گی۔ ٹریبونل کے اوقات کار 10.30 بجے صبح سے 5 بجے شام ہوں گے۔ واضح رہے کہ نظام پیٹ، باچو پلی، پرگی نگر، منی کنڈہ اور دیگر علاقوں میں پنچایت کی منظوری سے بے شمار غیر مجاز تعمیرات کی گئی ہیں۔ اِن علاقوں میں تھوڑی بارش سے بھی پانی اپارٹمنٹ کے سیلار میں جمع ہوجاتا ہے۔ اپارٹمنٹس کی تعمیر کے معاملے میں مقررہ قواعد کو نظرانداز کردیا گیا جس کی وجہ سے راستے اتنے تنگ ہیں کہ گاڑیاں گزرنا بھی مشکل ہے۔ اتفاقی حادثات کی صورت میں فائر انجن بھی نہیں پہنچا جاسکتا۔ دو یا تین منزلہ عمارت کی منظوری حاصل کرتے ہوئے پانچ تا چھ منزلہ عمارتیں تعمیر کرلی گئیں۔ میونسپل عہدیداروں کی توجہ دہانی پر مقامی عدالتوں سے حکم التواء حاصل کرتے ہوئے تعمیرات عمل میں لائی گئی ہیں۔ اِن عمارتوں میں پارکنگ کی بھی سہولت نہیں ہے جس سے کئی مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ٹریبونل کی تشکیل کے بعد حکم التواء حاصل کرنے کے بعد ختم ہوگئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT