Tuesday , October 17 2017
Home / اضلاع کی خبریں / گستاخ رسولؐ کو عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ

گستاخ رسولؐ کو عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ

کریم نگر ۔5ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ہمارا ہندوستان مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا ہے ‘ یہ ملک جمہوری ہے جہاں ایک دوسرے کے مذہب کا احترام سبھی کی ذمہ داری ہے جہاں صدیوں سے کئی مذاہب کے ماننے والے مل جل کر رہتیہ یں ۔ سارے عالم میں ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جس کی مثال دی جاسکتی ہے لیکن ایسیملک میں ہندو مہاسبھا کے صدر کملیش تیواری نے شان رسالت مآب میں انتہائی ناشائستہ جھوٹا الزام لگایا ہے جسے کوئی مسلمان برداشت نہیں کرسکتا ۔ کملیش تیواری گندی ذہنیت رکھتا ہے اس نے شان رسول اللہ پر اپنی گندی زبان سے جو الفاظ بیان کئے ہیں اسے دہرایا نہیں جاسکتا ‘ یہ قابل مذمت حرکت ہے ۔ان خیالات کا اظہار مولانا برکت اللہ قاسمی استاذ حدیث و صدر شرعی عدالت کمیٹی نے کیا ۔ وہ یہاں پریس بھون میں پرنٹ اینڈ الکٹرانک میڈیا سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد کسی اور کا مرتبہ سوائے حضرت محمدﷺ کے کسی کا ہے ہی نہیں ۔ بدبخت کملیش تیواری نے انتہائی گندی زبان استعمال کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسے دعہ 153 کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ‘کافی نہیں ہے ۔ اس پر ایسا دفعہ لگایا جائے جس کی تعمیل میںبرسرعام پھانسی دی جاسکے ۔ اس موقع پر عیساائی چانسلر نے  نومسلم کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان سے کسی نے سوال کیا کہ آپ نے مذہب اسلام کیوں قبول کیا تو ان کا جواب تھا تھا کہ میں پیدائشی عیسائی تھا ‘ مجھے بچپن سے یہ بتایا گیا کہ محمدؐ ایک برے آدمی تھیلیکن میں نے ان کی زندگی کی تاریخ تلاش کرنے پر ایک بھی برائی نہیں ملی ‘ اسی لئے میں نے مذہب اسلام قبول کیا ہے ۔ اسلام ایک سچا فطری مذہب ہے ‘ اسی لئے آج ساری دنیا میں پھیل چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ غلط کام کرنے والے کو سزا دی جائے ۔ انہوں نے بابری مسجد شہید کئے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ملوث سبھی دہشت گرد ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بابر کے سپہ سالار نے ایک اونچے مقام پر نہ صرف مسجد تعمیر کیبلکہ فوجی چھاؤنی بھی قائم کی تھی تاکہ اونچائی سے دشمنوں پر نظر رکھی جاسکے ‘ تاریخی شواہد موجود ہیں۔ مسجد کی بنیاد تقویٰ پر رکھی جاتی ہے ۔ مسجد قبضہ کیجگہ پر نہیں بنائی جاتی ۔ اگر بنائی جائے تو وہ مسجد ہی نہیں کہلاتی ۔ اس پریس کانفرنس میں اعتماد الحق قاسمی صدر مجلس العلماء و الحفاظ حافظ محمد وسیم الدین ‘ محمد خواجہ کلیم ‘ مفتی غیاث محی الدین‘ مفتی یونس قاسمی جمیل احمد اور دیگر موجود تھے ۔

TOPPOPULARRECENT