Tuesday , September 26 2017
Home / ہندوستان / گلبرگ سوسائٹی قتل عام مقدمہ کے فیصلہ پر راگھون ناراض

گلبرگ سوسائٹی قتل عام مقدمہ کے فیصلہ پر راگھون ناراض

میں نے حقائق کو پیش کردیا ۔ سابق ایس آئی ٹی عہدیدار کا بیان
نئی دہلی 2 جون (سیاست ڈاٹ کام) سابق سی بی آئی ڈائرکٹر آر کے راگھون جنھوں نے گلبرگ سوسائٹی قتل عام کے بشمول دیگر مقدمات کی تحقیقات کرنے والی ایس آئی ٹی کی قیادت کی تھی، مقدمہ میں رہا کئے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہاکہ تمام ملزمین کو سازش کے الزامات سے بری کردیا گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اِس کے خلاف اپیل دائر کرتے ہیں یا نہیں۔ آر کے راگھون نے کہاکہ عدالت کے فیصلہ پر ایک طرح کا ملا جلا احساس پایا جاتا ہے۔ ملزمین کو جس طرح بری کیا گیا اُس پر اُنھیں افسوس ہے۔ یہ کھیل کا ایک حصہ ہے اور آپ ہمیشہ ہر بار کامیاب نہیں ہوسکتے۔ راگھون نے کہاکہ بحیثیت تحقیقاتی عہدیدار حقائق کو عدالت کے سامنے پیش کرنے میں اُنھوں نے ممکنہ کوشش کی لیکن عدالت نے اُن کی اِس کاوش کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ سابقہ ایس آئی ٹی سربراہ نے کہاکہ عدالت نے تمام ملزمین کو ماخوذ نہ کرتے ہوئے ہم پر جزوی ایقان ظاہر کیا۔ یہ ہندوستانی عدلیہ کی صورتحال کا ایک پہلو ہے۔ عدلیہ چاہتی ہے کہ تحقیقاتی عہدیدار تمام حقائق پیش کرے اور فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔ تمام ملزمین کو مجرمانہ سازش کے الزامات سے بری کئے جانے کے بارے میں اُنھوں نے کہاکہ ہم نے دفعہ 120B کو شامل کیا تھا اور چارج شیٹ میں اِسے شامل کرنے کی ایک درست وجہ بھی تھی لیکن عدالت نے اِس کے برعکس فیصلہ کیا ہے اور وہ عدالتی فیصلہ کا مطالعہ کرنے تک اِس پہلو پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے۔ اُنھوں نے کہاکہ بعض عناصر نے سازش رچی تھی اور اُنھیں یقین ہیکہ عدالت نے یہ وجوہات بھی معلومات کیں کہ سازش کیوں نہیں رچی گئی۔ عدلیہ کو ضروری نہیں کہ ہم جو کچھ کہیں اُس سے اتفاق کرے اور اگر ہم جج کے فیصلہ کو معقولیت پسند نہ سمجھیں تو ہمیں اِس کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اختیار ہے۔ خصوصی ایس آئی ٹی عدالت نے آج مابعد گودھرا گلبرگ سوسائٹی قتل عام مقدمہ میں 66ملزمین بشمول وی ایچ پی لیڈر کے منجملہ 24 کو مجرم قرار دیا ہے ۔ اِس قتل عام میں 69 افراد بشمول سابق کانگریس رکن پارلیمنٹ احسان جعفری کی موت ہوئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT