Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / گلبرگ سوسائٹی قتل عام کیس میں آج سزا کی نوعیت کا اعلان

گلبرگ سوسائٹی قتل عام کیس میں آج سزا کی نوعیت کا اعلان

سفاک ملزمین کو پھانسی دینے وکیل استغاثہ کا اصرار۔ عدالت کے قرب و جوار میں سخت سیکوریٹی
احمد آباد۔ 16 جون (سیاست ڈاٹ کام) گجرات کے گودھرا میں 27 فروری 2002 کو سابرمتی ایکسپریس کے ایک ڈبے کو جلائے جانے کے ایک دن بعد یہاں میگھاني نگر علاقے میں اقلیتی کمیونٹی کے خاندانوں کی رہائش گاہ والی گلبرگ سوسائٹی میں بھیڑ کی طرف سے زندہ جلا کر مار دیئے گئے 69 لوگ، جن میں کانگریس کے سابق ممبر پارلیمنٹ احسان جعفری بھی شامل تھے ، گلبرگ سوسائٹی قتل عام کیس میں مجرم ٹھہرائے گئے 24 لوگوں کو یہاں ایک خصوصی عدالت کل سزا سنائے گی۔اس خصوصی عدالت نے 2 جون کو فیصلہ سناتے ہوئے وشوا ہندو پریشد کے لیڈر اتل وید سمیت 24 ملزمان کو مجرم قرار دیا اور بی جے پی کے اس وقت کے کونسلر وپن پٹیل ، کانگریسی لیڈر میگھ جی چودھری اور پولیس افسر کے جی ایرڈا سمیت 36 دیگر کو بری کر دیا۔عدالت نے مجموعی 66 ملزمان میں سے ملزموں کی مقدمے کے دوران موت ہوگئی۔عدالت نے حالانکہ اس معاملے میں منصوبہ بند سازش ماننے سے انکار کرتے ہوئے تمام ملزمان کے خلاف لگائی گئی متعلقہ تعزیرات ہند کی دفعہ 120بی کو ہٹا لیا۔سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دی گئی

خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی خصوصی عدالت کے جج پی بی دیسائی نے 24 قصورواروں میں سے 11 کو قتل اور دیگر الزامات اور 13 کو فساد برپا کرنے کا مجرم ٹھہرایا ہے ۔ مجرم قرار دیئے گئے وی ایچ پی لیڈر اتل وید کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 143، 147، 148، 149، 153، 186، 188، 427، 435، 436 کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے ۔ انہیں قتل یا دیگر سنگین جرائم کا ملزم نہیں بنایا گیا ہے ۔ ایس آئی ٹی کے وکیل آر سی کوڈکر نے یواین آئی کو بتایا کہ اس معاملے میں 66 ملزم تھے جن میں سے 9گزشتہ تقریبا 14 سال سے جیل میں ہیں۔ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے آج عدالت کے احاطے کے ارد گرد حفاظت کے کڑے انتظام کئے گئے تھے ۔ سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دی گئی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے وکیل آر سی کوڈکر نے آج بتایا کہ 17جون کو عدالت جب سزا سنائے گی تو قصوروار عدالت میں موجود رہیں گے ۔ عدالت نے گزشتہ نو جون کو انہیں اس سے چھوٹ دی تھی۔واضح رہے کہ سماعت کے دوران مسٹر کوڈکر نے عدالت سے 24 میں سے 11 مجرموں جنہیں قتل کا مجرم ٹھہرایا گیا ہے کو پھانسی یا کم از کم عمر قید کی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

انہوں نے اس واقعہ کو سفاکانہ اور بے رحمانہ طریقہ سے کیا گیا قتل اور کبھی کبھار ہی ہونے والا واقعہ (ریریسٹ آف ریر) قرار دیا تھا۔مدعا علیہان کے وکلاء نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ قصورواروں کو پھانسی کی سزا نہیں دی جانی چاہئے اور انہیں سدھرنے کا موقع دیا جانا چاہئے ۔ وہ پیشہ ورانہ مجرم نہیں ہے اور انہوں نے ضمانت کی مدت کے دوران بھی کبھی ثبوت سے چھیڑ خانی کی کوشش نہیں کی۔مدعا علیہان کے وکلاء نے عدالت سے نرمی کا رخ دکھانے کی مانگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجرم ٹھہرائے گئے لوگ پیشہ ورانہ مجرم نہیں ہیں اور مذکورہ واقعہ مرحوم احسان جعفری کے اس دن اکساوے والی فائرنگ کے واقعہ کی وجہ سے ہوا۔ ان کی طرف سے کی گئی فائرنگ میں ایک شخص کی موت ہوگئی تھی اور 15 زخمی ہوئے تھے ۔ اس معاملے میں باقاعدہ ایف آئی آر بھی درج ہوئی تھی۔متاثرین کے وکیل ایس ایم وورا نے قصورواروں پر نقصانات کا اندازہ کرکے متاثرین کو معاوضہ دلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT